تازہ ترینعنائزہ چوہدریکالم

پا سبانِ قلم

جب سے کا ئنات وجود میں آئی ہے تب ہی سے اس پہ بسنے والے ذی روح کو ہر دور میں کسی رہنما کی ضرورت پیش آتی رہی ہے ۔جو انھیں صحیح راہ دکھا سکے ان کی رہنما ئی کر سکے اور پید ا ہوتے بگاڑ کو روک سکے۔ تبھی توجب بھی کسی معا شرے میں بگا ڑ پیدا ہو تا ہے تو یہ رہنما و ہمدرد کسی مشعل کی صورت اپنا کردار ادا کرتاہوااندھیروں میں بھٹکے ،جہا لت کی تا ریکیو ں میں دم توڑتے انسا نوں کو بصیر تِ شعور بخشتا ہے اور کسی طبیب کی ما نند ان کے درد کا درما ں کر تا ہے۔ غور کیا جا ئے تو آج کے دور میں بھی ایسے رہنما مو جود ہیں جو معا شرے اور سسٹم میں موجود بگاڑ کو درست کرنے کے لیے ہر وقت مصروفِ جہد رہتے ہیں اور ملک و قو م کی اصلاح کے لیے اپنا نا یا ب کر دار ادا کر تے ہیں۔ میں جس رہنماو ہمدردکی با ت کر رہی ہوں اسے اگر پا سبا نِ قلم کہہ کر مخا طب کروں تو میر ے خیا ل سے غلط نہیں ہو گا۔ یہ پا سبا نِ قلم اپنے قلم کی طا قت سے قومو ں کی سوچ اور ان کے اندازِ فکر کو نئی راہ دکھاتے ہوئے ان کی اصلاح کر تا ہے۔ان کے لیے غوروفکر کے نئے و روشن در کھو لتے ہوئے بوسیدہ و زنگ آلود ذہنو ں کو آبِ علم و شعو ر سے سیر اب کر کے انھیں نکھا ر بخشتا ہے۔کہا جا تا ہے کہ جب اندھیرا ، جہا لت حد درجہ ہو جا ئے تو انسا ن اپنے رہنما کی تلا ش میں نکلتا ہے ۔پھر اس اندھیر ے سے چھٹکا رہ پا نے تک اور بو سیدۂ ونا تواں شعور کے توانا ں ہونے تلک یہ تلا ش حدِ نگا ہ تک وسیع مو جِ بے کراں کی ما نند دنیا کے اس لا محدود سمندر میں جا ری رہتی ہے۔ ہا ں اگر خیا لا ت میں پا گیزگی ، پختگی اور ارادے صا دق ہوں تو یہ تلا ش رنگِ حنا کی ما نند صفۂ قرطا س پر اُمنڈ آتی ہے اور دنیا کا یہ بے کراں سمند ر ایک کوزے میں سمٹ آتا ہے۔ لیکن اگر رہنما خود چل کر پا س آ جا ئے اور پلک جھپکنے میں ہر تا ریکی کو شعورِروشن میں بدل دے تو یہ کم ظر ف انسان کس طرح نا شکری کا مظا ہرہ کر تے ہو ئے اس سے مبّرہ ہو جا تا ہے اور یہ بھو ل جا تا ہے کہ کس طرح یہ رہنما اس کے لیے شعور کی کرنیں بکھیر تا ہے، اسے تا ریکی سے آزادی دلواتا ہے،اسے دیدہ واری بخشتا ہے اور بدلے میں اسے تسلی و تشفی کے دو بول تک نہیں ملتے ۔ حد درجہ افسو س و رنج کے سا تھ اگر پلٹ کے دیکھیں تو اس کے تما م تر بے لو ث جذ با ت کے بدلے اس کے حصے میں اپنو ں ہی کی بے ر’خی آتی ہے۔
ہما رے درمیا ن ایسے بے شما ر پا سبانِ قلم مو جو د ہیں جن سے ہما را بد نصیب معا شرہ مکمل طور پر فیض یا ب نہیں ہو تا ۔ پا سبا نِ قلم کا ذکر کر تے ہوئے بے اختیا ر ایسے بہت سے نا م ہیں جو میر ے شعو ر میں شور مچا تے ہیں۔ جنھیں وہ عزت نہیں دی گئی جس کے وہ حق دارہیں اور تھے۔
حسا س دل رکھنے والے ان پا سبانِ قلم کو وہ مقا م کیو ں نہیں دیا جا تا جس کے یہ حق دار ہیں۔ ہر غیر اخلا قی اور نا قا بلِ قبو ل issues پر قلم اٹھا نے والے، معا شرے اور آگاہی کے درمیا ن تعلق کو مضبو ط کر نے والے یہ قلم کے پاسباں کیا اس قابل نہیں ہیں کہ انھیں سراہا جا ئے؟ جبکہ اکثر سچ کا پرچارکر نے کے عوض انھیں بے شما ر مصا ئب کا سا منا کرنا پڑتا ہے۔اور بعداز انتہا ئی حا لات میں انھیں سچ کو screen پر لانے کے جرم میں جا ن سے بھی ہا تھ دھو نا پڑتے ہیں۔مگر ہر طرح کے ایثا ر کے بعد بھی انھیں وہ تحفظات فرا ہم نہیں کیے جاتے جو ان کی ضرورت ہوتے ہیں۔ حتٰی کے جن سہولیات کے وہ اہل ہو تے ہیں وہ بھی انھیں فراہم نہیں کی جاتیں۔ مگر اس سب کے با وجود بھی اگر وہ اپنا سفر جا ری رکھتے ہیں تو یقیناَ۔ وہ پھر عزت کے قابل ہیں۔ وہ اس قا بل ہیں کے ا ن کی ہر طر ح سے حو صلہ افزائی کی جا ئے۔ورنہ ایسے معاشرے جو اپنے رہنماؤں کی عزت و تکریم نہیں کرتے تا ریخ کبھی بھی انھیں سنہری حروف میں رقم نہیں کرتی ۔
معا شرے کو ایسے دیدہ واروں کے لیے برسو ں انتظا ر کر نا پڑتا ہے جو برائی کو ختم کر نے میں اہم کردار ادا کر تے ہوئے غلط نظریات رکھنے والوں کی اصلح کرتے ہیں اور انھیں حقیقت سے روشنا س کرواتے ہیں۔ یہ پا سبا ں ہر وقت معاشرے کی تراش خراش میں مصروفِ عمل رہتے ہیں تا کہ وہ ایک بہترین ہیرے کی صورت اختیا ر کر لے۔عا م لو گو ں سے ہٹ کے یہ اپنا وقت ملک و قو م کی بہتر ی کے لیے وقف کرتے ہوئے اس کے مختلف پہلو ؤں پر غور کر تے ہیں اور پھر لو گو ں کو آگا ہی کی رو شنی سے منو ر کر تے ہیں۔ ایسے لو گ یقیناَ۔ عا م نہیں ہو تے بلکہ ان کی قدرو قیمت قدر کر نے والے ہی جا ن سکتے ہیں جو عقل و شعور ر کھتے ہیں اور اس با ت سے آگاہ ہیں کہ یہ لو گ ہمارے معا شرے کے لیے کتنے اہم و ملزوم ہیں کہ ان کے بغیر کبھی بھی صحت مند معا شرے کی بنیا د نہیں رکھی جا سکتی۔ قرآنِ کر یم میں بھی اللّہ پا ک فر ما تا ہے کہ ’’علم رکھنے والے اور جاہل برابر نہیں ہو سکتے‘‘ ۔ لہذاہ اس آیت مبا ر کہ سے بھی اندا زہ ہو تا ہے کہ پا سبا نِ قلم ہما رے معا شرے کا کو ئی عا م کردار نہیں جسے(for guranted) لیا جا ئے بلکہ یہ وہ اہم کر دار ہے جو چا ہے تو پورے کے پورے سسٹم کو بدل دے ، نئے فکرو راموز اجاگر کر دے اور صا حبِ شعور، سمجھ رکھنے والو ں کی و سعتو ں کو انتہا ئی وسیع کر دے کہ اس کے اردگر د علم و شعو ر کا اجا لا ہی اجا لا پھیل جائے اور وہ مکمل طور پر اس میں نہا جائے۔ اس لیے میر ی تما م پڑھنے والو ں سے گزارش ہے کہ اس رواج کو ہمارے معا شرے کا المیہ نا بنا ئیے جہا ں قلم کے پا سبانوں کو دیدہ واری بخشنے کے باوجو د بھی زمین پر رینگنے والے کیڑے کی ما نند سمجھا جا ئے کہ جسے جب چا ہا کسی بھی رقیبِ حق نے اپنے پاؤ ں تلے روند دیا اور اسے protect کرنے والامعاشرہ تصویرِحسرت بناتماشا دیکھتا رہے۔ میر ی گزارش ہے تما م شعور رکھنے والوں سے کہ خدارا ان کی عزت کیجیے ان کی حوصلہ افزائی کیجیے۔ ان کا احترام ہم سب پر لا زم ہے ۔ کیونکہ یہی وہ لو گ ہیں جو زندگی کو اس کی تما م تر رعنائیوں کے سا تھ دوام بخشتے ہیں۔ جو اپنا سب کچھ ہار کر زندگی کے سرور کو تروتازہ رکھتے ہیں۔ جو زمانے کی سختیو ں کو اپنے شفیق وجود میں قید کر لیتے ہیں اور ہما رے لیے علم و شعور کی شمعیں روشن رکھتے ہیں۔ انہی کے بارے میں علّا مہ اقبا ل نے کہا ہے کہ
مت سہل ہمیں سمجھو پھر تا ہے فلک برسوں
تب خا ک کے پر دے سے انسا ن نکلتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  گوگل کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker