تازہ ترینکالم

پینٹا گان کی رپورٹ اور چند زمینی حقائق

qasim ali logoامریکی دفاعی ادارے پینٹاگان کی جانب سے جاری ہونیوالی ایک رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ ”اگر امریکہ کو دنیا میں اپنا وجود قائم رکھنا ہے تو اسے تو اسے پوری دنیا کو اپنے زیرنگیں کرنا ہوگااگر امریکہ واحد سپر پاور نہ رہاتو ہم سب کی حیثیت چلتی پھرتی لاشوں جیسی ہوگی ،مستقبل میں روس امریکہ کیلئے سب سے بڑا خطرہ ثابت ہوسکتا ہے روس اور چین اگرچہ امریکہ پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے لیکن اس طرح کی تبدیلی کی خواہشمند ریاستیں مستقبل میں امریکہ کیلئے خطرہ ثابت ہوسکتی ہیں امریکہ کسی بھی ایسی ریاست کو افورڈ نہیں کرسکتا جو اپنی پالیسیاں بنانے میں خود مختار اور آزاد ہو اور ایسی مملکتوں میں اس وقت روس،چین،شمالی کوریا اور ایران نمایاں ہیں اس لئے ضروری ہے کہ امریکہ ایسے عالمی ممالک کو جنگوں میں الجھائے اور ان کو فتح کرے جیسا کہ کرغیزستان ،بولیویا وینزویلااورآرمینیاسمیت گیارہ ممالک کی حکومتوں کا تختہ الٹنے کامشن جاری بھی ہے مگر ہمیں اس دائرہ کار کو مزید بڑھانا ہوگا”
امریکی دفاعی ادارے کی یہ رپورٹ بظاہر پاگل امریکی سانڈھ کی طاقت کو ظاہر کررہی ہے کہ اس میں ابھی اتنا دم خم ہے کہ وہ دنیا میں اپنی واحد سپرپاور ہونے کا دعویٰ کرسکتا ہے اور اس راہ میں آنیوالی تمام رکاوٹوں کو دورکرسکتا ہے مگر جب ہم زمینی حقائق کو دیکھتے ہیں تو یہ رپورٹ امریکہ کے ڈوبتے سورج کی آخری کرن یا ”بے شرمی ٹالنے ”کی ایک کوشش معلوم ہوتی ہے کیوں کہ امریکہ اپنے جنگی عزائم کی جتنی قیمت برداشت کرچکا ہے اور اس کو جن نقصانات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اس کے بعد ایسی رپورٹ محض ایک بڑھک سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی ۔
ویسے تو امریکی کہ پوری تاریخ ہی دوسری اقوام کیساتھ جنگوں اور سازشوں میں گزری ہے اور کروڑوں انسان اس کی بھینٹ چڑھے مگر ہم زیادہ دور نہیں جاتے اگر ہم گزشتہ چار دہائیوں کا ہی تذکرہ کریں تو اس دوران ویتنام،صومالیہ،ہیٹی ،بوسنیا،عراق اور افغانستان میں جہاں بھی اس نے حملہ کیاوہ اس ملک کو مکمل طور پر تسخیر نہیں کرسکا اور اسے منہ کی کھانی پڑی ۔خصوصاََ افغانستان اور عراق کی جنگوں نے تو امریکہ کو ہلا کے رکھ دیا ہے یہ دونوں محاذجنگ امریکہ کے گلے کی ہڈی بن گئے ہیں آپ صرف افغانستان کو ہی لے لیں جہاں امریکہ نے کروڑوں ٹن بارود پھینکا ،پانچ کھرب ڈالر پھونکے مگروہاں پر امریکی فوج کو جن انتہائی خطرناک حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے ایسا ان کیساتھ کبھی خواب و خیال میں بھی نہ ہوا ہوگا جس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اس وقت ہرپانچ میں سے ایک فوجی ذہنی تناؤکا شکار ہے اور یہ شدت اس قدر زیادہ ہے 2001ء سے اب تک تین ہزار سے زائد امریکی فوجی خود کشیاں کر کے اپنی زندگی کا خاتمہ کرچکے ہیں جبکہ اس دوران جنگ میں مرنیوالے فوجیوں کی تعداد دوہزار ہے اس گھمبیر مسئلے سے نمٹنے کیلئے امریکہ نے نو ہزار ماہرینِ نفسیات کی خدمات حاصل کررکھی ہیں لیکن ان تمام تر کوششوں کے باوجود خود کشیوں کے اس خطرناک رجحان میں پانچ فیصد اضافہ ہوگیا ہے جس سے بخوبی یہ پتاچلایا جاسکتا ہے کہ امریکہ کسی نئے محاذ جنگ کیلئے قطعاََ تیار نہیں ہے کیوں کہ گزشتہ ایک عشرے میں عراق و افغانستان میں ڈیڑھ لاکھ بے گناہ انسانوں کا قاتل امریکہ اپنی فوج کے ضمیرکو قتل نہیں کرسکا اور وہ اسی ضمیر کی آواز پر ہی مزید ظلم کرنے کی بجائے خود کو ماردینا زیادہ آسان سمجھتے ہیں۔
دوسری جانب ان جنگوں پر اٹھنے والے تباہ کن اخراجات کا اثر براہ راست عوام پر بھی پڑا ہے امریکی ریاستی قرضے میں روزانہ تقریباََ تین ارب ڈالر کا اضافہ ہورہاہے جس کو پورا کرنے کیلئے امریکہ کو ماہا نہ 85ارب ڈالر کے نوٹ چھاپنا پڑرہے ہیں ،عام امریکی کی آمدنی میں چار فیصد کمی واقع ہوچکی ہے ،ہردوسرا امریکی پنشن سے محروم ہوچکا ہے ،ہرماہ چھ لاکھ امریکی بیروزگار ہوکر امریکی جنگی پالیسیوں پر لعن طعن کررہے ہیں اس لئے ایک ایسے وقت میں جب عوام پہلے ہی امریکہ کی جنگجو پالیسیوں کا بھاری خمیازہ بھگت رہے ہیں ایسے میں کیسے ممکن ہے کہ امریکی کوئی نیامحاذ جنگ کھولے اس طرح ہم پینٹاگان کی اس رپورٹ کو ڈوبتے سورج کی آخری کرن نہ کہیں تو اور کیا کہیں ؟۔
اب ہم پینٹاگان کی رپورٹ کو ایک اور زاویے سے دیکھتے ہیں اور وہ یہ کہ مسلم دنیا بیشک کمزور سہی اور اس کی بنائی ہوئی او آئی سی اور عرب لیگ بھی صیہونی لونڈیوں کا کردار اداکررہی ہیں مگر اس شر کے اندر سے خیر کے پیدا ہونے کی امیدوں کو بھی نظرانداز نہیں کیاجاسکتا بہت حد تک ممکن ہے کہ مستقبل قریب میں سعودی عرب،ترکی ،پاکستان اور افغانستان ایسے ممالک نظر آرہے ہیں جو کہ آزادانہ پالیسیوں کی جانب گامزن نظر آتے ہیں جس کی تفصیل پھر کسی کالم میں بیان کی جائے گی بہرحال یہ حقیقت ہے کہ یہ ممالک مل کر ایک نیا اسلامی بلاک تشکیل دے دیں اور اگر ان میں چین اور روس بھی شامل ہوگئے تو یہ بلاک مل کر امریکی غروراور اس کے مکروہ عزائم کو خاک میں ملا سکتا ہے اور یہ بات امریکی تھنک ٹینکس کو بخوبی نظر آرہی ہے اور ان ممالک کو اپنے مستقبل کے ارادوں سے باز رکھنے کی ایک کوشش بھی ہوسکتی ہے مگر جو بھی ہو یہ بات تو اب روزروشن کی طرح واضح ہوچکی ہے کہ امریکی سامراج کا بت اب پاش پاش ہونے کو ہے اب امریکہ محض گیدڑ بھبکیوں کی بنا پر ممالک کوڈرانہیں سکتا اور نہ ہی اس میں اب وہ طاقت ہی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں  خوشخبری، بجلی تین روپے ساٹھ پیسے سستی ہو گئی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker