تازہ ترینحلیم عادل شیخکالم

پہلے کشمیرپھر تجارت

ایک بات توطے ہے کہ قیام پاکستان کے وقت اگر بھارت نے پاکستان کو خلوص دل سے قبول کرلیا ہوتا تو آج وقفے وقفے سے پاک بھارت کشیدگی کی نوبت پیش ہی نہ آتی،بلکہ اسی روز سے بھارت پاکستان کو ایک خود مختار ریاست کے روپ میں دیکھ کر جلنے بھننے لگا اور دن رات پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے میں مصروف ہوگیا اس پر زبردستی کشمیر پر تسلط قائم کرکے پاکستان کے ساتھ دشمنی کوازلوں کی دشمنی میں تبدیل کرلیا کشمیر کو لیکر متعدد بار پاک بھارت جنگ اورجھڑپیں تاریخ کا حصہ بنی، 1965اور71کی جنگیں ناچاہتے ہوئے بھی بھارت کی جانب سے لڑی گئی بھارت جانتا تھا کہ پاکستان بلاوجہ خون خرابے پر یقین نہیں رکھتااس کے باوجود بھارت اپنی طاقت پاکستان پر آزمانے کا خواہش مند رہا اور اس پر بھارت کو کئی بارمنہ کی کھانا پڑی، اس سلسلے میں اگر ہم حالیہ وقتوں کی بات کریں تو پاک بھارت دشمنی کا سلسلہ چلتا ہوا2021میں بھی داخل ہواگزشتہ دو برسوں میں پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھی جب مودی سرکار نے پانچ اگست 2019کو بھارت کے آئین آرٹیکل 370کو ختم کرکے مقبوضہ کشمیر کو مکمل طور پر اپنی یونین میں شامل کرلیا مگر پاکستان کی حکومت نے بھارت کے اس ظالمانہ اقدام کی ناصرف بھرپور مخالفت کی بلکہ پوری دنیا کے سامنے ان اقدامات کو مسترد بھی کیا،بھارت کے ساتھ تعلقات کا تعلق صرف پانچ اگست کے واقعہ سے منسوب نہیں ہے بلکہ دونوں ممالک میں تعلقات کی خرابی کا سلسلہ تو قیام پاکستان سے چلا ہی آرھاہے،2003سے قبل پاک بھارت کنٹرول لائن کی صورتحال خاصی کشیدہ رہی مگر دونوں ممالک میں 2003 میں لائن آف کنٹرول پر سیز فائرپر آمادگی کا معاملہ طے پاگیا تھامگر قریباً نو سال تک کچھ سکون کا ماحول میسر رہا مگر پھر اچانک 2013میں بھارت کی جانب سے پرتشدد واقعات کا سلسلہ ایک بار پھر طول پکڑچکاتھا،اس طویل چپقلش میں پانچ اگست کشمیر کی آئینی حیثیت کو ختم کرنے کا مسئلہ سب سے زیادہ کشیدگی کا باعث بنا جس میں پوری قوم سمیت پوری دنیامیں بھارت کے اس اقدام کی مذمت کی گئی اور بھارت خطے میں ایک متنازعہ حیثیت کے طور پر سامنے آیا یہ وہ وقت تھا کہ پاک بھارت ہر قسم کے ڈائیلاگ معطل ہوگئے دونوں جانب سے ایک دوسرے پر تنقید کے نشتر معمول بن چکے تھے بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر گولہ باری بھی معمول سے زیادہ ہوئی،مگر 5اگست 2019کے بعد مارچ 2021میں دونوں ممالک کے درمیان کچھ ایسے واقعات بھی ہوئے جس سے تجزیہ کاروں کی رائے بدلنا شروع ہوگئی لائن آف کنٹرول پر سیز فائر پر عملدرآمد کے لیے پاکستان اور بھارت کے ملٹری آپریشنز کے مابین ٹیلی فونک بات چیت جس پر لائن آف کنٹرول پر سیز فائر پر عملدرآمد پرگفت و شنید کی گئی جس سے لائن آف کنٹرول پر کشیدہ صورتحال پر امن ہوئی، گزشتہ دنوں وزیر اعظم عمران خان کا کرونا ٹیسٹ مثبت آنے پر بھارتی وزیراعظم نے نیک تمناؤں کا پیغام بھیجا23 مارچ کے دن یوم پاکستان کا پیغام بھی بھارتی ہم منصب کی جانب سے پاکستانی وزیراعظم کو موصول ہوا،اور اس کے علاوہ پاکستان کے وزیراعظم اور آرمی چیف کی جانب سے مارچ کے مہینے میں اسلام آباد میں نیشنل،، سیکورٹی ڈائیلاگ میں پاکستان اور بھارت کے مابین مستحکم تعلقات کے موقف کو آگے بڑھایا گیا،یہ ہی وہ مثبت اشارے تھے جس سے عوام سمیت میڈیا ہاؤسسز میں یہ پیغام پہنچا کہ دونوں ممالک میں شاید کشیدگی کم ہونے جارہی ہے،مگر اس سارے معاملے میں جو بھار ت کی جانب سے 5اگست 2019کو کشمیر کے معاملے میں حرکت کی گئی اس کا اثر ایک لمحے کے لیے ختم نہ ہوسکایہاں تک کہ پاکستان میں چینی اورکپاس کی قلت کی بناپر اسی دوطرفہ تناظر کو دیکھتے ہوئے یہ آواز بھی میڈیا میں زیر بحث رہی اور یہ الزام بھی عمران خان کی حکومت پر لگا کہ انہوں نے بھارت کے تمام گناہوں پر پردہ ڈالتے ہوئے ان کے ساتھ تجارت کرنے کا فیصلہ کرلیاہے مگرمعاملہ کچھ اس کے برعکس تھا جسے کچھ تبصرہ نگاروں اور اپوزیشن کے تاک میں بیٹھے لوگوں نے عوام میں گمراہی کے اسباب پیدا کیئے جبکہ حقیقت کچھ یہ ہے کہ معاشی اعتبار سے اس قسم کاکوئی بھی پروپوزل ہوتا ہے تواگر اس کا کوئی اقتصاد ی زاویہ ہے تو وہ کیبنٹ کی ای سی سی کمیٹی کے پاس جاتا ہے، جب وہ اکانامک کوآرڈینیشن کمیٹی کے پاس جاتا ہے تو اس کمیٹی میں فیصلے کمرشل اور اکنامک کنسنٹریشن کو سامنے رکھ کر کیے جاتے ہیں، یہ بھی ایک اقتصادی کیس تھا جو ادھر گیا اور اس کو کمرشل سطح پر دیکھا گیا کیونکہ قیمتیں ہندوستان میں تو کم ہیں وہاں سے چینی امپورٹ کی جائے تو وہ ای سی سی کی ریکومینڈیشن کیبنٹ میں چلی جاتی ہے، جبکہ کیبنٹ سیاسی فورم ہے اور اسی کیبنٹ کا آخری اختیار ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی چیز کو فائنل کریگا،وزیراعظم نے ہدایت کی کہ یہ فیصلہ فوری طور پر موخر کردیا جائے اور اس پر نظر ثانی بھی کی جائے ان کا ماننا تھا کہ بھارت کامعاملہ صرف اقتصادی معاملہ نہیں ہے بلکہ سیاسی اور اسٹرٹیجک بہت ساری چیزیں اس سے جڑ ی ہوئی ہیں،اور یہ پیغام بھی دیا کہ پاکستان ہندوستان کے ساتھ کسی قسم کی تجارت نہیں کریگا اور نہ ہی کرسکتا ہے اس وقت تک جب تک ہندوستان اپنے5اگست والے اقدام پر نظرثانی نہیں کرتا، اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے منسٹری آف کامرس کواور اپنی اقتصادی ٹیم کو یہ ہدایت جاری کی کہ فوری طور پر وہ اقدامات کریں تا کہ جتنے بھی اس سے جڑے ہوئے سیکٹر ہیں ویلیوایڈڈ، ایپیرل سیکٹر، اور شوگر ان سب کو سہولیات فراہم کی جائیں اور نئے رستے ڈھونڈے جائیں اور باقی ممالک جو ہیں ان سے امپورٹ کی جائے جو بھی ان کی ضروریات ہیں اس سے یہ بالکل واضح ہوجانا چاہیے کہ جو قیاس آرائیاں چل رہی ہیں کہ ہندوستان کے ساتھ کسی قسم کی تجارت کا معاملہ چل رہاہے یعنی پاکستان کا موقف سامنے آگیا کہ جب تک ہندوستان اپنے فیصلے پر نظر ثانی نہیں کرتا اپنے غلط اقداما ت کو کشمیر سے نہیں اٹھاتا تب تک پاکستان اور بھارت کا کوئی بھی معاملہ آگے نہیں چل سکتا، اور میں وزیراعظم کے اس فیصلے کی تائید کرتاہوں کہ پاکستان امن کا خواہاں ضرور ہے لیکن اس کے لیئے کچھ ریکوائرمنٹ ہیں جن کا پورا ہونا ضروری ہے، ای سی سی کوئی فیصلہ کرلے اور امپورٹ شروع ہوجائے ایسا نہیں ہوسکتا جب تک کابینہ اس کی منظوری نہ دے، اور بھارت سے تجار ت کے حوالے سے وزیراعظم کا دو ٹوک فیصلہ سامنے آنے کے بعدقیاس آرائیوں کی کوئی گنجائش نہیں بچتی، یہ ہی نہیں بلکہ اس کے بعد تحریک انصاف کی وفاقی کابینہ کی جانب سے بھی واضح الفاظوں میں یہ کہہ دیا گیا تھا کہ پہلے کشمیر پھر تجارت اور کہا گیا کہ بھارت جب تک کشمیر کی خصوصی حیثیت کو بحال نہیں کرتا اس وقت تک بھارت کے ساتھ کسی بھی قسم کی تجارت کی بات نہیں کی جاسکتی وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور وزیراعظم پاکستان نے بھی اپنے حالیہ خطابات میں اسی بات پر زوردیا کہ وہ کشمیر کے معاملے میں کسی بھی قسم کی لچک کا مظاہرہ نہیں کرینگے،وزیراعظم عمران خان نے واضح الفاظ میں کہا کہ کشمیریوں کو حق ارادیت ملے بغیر بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں آسکتے۔۔کیونکہ پہلے کشمیر۔۔۔پھر تجارت۔ختم شد

یہ بھی پڑھیں  نواب شاہ : لڑکا لڑکی کاروکاری کی بھینٹ چڑھ گئے

یہ بھی پڑھیے :

2 Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker