پاکستانتازہ ترین

قائمہ کمیٹی میلینےئم ڈویلپمنٹ گولز کاپلاننگ کمیشن کی رپورٹ پرعدم اطمینان

parlimentاسلام آباد(بیورو رپورٹ)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے میلنےئم ڈویلپمنٹ گولز نے پلاننگ کمیشن کی طرف سے پیش کردہ رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ کو از سر نو مرتب کرکے دوبارہ پیش کی جائے اور فاٹا کے ساتھ سوتیلا سلوک نہ کیا جائے،فاٹا سے متعلق رپورٹ بھی شامل کی جائے،منگل کے روز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے میلینےئم ڈویلپمنٹ گولز کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں چےئرپرسن بیگم شہناز وزیرعلی کی سربراہی میں منعقد ہوا جس میں اراکین کمیٹی ڈاکٹر عذرہ افضل پچیوہو،ڈاکٹر ظل ہما،محمد پرویز ملک،ہمایوں سیف اللہ خان،آسیہ ناصر،حمید اللہ جان آفریدی،شیخ صلاح الدین اور اس کے علاوہ پلاننگ کمیشن کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی،اجلاس میں سابقہ اجلاس کی منٹس کی منظوری،یو این ڈی پی کی طرف سے اہم ڈی جیز صوبائی رپورٹس اور اہم ڈی جیز رپورٹ کا جائزہ لیاگیا،کمیٹی کو سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈویژن نے بریفنگ دی،کمیٹی نے بریفنگ میں پرانے اعداد وشمار دینے پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈویژن مالی سال2012-13ء کے دوران6سالہ پرانے اعداد وشمار دے رہا ہے جبکہ آبادی کئی گنا بڑھ چکی ہے،کمیٹی نے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈویژن کو ہدایات کی کہ وہ ایم ڈی جیز کے حوالے سے رپورٹ کو از سر نو ترتیب دیں اور نئے اعداد وشمار پیش کریں،رکن کمیٹی حمید اللہ جان آفریدی نے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈویژن سے کہا کہ رپورٹ میں فاٹا کا نام شامل نہیں کیا گیا،کیا فاٹا پاکستان کا حصہ نہیں ہے،جس پر سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ نے کہا کہ سیکورٹی مسائل کی وجہ سے فاٹا کے اعداد وشمار کو جمع نہیں کیا جاسکا،جس پر کمیٹی نے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈویژن کو کہا کہ رپورٹ2004-05ء کی ہے اور اس وقت تو فاٹا میں سیکورٹی کے مسائل نہیں تھے،کمیٹی نے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈویژن کو ہدایت کی کہ فاٹا کی اعداد وشمار کو بھی رپورٹ میں شامل کیا جائے اور کمیٹی کو موجودہ صورتحال کے مطابق آگاہ کیا جائے،قائمہ کمیٹی نے ملک میں کم عمری کی شادی اور اس کے حوالے سے ہونے والی اموات پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ملک میں کم عمری کی شادی کو روکنے کے حوالے سے مؤثر قانون سازی کی ضرورت ہے،اراکین نے کہا کہ ملک کے تمام حصوں میں کم عمری کی شادی کے حوالے سے ایک آگاہی مہم کی ضرورت ہے تاکہ اس کے نتیجے میں ہونے والی اموات کو کم کیا جاسکے،اراکین نے تجویز دی کہ میٹرنل مورٹیلٹی کے حوالے سے صحت کے مراکز کا دائرہ کار بڑھایا جائے اور خصوصاً بلوچستان جس کی آبادی زیادہ رقبے پر ہے میں زیادہ مراکز قائم کئے جائیں،کمیٹی نے تجویز دی کہ غریب خواتین کو ڈیلیوری کیلئے مالی امداد کا کوئی نظام وضع کیا جائے تاکہ دوران زچگی زچہ وبچہ کی اموات کو کم کیا جاسکے،قائمہ کمیٹی برائے میلینیم ڈویلپمنٹ گولز نے ملیریا کی روک تھام کیلئے ملک کے مختلف علاقوں بروقت سپرے کرنے پر زور دیا،کمیٹی نے ایڈز اور ہیپاٹائٹس کی روک تھام کے حوالے سے حمام میں بال کاٹنے والے اوزاروں کو جراثیم کش ادویات میں دھوکر استعمال کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں اور اس حوالے سے حجام کو آگاہی دی جائے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker