پاکستانتازہ ترین

گرجا گھر پر حملہ صرف مسیح برداری پر نہیں بلکہ پوری قوم اور انسانیت پر حملہ ہے، پرویز خٹک

perviz khatakپشاور(مانیٹرنگ سیل) خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے کہا ہے کہ پشاور میں گرجا گھر پر حملہ صرف مسیح برداری پر نہیں بلکہ پوری قوم اور انسانیت پر حملہ ہے۔معصوم اور بے گناہ لوگوں کے ساتھ ظلم اور بربریت کا جو سلوک کیا گیا ہے اُس کا بیان الفاظ میں ممکن نہیں۔ اقلیتیں ہمارے وجود کا حصہ ہیں جسے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا۔اُن کی جان و مال کا تحفظ ہماری مذہبی اور قومی ذمہ داری ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے ملک میں گزشتہ ایک دہائی سے اس طرح کے واقعات رہنما ہوتے رہے لیکن یہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے اُنہیں زندگی میں کبھی اتنا دُکھ اور غم نہیں ہوا جتنا اس واقعے سے ہوا ۔ہم اس انسانیت سوز واقعے میں ملوث عناصر کا پیچھا کرنے کے لئے ہر حد تک جائیں گے ، اُنہیں ڈھونڈ نکال کر انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا اور اس کے محرکات سامنے لا کر رہیں گے۔ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے منگل کی شام کوہاٹی گیٹ چرچ میں اتوار کے روز خود کش حملے میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں منعقدہ دعائیہ تقریب میں شرکت کے بعد مسیحی برادری سے خطاب اور بعدازاں میڈیا سے گفتگو کر تے ہوئے کیا۔اجتماعی دُعا میں رکن قومی اسمبلی عائشہ گلالئی، صوبائی وزیر علی امین گنڈا پور، وزیر اعلیٰ کے مشیر ضیاء اﷲ آفریدی، جمشید الدین کاکاخیل، رکن اسمبلی اشتیاق ارمڑ، خلیق الرحمن، پی ٹی آئی کے بیرسٹر سلیمان، کمشنر پشاور صاحبزاد ہ انیس اور ڈپٹی کمشنر ظہیر السلام بھی شریک ہوئے۔وزیر اعلیٰ نے صوبائی حکومت کی طرف سے متاثرہ خاندانوں اور مسیحی برادری سے مکمل یکجہتی کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ وہ مصیبت کی اس گھڑی میں خود کو تنہا نہ سمجھیں نہ صرف صوبائی حکومت بلکہ پوری قوم دُکھ کی اسی گھڑی میں اُن کے ساتھ کھڑی ہے اور اُن کے غم میں برابر کی شریک ہے۔اُنہوں نے کہا کہ اقلیتیں ہمارے قومی وجود کا حصہ ہیں جنہیں جدا نہیں کیا جا سکتا۔اُنہوں نے کہا کہ آپ جیسے بے ضرر، معصوم اور بے گناہ لوگوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک درندگی ہے۔ایسے واقعات میں ملوث لوگ انسان یا مسلمان کہلانے کے لائق نہیں۔اُنہوں نے کہا کہ بے گناہوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔اُنہوں نے کہا کہ بے گناہوں کی قربانیاں اس خطے میں امن کا باعث بنیں گی۔اُنہوں نے کہا کہ اس چرچ میں رقم کی جانے والی ظلم کی داستان پر مسیحی برادری سے یکجہتی او رہمدردی کے اظہار کے لئے آئے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے یقین دلایا کہ صوبائی حکومت تمام مذاہب کی عبادت گاہوں اور مذہبی مقامات کو باہمی مشاورت کے ذریعے فل پروف سکیورٹی فراہم کرے گی تاکہ آئندہ اسطرح کے دلخراش واقعات کی روک تھام ہو سکے ۔بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے اس سانحے پر انتہائی دُکھ اور افسوس کا اظہار کیا اُنہوں نے کہا کہ اس واقعے سے ملک اور بیرون ملک پاکستان کی بدنامی ہوئی ہے۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ممکن ہے کہ دہشت گردی کا یہ واقعہ مذاکر ات کے عمل میں روکاوٹ ڈالنے کی سازش ہو۔اُنہوں نے کہا کہ امن کے لئے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے وفاقی حکومت کو اختیار دیا ہے اور ہم اُن کے فیصلے کے منتظر ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم گزشتہ کئی سالوں سے جنگ لڑ رہے ہیں جس میں ہمارے فوجی افسران، جوان ، پولیس کے جوان شہید ہوئے اور ہماری مساجد ، امام بارگاہوں ، مندروں ،جرگوں ، جنازوں اور گرجا گھروں کو نشانہ بنایا گیا۔اُنہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ جنگ بھی ختم ہو اور امن بھی قائم ہو ۔اُنہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس المناک واقعے پر متاثرین کے ساتھ یکجہتی کی بجائے اُنہیں ورغلایا گیا ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم منافقت کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے۔اس موقع پر بشپ پیٹر ہنفرے اور مذہبی رہنماؤں نے سانحے میں جاں بحق افراد کی درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لئے اجتماعی دُعائیں کرائیں۔ اُنہوں نے دُعائیہ تقریب میں شرکت کرکے اُن کی حوصلہ افزائی اور اشک شوئی کرنے پر وزیر اعلیٰ اور صوبائی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ اُنہوں نے خصوصاً کمشنر پشاور ،سیکرٹری داخلہ کے کردار کی تعریف کی جنہوں نے دن رات ایک کرکے نہ صرف ہماری ضروریات پوری کیں بلکہ ہر موقع پر اپنا دست تعاون بڑھایا۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button