علاقائی

پشین:اغوائ ہونیوالے تین افراد کی عدم باذیابی کیخلاف پہیہ جام ہڑتال کی کال

پشین﴿بیوروچیف﴾ترین قومی موومنٹ کے زیراہتمام پشین سے اغوائ ہونیوالے تین افراد کی عدم باذیابی کیخلاف آج پشین میں مکمل شٹرڈاون جبکہ کل بروز ہفتہ کو یارو کے مقام پر کوئٹہ چمن مین شاہراہ ، ہیکلزئی چوکی ،ڈب خانزئی کراس اورسرخاب پر پہیہ جام ہڑتال کی کال دیدی گئی ترین قومی موومنٹ کے صوبائی صدر حیات اللہ ترین نے پشین میں اپنی رہائش گاہ پر ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پشین میں بدامنی، لاقانونیت اور اغوائ برائے تاوان کی وارداتیں عام ہوچکی ہے پشین میں کوئی ایک شخص بھی محفوظ نہیں پشین کے پرامن ماحول کی خرابی کے ذمہ دار قائم مقام ڈپٹی کمشنر اور نومنتخب صوبائی وزرائ ہیں پشین میں قیام امن اولین ترجیح ہے ظالموں کیخلاف جکنے والوں میں سے نہیں ہیں اغوائ کار چائیے جو بھی ہو انہیں ہر حال میں بے نقاب کیا جائیگا انہوں نے کہا کہ پشین سے مسلح افراد کے ہاتھوں اغوائ ہونیوالے تین افراد ثنائ اللہ نائب خان اور بہادر خان کی باذیابی یقینی بنانے کیلئے سنجیدہ بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں اس موقع پر ملک علاو الدین ترین زاہد خان باچا ترین گل سیمزئی ملک عطر خان ترین حاجی شوکت بٹے زئی اور دیگر بھی موجود تھے انہوں نے کہا کہ پشین میں اغوائ برائے تاوان کی وارداتیں تشویشناک حد تک پہنچ چکی ہے رات تو دور کی بات اب لوگ دن کو بھی غیر محفوظ لگنے لگے ہیں قائم مقام ڈپٹی کمشنر پشین علاقے کے قبائل کو دست و گریباں کررہے ہیں پشین کے لوگوں نے موجودہ قائم مقام ڈی سی کے اولس دشمن اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہیں انہوں نے کہا کہ ترین قومی موومنٹ کے زیر اہتمام مغویوں کی عدم باذیابی کیخلاف آج بروز جمعہ پشین میں مکمل شٹر ڈاون ہوگا جبکہ کل بروز ہفتہ کو یارو کے مقام پر کوئٹہ چمن مین شاہراہ اور ہیکلزئی چوکی پر خارجی و داخلی راستے بند کرکے پہیہ جام ہڑتال کیا جائیگا جو مغویوں کی باذیابی تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہیگا انہوں نے کہا کہ ہمیں بے بس اور کمزور نہ سمجھا جائے اپنی دفا ع کرنا اچھی طرح جانتے ہیں دریں اثنا انجمن تاجران آذاد کے صدر ملک سعد اللہ ترین اور جنرل سیکرٹری حاجی نصراللہ ساگزئی نے ترین قومی موومنٹ کی کال پر کی جانیوالی ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے ۔۔۔

یہ بھی پڑھیں  سرگودھا:ریجن میں ٹیکس کنندگان کی تعدادسولہ ہزار667سے بڑھ کر32ہزار345تک پہنچی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker