تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

پشاورمیں منعقدہ کل جماعتی کانفرنس کامطالبہ

zafar ali shahاگرچہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں تو تحریک انصاف اور عوامی تحریک سے وفاقی دارالحکومت اسلام آبادکے ریڈزون میں جاری دھرنوں کے خاتمے کا مطالبہ کیاجاتارہاہے جس کا مذکورہ دونوں جماعتوں پر کوئی اثرہواہے نہ ہی ہوتانظر آرہاہے اور باوجوداس کے کہ حکومتی مذاکراتی ٹیم اور اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل جرگہ کے تحریک انصاف اورعوامی تحریک کے ساتھ مذاکرات بھی چل رہے ہیں دونوں جماعتیں انتخابی اصلاحات اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے نامزد ملزمان کے خلاف کارروائی اور دیگرمطالبات سمیت وزیراعظم کے استعفے کے مطالبے پر بدستورقائم ہیں۔لیکن دھرنے ختم کئے جائیں اور احتجاج کرنے والے وزیراعظم کے استعفے پراصرار نہ کریں یہ مطالبہ اب پشاور سے بھی کیاجانے لگاہے۔چھ ستمبرکوپشاور میں جمعیت علماء اسلام (ف) کی جانب سے پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں بلائی گئی کل جماعتی کانفرنس جس میں بتایاجاتاہے کہ تحریک انصاف کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں جن میں میزباں جمعیت علماء اسلام ، جماعت اسلامی،عوامی نیشنل پارٹی ،قومی وطن پارٹی،مسلم لیگ نون،پیپلزپارٹی اورپختونخواملی عوامی پارٹی سمیت کئی دیگرکے عہدیداروں نے شرکت کی اورپارٹی رہنماؤں نے موجودہ سیاسی صورتحال کے حوالے سے اپنی تجاویزپیش کیں۔بعد میں ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیاگیاجبکہ جمعیت علماء اسلام کے صوبائی رہنماء سابق سینیٹر مولاناگل نصیب خان نے میڈیاکوبتایاکہ کل جماعتی کانفرنس میں عام انتخابات میں دھاندلی پر تمام سیاسی جماعتوں کامؤقف ایک ہی تھاتاہم اس کے خلاف احتجاج کرنے کاتحریک انصاف کاطریقہ کارجمہوری نہیں ہے۔ اس احتجاج سے ملک شدید سیاسی بحران کاشکاراورتمام ادارے مفلوج ہوکررہ گئے جبکہ ملک بھرمیں افراتفری اورغیریقینی صورتحال پیداہوگئی ہے۔کل جماعتی کانفرنس میں یہ بھی پرزور مطالبہ کیاگیاکہ 73ء کے آئین کا تحفظ یقینی بنایاجائے اور احتجاج کرنے والے وزیراعظم کے استعفے پر اصرارنہ کرتے ہوئے اپنا غیرجمہوری احتجاج فوری طورپر ختم کریں تاکہ پارلیمنٹ سمیت تمام ادارے اپناکام کرسکیں۔کل جماعتی کانفرنس کے بعدمیڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ اور عوامی نیشنل پارٹی کے نومنتخب صوبائی صدرامیرحیدرخان ہوتی کاکہناتھاکہ تین ہفتوں سے خیبرپختونخواکے وزیراعلیٰ پرویزخٹک اور اس کی کابینہ کے اراکین اسلام آباد میں دھرنے میں شریک ہیں جس سے صوبائی سطح پر سرکاری کام بری طرح متاثرہورہاہے۔مولاناگل نصیب خان بلاشبہ ایک متحرک ،زیرک اور ہمہ وقت سیاسی امورمیں مصروف عمل جانے جاتے سیاستدان ہیں ماضی میں جب وہ پارٹی کے صوبائی امیرتھے تو انہوں نے علمائے ہند (علمائے دیوبند) کانفرنس کا انعقادکیا تھاجوکہ ایک بڑی اورمنفرد کانفرنس تھی جبکہ 2002کے عام انتخابات سے قبل تمام مذہبی جماعتوں کو متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم پر جمع کرنے اورانتخابات کے بعد خیبرپختونخوامیں ایم ایم اے کی حکومت کی تشکیل میں بھی ان کا کلیدی کردارتھا۔ ان کی قیادت میں ان کی جماعت کی جانب سے بلائی جانے والی اس کل جماعتی کانفرنس کااسلام آبادمیں دھرنے دیئے جماعتوں تحریک انصاف اور عوامی تحریک پر کوئی اثرہویانہ ہولیکن اس کل جماعتی کانفرنس کی اہمیت کوکسی صورت نظراندازنہیں کیاجاسکتاجس کے انعقاد سے عوامی اور سیاسی سطح پر ایک واضح پیغام سامنے آیاہے کہ موجودہ سیاسی بحران میں تمام سیاسی قوتیں متحدومتفق اور حکومت کے ساتھ کھڑی ہیں۔ اگرچہ سیاسی جماعتوں کاکہنایہ بھی ہے کہ وہ حکومت کے حامی ہیں نہ وہ حکومت بچانے کے لئے یہ سب کچھ کررہی ہے بلکہ وہ یہ سب کچھ جمہوریت کے فروغ وتسلسل،آئین وقانون کے تحفظ اور سیاسی استحکام کی خاطرکرنے پر مجبورہیں ورنہ دھاندلی کی شکایات انہیں بھی ہیں اور نون لیگ کے ساتھ سیاسی اختلافات بھی۔دوسری جانب دیکھاجائے تو احتجاج کے طریقہ کارکوغلط، غیرجمہوری اور وزیراعظم کے استعفے کو غیرآئینی کہنے والی سیاسی قوتیں انتخابی دھاندلی کے الزامات کودرست اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے واقعہ کوغلط بھی قرار دیتی ہیں اور سانحہ ماڈل ٹاؤن واقعہ کے ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی ہوجائز قراردے رہی ہیں اس مطالبے کوبھی ۔ لیکن دوبارہ سوال وہی جنم لیتاہے کہ اٹھارہ سال تک سیاسی جدوجہد کرنے والے عمران خان اگرواقعی غیرجمہوری انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں جیساکہ حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کاکہناہے توکیاکپتان سیاسی طورپر تنہاہوچکے ہیں اور اگروہ سیاسی تنہائی کے شکارہوچکے ہیں جیساکہ بڑی حد تک نظرآرہاہے تو کیا اس صورت میں وہ کامیاب ہوپائیں گے اپنے اہداف تک رسائی میں۔وزیراعظم نوازشریف اور مسلم لیگ نون تو عمران خان کے نشانے پر ہیں ہی تاہم جائزہ لیاجائے توکپتان نے کسی کونہیں چھوڑا۔چاہے اپوزیشن لیڈرسیدخورشیدشاہ ہویاپیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری،پختونخواملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمودخان اچکزئی ہویاجے یوآئی کے سربراہ مولانافضل الرحمٰن ،وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالمالک بلوچ ہویاوفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان یاپھرقومی وطن پارٹی کی قیادت انہوں نے کسی بھی سیاسی لیڈرکوموردالزام ٹہرانے سے دریغ نہیں کیا۔کہتے ہیں جنگ میں محاذ جتنے کم ہوکامیابی کے چانسز اتنے ہی زیادہ ہوتے ہیں جبکہ سیاسی امورکے ماہرین کے تجزیئے اور تبصرے یہ ہیں کہ آئینی تبدیلی لانے کے لئے عمران خان کوم

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button