شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / پتھرا گیا وہ جسم کے اندر پڑے پڑے

پتھرا گیا وہ جسم کے اندر پڑے پڑے

چاہ کر بھی اپنی قسمت بدلنے کا حق نہیں رکھتی تھی۔ لڑکی تھی نا ! لڑکیاں کمزور ہوتی ہیں ان کے خواب ہمیشہ توڑ دیے جاتے ہیں یہ کہہ کر کہ "تم یہ کرو گی؟ ارے تم تو لڑکی ہو”
کیا لڑکی ہونا اتنا ہی بڑا گناہ ہے؟ کیا لڑکیوں کو جینے کا حق نہیں دینا چاہیے؟ جب انسانیت لڑکیوں کو آزادی سے جینے کا حق دیتی ہے تو ہم انسان لڑکیوں سے یہ حق ثواب سمجھ کر کیوں چھین لیتے ہیں؟ مجھے آج تک یہ بات سمجھ نہ آئی کہ لڑکی کو لڑکے جتنی امپورٹنس نہ صحیح لیکن انسان بھی نہیں سمجھا جاتا۔ لڑکیوں کو تو کھلکھلا کر ہنسنے کی بھی اجازت نہیں ہوتی آخر کیوں؟ کیوں کہ بھئی وہ تو لڑکی ہے اور لڑکیاں لاؤڈ ہنسا نہیں کرتیں۔
حرین ایسی ہی لاکھوں لڑکیوں میں سے ایک تھی جن کو بچپن ہی سے یہ سکھایا جاتا ہے تم ایک لڑکی ہو اور لڑکیوں کو پر پھیلا کر آسمان میں اُڑنے کی اجازت نہیں ہوتی بلکہ اُن کے پر کُتر کر اُنکو اوندھے منہ گرنے پر یہ سکھایا جاتا ہے کہ بغیر پروں کے زندگی کیسے گزارنی ہے۔ اُن کی نہ صرف خواہشات کا گلہ گھونٹ دیا جاتا ہے بلکہ حالات کے ہاتھوں مجبور ہونے پر ان کی دماغی صلاحیتوں کو مسمار کر دیا جاتا ہے۔ حرین بھی اُن بچیوں میں سے تھی جن کو دماغی طور پر معزور کر دیا جاتا رہا ہے۔
17 سالہ حرین نے اپنی زندگی کے چند سالوں میں کیسی کیسی مشکلات کا سامنا نہ کیا ہو گا کہ آج وہ جب بھی رات کو کمرے کا دروازہ بند کرتی ہے تو ہر بار سرہانے رکھی نیند کی گولیوں کی پوری ڈبی نگل جانے کی ناکام کوشش کرتی ہے۔ اُس میں زندگی جینے کی امید نے ابھی دم نہیں توڑا لیکن اس کی ہمت نے جواب دے دیا ہے۔
حرین بچپن سے ہی ڈومیسٹک وائلنس کا شکار تھی
اسکا باپ اسکی ماں پر بے پناہ تشدد کِیا کرتا تھا اور اللّہ جانے کہ تشدد کی وجہ کیا تھی لیکن جب بھی نوکری نہ ملتی تھی تو باپ سارا غصّہ حرین کی ماں پر نکال دیا کرتا تھا اور کبھی کبھی تو اُس غصّے کی زد میں حرین بھی آ جایا کرتی تھی۔ اِس صورتِ حال نے اُسے جو پہلی سیکھ دی وہ یہ کہ مرد عورت پر فوقیت ہی نہیں رکھتا بلکہ عورت مرد کی غلام کے طور پر اپنی عزتِ نفس کی لاش کا ماتم کرنے سے بھی قاصر ہے جیسے اُسکی ماں نے کبھی ماتم نہیں کِیا تھا۔
حرین کا چھوٹا بھائی بلال ابھی نویں جماعت کا طالبِ علم تھا جس پر اُسکے باپ کی خاص شفقت اور خاصی توجہ تھی۔ وہ جیسے باپ کی لاٹھی تھا جسے حرین پہ فوقیت حاصل تھی۔ چھوٹا ہونے کے باوجود اسے ہمیشہ حرین سے زیادہ ترجیح دی جاتی اور حرین کے حق کی چیز بھی اسی دے دی جاتی۔ حالانکہ حرین اپنے بھائی سے بے حد محبت کرتی تھج لیکن اُسکے باپ کی طرف سے یہ بے جا امتیاز حرین کے دل کے ہزار ٹکڑے کر دیا کرتا تھا۔ باپ جب بھی گھر میں داخل ہوتا تو بلال کو اپنے شفقت بھرے ہاتھوں سے پیار کرتا اور حرین کی طرف تو وہ دیکھنا بھی گنوارا نہ کرتا۔ حرین نے اپنی ماں آنچل سے لپٹ کر کئی بار اپنے دکھ کا اظہار کِیا اور ماں سے باپ کے اس رویے کے بارے میں دریافت کِیا لیکن ہر بار اس نے ایک ہی جواب پایا کہ بلال لڑکا ہے نا !
حرین کو پہلے تو اسکے باپ نے دسویں پاس کرنے کے بعد پڑھنے کی اجازت نہ دی تھی لیکن اس کے اچھے مارکس اور ماموں جان کی سفارش سے اُسے پرائویٹ پڑھنے کی اجازت مل گئی تھی۔ لیکن حرین سے کسی نے یہ نہ پوچھا کہ آخر وہ کیا کرنا چاہتی ہے۔ میٹرک میں بائیو سائنس رکھنے کا اسکا فیصلہ تھا کیوں کہ وہ آگے میڈیکل فیلڈ میں جانا چاہتی تھی۔ وہ اپنی آنکھوں میں ڈاکٹر بننے کے خواب سجا چکی تھی لیکن آخر اُسکو یہ کہہ کر منع کر دیا گیا کہ وہ لڑکی ہے اور لڑکیاں اتنا پڑھا لکھا نہیں کرتیں بلکہ گھر کے سب کاموں کی مہارت حاصل کر کے وہ اپنے گھر کی کر دی جاتی ہیں اور ان کے خوابوں کی قبر سجا دی جاتی ہے۔ حرین کو بھی سِمپل ایف۔ اے کے بعد بی۔ اے کرنے کی اجازت دی گئی لیکن اسکے خواب کا کیا؟ اُسکی خواہش کو کیوں کچل دیا گیا آخر کیوں اُسکے باپ کے پاس بلال کو انجینئیر بنانے کے لیے سرمایہ تھا لیکن حرین کی پڑھائی کے لیے کوڑی بھی نہ تھی۔
یہ دکھ کا پہاڑ کیا کم تھا بے چاری بچی پر کہ وہ اپنے خواب کی تعبیر کی بجائے اپنے سینے میں اسکی قبر پر روز فاتحہ پڑھ دیا کرتی تھی کہ اُسکے باپ نے اس کی بچی کھچی ہمت توڑنے کے لیے اُس کے اعتماد پر حملہ کرتے ہوئے اُسکی شادی اُسکی مرضی کے بغیر اپنے چچا کے پوتے کے ساتھ طے کر دی تھی۔
اس فیصلے میں اُسکو نہ اسکی ماں کو بولنے کی اجازت تھی نہ ہی خاندان کا کوئی اور فرد اُسکی سفارش کرسکتا تھا۔ حرین اپنا یہ دکھ کسی سے بانٹ بھی نہیں سکتی تھی اور خود اسکا ماتم بھی نہیں کر سکتی تھی ۔
آخر کب تک حرین اور اس جیسی کئی بچیوں کو روز اپنے خوابوں کی موت پہ دھاڑے مار مار کر رات کے اندھرے میں بنا آواز کیے رونا ہو گا۔
آج کے جدید دور میں بھی ایسی جہالت کیوں ہے۔
کب تک لڑکیوں کو مجبوری کے تحت زندگی گزارنا ہو گی آخر کوئی کیوں ان سے انکی مرضی نہیں پوچھتا۔ کیوں اُنہیں پوری طرح سے جینے کا بھی حق نہیں ہے؟ آخر ان کے جسموں کے ساتھ ساتھ انکی روحوں پر، انکے ذہنوں پر تشدد کیوں کِیا جاتا ہے۔ لڑکیوں کو کھلی فضا میں سانس لینے کی اجازت کیوں نہیں ہےاور ان کو اپنی خواہشات کا قتل کرنے پہ کیوں مجبور کِیا جاتا ہے۔
یہ نام نہاد کی ہی باتیں ہیں کہ وومین رائٹس کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں اگر یہ کیے جاتے ہیں تو حرین آج خود کشی کرنے پر کیوں مجبور ہے؟
یہ وومین رائٹس تب تک کچھ کر نہیں سکتے جب تک گھروں میں بچیوں کے ساتھ یہ بے جا امتیازی سلوک روا رکھا جائے گا۔ مجھے تو ان حضرات پہ کبھی کبھی بہت ترس آتا ہے جن کو اللّہ پاک رحمت سے نوازتے ہیں لیکن وہ اُسی کو زحمت سمجھ کر اپنی آخرت کے بگاڑ کا ساماں کر لیتے ہیں۔
خدارا لڑکیوں کو جینے کا حق دیا جائے ! صرف کتابوں اور سوشل میڈیا پر ہی نہیں بلکہ اپنے گھروں میں اُنکی معصوم شخصیت کو نکھرنے سے پہلے ہی دبنے سے بچا لیا جائے !!!
یہ بھی پڑھیں  انقلاب اسلام آباد میں انتظار کرتا رہ گیا، طاہرالقادری کا جہاز لاہور میں اترگیا

What is your opinion on this news?