تازہ ترینعلاقائی

نارووال نیٹو سپلائی بحالی اپنے شہداکے خون سے غداری ہے،پیر تبسم

نارووال﴿ پریس ریلیز﴾نیٹو سپلائی بحالی اپنے شہداکے خون سے غداری ہے ۔امریکہ مسلمانوں کا دشمن ،جہاد کا مخالف اور ہر حریت تحریک کا خاتمہ چاہتا ہے ۔پاکستانی حکمران اپنے لوگوںکا بذریعہ ڈرون حملے قتل تو رکوانہ سکے البتہ اُن کے خون کی سودے بازی کر لی ۔ حکمران جان لیں قوم کے جذبات کا قتل کر کے امریکہ سے وفاداری انہیں مہنگی پڑے گی ۔ افغانستان میں ہزاروں مسلمانوں کا قتل اور پاکستانی سر زمین کو بے گناہ افراد کے خون سے رنگین کرنے والے امریکی کسی رعایت کے حقدار نہیں ۔حکمران ڈالروں سے تجوریاں بھرنے کی بجائے آخرت کی فکر کریں ۔ڈالروں کی چمک نے جذبۂ حب الوطنی اور قوم کا درد بھلا دیا ہے ۔آئندہ الیکشن میں امریکہ کے حامیوں کو قوم سے مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ پاکستان سے وفاداری میں اللہ و رسول کی رضا ہے ۔پاک سر زمین پر خون بہانے والے سُن لیں !وہ مسلمانوں کو تا قیامت ختم نہیں کر سکتے بلکہ اس خونِ با وفا سے گلستان آباد ہوں گے ۔مذہبی جماعتیں متحد ہو کر بزورِ بازو نیٹو سپلائی روک دیں ۔ان خیالات کا اظہار تحریک اویسیہ پاکستان و سربراہ اتحاد تنظیمات اہلسنت علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی نے نیٹو سپلائی کے حکومتی فیصلے پر اپنے احتجاجی بیان میں کیا ۔انہوں نے کہا پاکستان بنانے والے علمائ و مشائخ خانقاہوں سے نکل کر رسمِ شبیری ادا کریں ۔آج حجروں میں بیٹھ کر صرف تسبیح چلانے کا وقت نہیں۔ امریکہ اور اس کے حواری بصورت یزید میدان میں ہیں ۔ سید نا امام حسین کی سنت ادا کر کے ایک مرتبہ پھر کر بلا سجانے کی ضرورت ہے ۔حکمران اور سیاست دان سمجھتے ہیں کہ قوم کو ہر بحران سے دو چار کر کے شاید ذہنی مفلوج کر دیا ہے حالانکہ اُن کو معلوم ہونا چاہئے۔ دفاعِ وطن کے لئے پاکستانی قوم کبھی غافل نہیں ہوئی ۔انہوں نے کہا پاکستان میں دہشت گردی کی بڑی وجہ امریکہ کی کھلے عام مداخلت ہے ۔ڈرون حملے ہماری آزادی پر حملے ہیں ۔ہمارے حکمران خواب خرگوش کے مزے لینے چھوڑ کر تحفظ پاکستان اور دفاعِ اسلام کی پالیسیاں مرتب کریں ۔اسلام خون کا بدلہ خون چاہتا ہے ۔ہمارے فوجی سپاہیوں کو شہید کرنے والوں کو بھی ویسا ہی مزا چکھانے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے علمائ کرام پر زور دیا کہ وہ اپنے خطبات میں پاکستانیت پر مبنی سوچ و فکر کو عوام میں فروغ دیں ۔

یہ بھی پڑھیں  پاکستان کی ایک بار پھر بھارت کو مذاکرات کی پیشکش

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker