انور عباس انورتازہ ترینکالم

پرویز مشرف کی وطن واپسی

anwar abas logoجنرل پرویز مشرف نے وطن واپسی کا اعلان کر دیا ہے۔پروگرام کے مطابق جنرل صاحب نگران حکومت کے حلف اٹھانے کے ایک ہفتے کے اندر اندر پاکستان پہنچیں گے۔یہ ابھی واضع نہیں کہ وہ پاکستان کے کس شہر کی سرزمین پر قدم رکھیں گے۔مطلب وہ کراچی ، اسلام آباد اور زندہ دلان لاہورمیں سے کس کو شرف میزبانی عطا کریں گے۔اسکا امر کا فیصلہ کرنے کا اختیار برحال انہوں نے اپنے پاس محفوظ رکھا ہے۔یہ بھی خبریں آئی ہیں کہ جنرل پرویز مشرف الیکشن میں حصہ بھی ضرور لیں گے اور کوئی چار پانچ حلقوں سے امیدوار ہوں گے۔میرے خیال میں اگر انہوں نے الیکشن میں حصہ لیا تو وہ کراچی کے کسی محفوظ حلقے کا انتخاب کریں گے اور ایم کیو ایم کی جانب سے کراچی سے الیکشن لڑنے کی پیشکش بھی کی جائیگی۔اسکی وجہ یہ ہے کہ کراچی کے سوا انہیں کوئی محفوظ حلقہ نہیں مل سکتا۔دوسری جانب کوئی نافذ کرنے والے اداروں نے بھی انہیں پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی حراست میں لینے کی تدبیروں پر غور کرنا شروع کر دیا ہے۔کیونکہ چیف جسٹس افتخار محمد چودہری کی قیادت میں عدالتیں بیدار ہیں۔جنرل پرویز مشرف کے خلاف نواب اکبر بگتی کے قتل اور لال مسجد میں اپریشن کے حوالے سے مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور عدالتوں نے ان کی گرفتاری کے لیے باقاعدہ وارنٹ جاری کر رکھے ہیں۔میں نے پہلے بھی اپنے کسی کالم میں لکھا تھا کہ’’ جنرل پرویز مشرف نگران حکمومت کے قیام کے بعد ہی پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھیں گے’’۔اسکی وجہ یہ ہے کہ ان کے خیال میں نگرانوں کو جنرل صاحب سے کوئی سروکار نہیں ہوگا اور جنرل پرویز مشرف کے ’’حلقہ احباب ‘‘ کے لیے انہیں حراست میں لینے والوں کو ’’کنٹرول ‘‘ کرنا بہ نسبت جمہوری حکومت آسان ہوگا۔ ہاں البتہ ایک ضرور ہوگی وہ یہ کہ جنرل مشرف کی پاکستان آمد سے سیاست کے میدان میں ایک ہلچل ضرور مچے گی۔ماحول میں گتما گرمی دیکھنے کا ملے گی۔اگر اعلے عدالتوں کی مانیٹرنگ کے باعث جنرل پرویز مشرف کو پس دیوار زنداں بھیج بھی دیا جاتا ہے۔تو انہیں کیا فرق پڑے گا۔کیونکہ پردیس کی دربدر کا ٹھوکریں کھانے سے کہیں بہتر ہے کہ اپنے دیس کی جیلوں میں وی آئی پی سیٹس کے ساتھ چند روزہ اسیر برداشت کر لی جائے۔اگر ایک وزیر اعلی کے داماد کو تھانے میں وزیر اعلی جیسے سہولیات میسر آ سکتی ہیں تو جنرل پرویز مشرف توپاک فوج کے سابق کمانڈر انچیف تھے۔دوسرا پاکستان کی تاریخ بتا تی ہے کہ جنرل تو دور کی بات ہے ۔آج تک ہماری سول اور منتخب جمہوری حکومتیں کسی ریٹائرڈ میجر اور کرنل کو چھونے کی جرآت نہیں کر سکیں۔میری اس بات کے ثبوتکے طور پر آئی ایس آئی کے سابق چیف اور آئی جے آئی کے خالق محترم جنرل ریٹائرڈ حمید گل کے وہ بیانات ہیں جو وہ مختلف اوقات میں دیتے رہے ہیں۔کہ ’’کسی ماں کے لال میں ہمت اور جرات ہے تو وہ مجھے ہاتھ لگائے کر دکھائے۔گرفتاری تو دور کی بات ہے’’ بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کی عدم گرفتاری کا رونا رونے والے سیاست دان جنرل محمد ضیاء الحق کے حادثے کے ذمہ داروں کو کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر کیوں خاموش رہتے ہیں ۔خیر میں بات جنرل پرویز مشرف کی پاکستان آمد کی کر رہا تھا۔جنرل پرویز مشرف کی وطن واپسی اس لیے بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے ۔کہ جنرل مشرف کے پاکستانی سرزمین پر قدم رکھتے ہی نگران حکومت اورسپریم کورٹ کی آزمائش کا آغاز ہو جائیگا۔ جنرل پرویز مشرف کو نواب اکبر بگتی ،بے نظیر بھٹو کو قتل کروانے اور لال مسجد میں آپریشن کرنے کے سنگین نوعیت کے الزامات میں قائم مقدمات میں میں گرفتاری اور عدالتوں میں سماعت جیسے تکلیف دہ مراحل کا سامنا کرنا ہوگا۔اس کے ساتھ ساتھ آنے والے دن آزاد عدلیہ کے لیے بھی بڑے اہم ہوں گے۔کیونکہ موجودہ اتحادی حکومت پر جنرل پرویز مشرف کی بیرون ملک روانگی کے حوالے سے شدید تنقید کی جاتی رہی ہے۔نگران حکومت کی آزمائش ہوگی کہ وہ جنرل پرویز مشرف کو وطن واپسی پر پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی گرفتار کرتی ہے یا انہیں عدالت پیش ہوکر ضمانت کروانے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔اگر نگران حکومت ایسا ہی اقدام کرتی ہے تو سپریم کورٹ اس پر کیا ردعمل ظاہر کرتی ہے؟پانچ سال موجود حکومت تو سپریم کورٹ کے روبرو پیشیاں بھگتتی رہی ہے۔اب جنرل پرویز مشرف اور سپریم کورٹ براہ راست آمنے سامنے ہوں گے۔ نواز شریف اور عمران خان کا کردار بھی قابل غور ہوگا۔آیا یہ دونوں حضرات کیا طرز عمل اختیار کرتے ہیں۔جنرل پرویز مشرف کی وطن واپسی پر ہماری عسکری قیادت کا کردار بھی اہمیت کا حامل ہوگا۔کہ جنرل پرویز مشرف کی گرفتاری اور عدم گرفتاری پر اسکا ردعمل کیا ہوگا ۔ملکی سلامتی کے ضامن سکیورٹی کے اداروں کو اپنی غیر جانبداری برقرار رکھنا ہوگی۔اگر ایسا نہ ہوا تو حالا کیا رخ اختیار کریں گے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ وطن واپسی پر جنرل پرویز مشرف کے لیے آنے والے دن پھولوں کی سیج کی بجائے کانٹوں کا بستر ثابت ہوں گے۔اور انہیں اپنے قیمتی لمحات میں سے کچھ تو پس دیوار زنداں گذارنے ہوں گے۔ اور جیسے تیسے ہی سہی عدالتوں میں اپنی بے گناہی ثابت کرنا ہوگی۔ یہ سب کچھ ان کے لیے اتنا آسان نہیں ہوگا جس قدر جنرل صاحب خیال کر رہے ہیں۔اس سب کے باوجود ایک حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ جنرل پرویز مشرف کی وطن واپسی سے پاکستان کی سیاست کے گرما گرم موسم میں کی حدت میں ضرور اضافہ ہو جائیگا۔ یہاں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ کیا ہماری جمہوریت جنرل پرویز مشرف کی گرفتاری کی متحمل ہو سکے گی یا نہیںnote

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button