تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

پاٹامیں مثبت صحافت مگرکیسے

zafarرواں حالات میں صوبائی حکومت کے زیرانتظام علاقوں(پاٹا) میں رپورٹنگ کاطریقہ کارکیاہے ،وہاں کی ترقی میں میڈیاکیا کردار اداکرسکتا ہے ،میڈیاکاکردارکیاہوناچاہئے جس سے عوام کوسہولیات کی فراہمی میں آسانی ہواور صحت ،زراعت اور تعلیم جیسے محکموں کی کارکردگی بھی بہتر ہوسکے ،عوام کو بہتراندازمیں سہولیات کی فراہمی کانظام مزید بہترہواس حوالے سے میڈیاایشوزکواجاگرکرنے میں کیاکرداراداکرسکتا ہے ،عوام کی بہتری کے لئے بنائی جانے والی پالیسیوں میں مزید بہتری لانے کے لئے میڈیا مقامی لوگوں،حکومتی اداروں،سیاسی جماعتوں، ضلعی اور صوبائی رابطہ کارتنظیموں کومعلومات کیسے فراہم کرسکتاہے ،صحافت کوکن دشواریوں کاسامناہے،کس طرح میڈیاکے اداروں کومؤثر بنایا جا سکتاہے اور مثبت صحافت کے فروغ کے لئے کیاکچھ ہوناچاہئے ،میڈیاکی ضروریات کیاہیں،مقامی صحافیوں کی استعدادکاربڑھانے کے لئے کیااقدامات اٹھاناضروری ہیں اگراحاطہ کیاجائے تو اس وقت صوبائی حکومت کے زیرانتظام (پاٹا)کے صحافی،حسب روایت سیاسی بیانات،حادثات،روزمرہ رونماء ہونے والے واقعات اورعوامی مسائل کی رپورٹنگ پر اکتفاء کررہے ہیں جبکہ تخلیقی اورتحقیقی صحافت جوکہ بے حد ضروری کی بہت کمی ہے ۔اگرچہ میڈیااپنی کارکردگی کوتخلیقی اور تحقیقی صحافت کے ذریعے بہتر بناسکتاہے نیزلوگوں میں ان کے حقوق اور ذمہ داریوں کے بارے میں آگہی پیداکرکے ان کو ذہنی اور عملی طورپرپائیدارترقی کے لئے تیارکرسکتاہے لیکن المیہ یہ ہے کہ اس پرکوئی خاص کام نہیں ہورہاہے ۔سماجی خدمات کی اہمیت کواجاگرکرکے اور سماجی اداروں کی قابل ذکرقابل تعریف کارکردگی ان کی حوصلہ افزائی اور کمزوریوں کی اصلاح کی خاطربہترتجاویز کی فراہمی کے ذریعے بھی پائیدارترقی کی راہیں ہموارکی جاسکتی ہیں جس کے معاشرتی زندگی میں بہتر نتائج بھی برآمدہوسکتے ہیں مگربدقسمتی سے بعض دفعہ ہم بغیر دیکھے اور تحقیق کئے بری رائے قائم کرتے ہیں۔ یوں ہمارے ہاں سماجی ادارے بھی عوامی تنقید کی طرح صحافتی تنقید کی زدمیں ہوتے ہیں۔ہمارے ہاں سماجی ادارے (این جی اوز)یعنی غیرسرکاری تنظیموں اچھی نگاہ سے دیکھاجاتاہے نہ ہی عوامی حلقوں ان اداروں کاامیج بہتر بنانے کے لئے میڈیامیں کوئی خاطرخواہ کام ہورہاہے،الیکٹرانک میڈیامیں نیوز، ٹاک شوز جبکہ پرنٹ میڈیامیں آرٹیکلزاور فیچرزکے ذریعے کمیونٹی کے مسائل اجاگرکرنے،انہیں حل کرانے اور لوگوں کی معاشی اور معاشرتی زندگی میں خاطرخواہ تبدیلی لانے میں مدددی جاسکتی ہے مگرچونکہ میڈیاسے وابستہ لوگ محض بیانات،حادثات اورواقعا تی رپورٹنگ پر اکتفاء کئے ہوئے ہوتے ہیں اس لئے اہمیت کے حامل یہ ایشوزاکثر میڈیاکی توجہ حاصل کرنے سے محروم ہوتے ہیں۔ لوگوں کے مابین کسی بھی تنازعے کے حوالے سے میڈیاکوانتہائی احتیاط سے کام لیناچاہئے اور مقامی صحافی مکمل طورپر غیرجانبداری کامظاہرہ کرتے ہوئے تنازعاتی معاملوں کے تمام پہلووں کاجائزہ لے کررپورٹنگ کرے جس میں عوامی جذبات ابھارنے کی بجائے کی بجائے مسئلہ بخیروعافیت سلجھانے کاعمیق جائزہ ہو۔بلاشبہ ایسی رپورٹنگ سے علاقے میں امن وامان کی بہتر صورتحال بھی جنم لے گی۔میڈیاسے وابستہ لوگوں کوحکومت اور عوام دونوں کے ساتھ قریبی روابط رکھنے کی ضرورت ہے خصوصاََحکومت ،حکومتی اداروں اور سیاسی جماعتوں کوعوام کی بہتر مفادمیں پالیسیاں بنانے اوراقدامات اٹھانے پر مجبورکرنااورعوام کویہ آگہی دیناکہ انہیں زندگی کے کسی بھی شعبے میں سہولیات بہم پہنچاناحکومت کی ذمہ داری ہے اور اس کے لئے اپنے اپنے متعلقہ ادارے کام کررہے ہیں۔اس وقت پاٹاکے اندر میڈیاکوکئی ایک چیلنجز کاسامناہے جن میں مالی نقصان ،جانی نقصان،حکومتی یاسیاسی دباؤ،سیاسی اورحکومتی پشت پناہی کے حامل علاقے کے بااثرافرادکادباؤ، مذہبی دباؤاورشخصی خوف وغیرہ شامل ہیں۔اس میں توکوئی دورائے نہیں کہ پریس کلب صحافتی سرگرمیوں کااہم ادارہ ہوتاہے اگرہم واقعی ترقی کے حوالے سے عوام میں تبدیلی لانے کے خواہش مند ہیں توپریس کلب کے جملہ ممبران کوٹریننگ اورمیڈیاریفریشرکورسزکروانے چاہئے ۔صحافیوں میں باہمی روابط کومضبوط بنانے اور کسی بھی بیرونی دباؤکاڈٹ کر مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیداکرنے کی ضرورت ہے۔ ان کووہ تمام ریسورسزمہیاکئے جانے چاہئے جن کی صحافت کی فیلڈمیں ضرورت ہے۔ صحافیوں کے مابین جنم لینے والے اختلافات بھی ختم کرناہوں گے جبکہ پریس کلب کے دروازے بلاتفریق اور پسندوناپسند کی پالیسی کے برعکس ہرخاص وعام کے یکساں طوپر کھول دیناہوں گے نہ کہ روائتی پریکٹس کے ذریعے صحافت اور صحافیوں کاامیج خراب ہو۔پریس کلبوں کی حالت بہتر بناناچاہئے اور کڑی نگاہ رکھنی چاہئے کہ پریس کلب میں ایسی کوئی بھی سرگرمی نہ ہوجوغیراخلاقی سرگرمی کے زمرے میں آتی ہو اوربادی النظرمیں اس کے لئے پریس کلب موزوں ترین اور محفوظ ترین جگہ تصور کی جاتی ہو۔پریس کلب کودرکارکمپیوٹرز،لیپ ٹاپ، کیمرے،ملٹی میڈیااور انٹرنیٹ کی جملہ جدید سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ صحافیوں کوباقاعدہ ٹریننگزدے کر میڈیاکی کارکردگی میں مزید بہتر ی لائی جاسکتی ہے۔اس کے علاوہ سماجی مسائل کے حوالے سے تحقیقاتی صحافت کی غرض سے صحافیوں کی تربیت کی بھی اشدضرورت ہے تاکہ ان کے استعدادکارمیں مزیدبہتری آئے نیزسماجی ترقی کے حوالے سے رپورٹنگ میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے صحافیوں کوسالانہ ایوارڈزدیئے جانے چاہئے تاکہ ان میں عوامی مسائل اجاگرکرنے اور علاقائی ترقی میں فعال کرداراداکرنے کے سلسلے میں مسابقت کاجذبہ بڑھے۔

یہ بھی پڑھیں  خیبر پختونخوا کی چند خواتین ووٹرز

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker