علاقائی

پشاور:ڈائریکٹر ماہی پروری پشاور میں محکمہ کی کارکردگی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ

پشاور﴿بیورو رپورٹ﴾ خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ماہی پروری، امور حیوانات اور امداد باہمی حاجی ہدایت اللہ خان نے متعلقہ حکام سے کہا ہے کہ محکمہ ماہی پروری کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے ساتھ نجی ہچریوں کے فروغ کیلئے اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں تاکہ صوبے سے غربت اور بے روزگار ی کا خاتمہ، عوام کی معاشی اور معاشرتی حالات بھی درست ہو سکے۔یہ بات انہوں نے ہفتے کے روز ڈائریکٹر ماہی پروری کے دفتر پشاور میں محکمہ کی کارکردگی کے بارے میں ایک تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔اجلاس میں محکمہ ماہی پروری کے تمام ضلعی افسروں کے علاوہ متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔اس موقع پر ڈائریکٹر ماہی پروری محمد دیار خان نے محکمے کی کارکردگی کے بارے میں صوبائی وزیر کو بتایا کہ آبی وسائل میں مچھلی کی افزائش ایک قدیم فن ہے جس کا بنیادی مقصد اعلیٰ درجے کی لمحیاتی ﴿پروٹین﴾ خوراک کی فراہمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمے نے فارمنگ کی صنعت کو ترقی دینے کیلئے مختلف عملی اقدامات اٹھائے ہیں جن میں نجی و سرکاری سطح پر فش فارمنگ کی رہنمائی کرنا،صوبے کی آبی وسائل کی صحیح نگہداشت ،صوبے کی بنجر،بیکار اور سیم زدہ اراضی کوقابل کاشت بنانا اورگوشت کی بڑھتی ہوئی ضروریات کوپورا کرنا شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کے ٹھنڈ اور سردتالابوں میں برائون ٹرائوٹ، ریمبو ٹرائوٹ اور کمیلوپ ٹرائوٹ قسم کے مچھلیاں پائی جاتی ہیں ان میں مچھلیوں کی بقائ اور افزائش نسل کے لئے سرکاری طور پر صوبے کے مختلف اضلاع میں آٹھ ٹرائوٹ فش ہچریز قائم کی گئی ہیں جہاں سردتالابوں کی مچھلیوں کی مصنوعی تولید اورانڈہ کشی کی جاتی ہے ۔ان مراکز سے مجموعی طور پر سالانہ 18 لاکھ مچھلی بچے پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر ان مچھلیوں کو دریائوں، ندیوںمیں مزید افزائش نسل اور بڑھوتی کیلئے چھوڑا جاتا ہے اور ساتھ ساتھ نجی شعبے میں قائم مچھلی فارموں کو سرکاری نرخ پر مہیا کئے جاتے ہیں تاکہ نجی شعبے میں قائم فارمز مزید ترقی کر سکے۔ صوبائی وزیرنے محکمہ کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ ماہی پروری کے افسروں کو ہدایت کی کہ وہ محکمے کی نیک نامی اور ایک مثالی محکمہ بنانے کیلئے شبانہ روز کوششیں کریں۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا واحد صوبہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے بے مثال قدرتی و سائل سے مالا مال کیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان قدرتی وسائل کو صحیح طریقے سے استعمال میں لایا جا سکے۔ وزیر موصوف نے مزید کہا کہ صوبے کے آبی وسائل جو مچھلی پالنے کیلئے نہایت موزوں ہیں اور بہت کم وسائل سے ماہی پروری کو سود مند صنعت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماہی پروری کو جدید سائنسی و تیکنیکی خطوط پر استوار کرنے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر عملی اقدامات اٹھائیں گے۔صوبائی وزیر نے محکمے کے افسروں اور اہلکاروں کو یقین دلایا کہ محکمے میں عملے کی کمی کو پورا کرنے اور ان کو درپیش تمام مسائل ومشکلات حل کرنے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے خبر دار کیا کہ سرکاری کام میں سستی اور لاپرواہی کے مرتکب سرکاری عملے کو ہر گز برداشت نہیں کیا جائیگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپنی کارکردگی نہایت ایمانداری اور خلوص نیت کے جذبے سے سرشار ہوکر ادا کریں۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker