تازہ ترینفیصل اظفر علویکالم

پٹرولیم بحران /رسہ کشی!

fasial alviوفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں اس وقت پٹرول کے شدید بحران کی وجہ سے سیاسی ماحول خاصا گرم دکھائی دے رہا ہے، ذرائع کے مطابق وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان میاں محمد نواز شریف کی اچانک پٹرول بحران پر راتوں کی نیندیں حرام ہو گئی ہیں، پٹرول کے حالیہ بحران کی ابتداء سے ہی حکومتی اعلیٰ عہدیدار اپنی نا اہلیوں کو ایک دوسرے پر ڈالنے کی کوشش میں مصروف عمل نظر آ رہے ہیں حالانکہ اگر وہ یہی کوششیں بحرانوں کے حل کیلئے کریں تو ملک کو ایسے حالات سے دوچار ہی نہ ہونا پڑے، سیاسی سمجھ بوجھ رکھنے والے لوگوں اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ پٹرول بحران کی معقول وجہ سمجھ میں نہیں آ رہی اور وہ بھی ایسے حالات میں جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمت ریکارڈ سطح پر گری ہوئی ہے، کچھ اندرونی ذرائع کے مطابق ایک اندرونی کہانی اس وقت تمام سیاسی حلقوں میں گردش کر رہی ہے اور وہ یہ کہ بیوکریسی اور مسلم لیگ ن کی حکومت کے وزراء، مشیران، وزرائے مملکت میں ’’کچھ‘‘ نا گزری وجوہات کی بناء پر ان بن چل رہی ہے جس کی وجہ سے بیورو کریسی نے پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو سبق سکھانے کا فیصلہ کرکے حالیہ پٹرولیم بحران کا کارڈ کھیلا ہے، وفاقی وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی حالیہ پٹرولیم بحران کا ذمہ دار وزارت خزانہ اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو ٹہرا رہے ہیں جبکہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا موقف یہ ہے کہ پٹرولیم بحران میں وزارت خزانہ کا کوئی قصور نہیں اور نہ ہی ہم نے اس سلسلے میں کوئی کوتاہی برتی۔
ملک میں ایک ہی وقت میں جہاں بجلی اور گیس کا شدید بحران چل رہا ہے وہیں پٹرول کے بحران سے ملکی حالات انتہائی گھمبیر صورتحال اختیار کر چکے ہیں، معاشی طور پر پاکستان کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور گرتی دیوار کو ایک دھکا اور دینے والی بات رہ گئی ہے، پٹرول بحران کی وجہ سے پاکستانی معیشیت کو 12 ارب روپے روزانہ کا خسارہ برداشت کرنا پڑ رہا ہے جو کہ معاشی حالات کے انتہائی سنگین ہونے کا الارم بجا رہا ہے، ماہرین کے مطابق اگر حالیہ بحران اسی طرح مزید اور کچھ دن چلتا رہا تو ملکی معیشیت کا خدا حافظ ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک تو پہلے ہی بجلی اور گیس کے بحران کی وجہ سے ملکی معاشی حالات قابل رحم ہیں اور رہی سہی کسر پٹرولیم بحران نے توڑ دی ہے، وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے پٹرولیم بحران کا نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داروں کو سخت سزا دینے کا وعدہ کیا ہے جبکہ یہ وعدہ بھی صرف وعدہ ہی نظر آ رہا ہے، کچھ حلقے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ حالیہ پٹرول بحران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کیلئے کیا گیا ہے، یعنی وہ اس مصنوعی بحران کا محرک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو ٹہرا رہے ہیں ، پترول کا جاری بحران بیورو کریسی اور حکومت کے درمیان رسہ کشی ہو یا مصنوعات میں اضافے کا بہانہ یہ بات تو واضح ہے کہ پٹرول کا حالیہ بحران مصنوعی ہے اور اس مصنوعی بحران سے اپنے اہداف پر کمند ڈالنے والے ملک دشمن عناصر اپنی تجوریوں کو بھرنے کی فکر میں نظر آ رہے ہیں، سیاسی جماعتیں آپس کے جھگڑوں میں مصروف ہیں اور عوام الناس کو کوئی پرسان حال نہیں، پٹرول کے جاری بحران نے روز مرہ ضروریات کی اشیاء کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا ہے اور اب وہ اشیائے خورد و نوش جو پہلے ہی غریب کی پہنچ سے دور تھیں اب بالکل باہر ہو چکی ہیں۔
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ پٹرول بحران کی تحقیقات سپریم کورٹ کے جج سے کروائی جائیں، پاکستانی قوم کا پاکستانی حکام، بیورو کریسی سے روز اول سے ایک ہی سوال ہے کہ وہ ملکی خزانے پر سانپ کی طرح کیا صرف اسے لوٹنے کیلئے بیٹھے ہوتے ہیں؟ مسائل کا حل کس کی ذمہ داری ہے؟ کب تک ہر کام میں سپریم کورٹ کو گھسیٹا جائے گا اور فوج کے کاندھے پر رکھ بندوق چلائی جائے گی؟ کیا پاک فوج اور عدلیہ صرف اسی کام کیلئے رہ گئے ہیں کہ وہ آٹے دال کی قیمتوں میں اضافوں پر از خود نوٹس لیتے رہیں اور فوج ملک میں ہونے والے حادثات، آفات اور دیگر مسائل کو حل کرتی رہے؟ حکومتی وزیروں کی فوج اور بیورو کریسی کے بڑے بڑے مگر مچھ کیا مفت کی روٹیاں توڑنے کیلئے ہیں؟ داخلی سلامتی کی ذمہ داری قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس تو نمائشی ہی رہ گئی ہے، پٹرول کے حالیہ بحران کی وجہ سے ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت کوشدید خطرات لاحق ہیں ، میاں محمد نواز شریف اور ان کے حواری خدارا اپنی حکومت بچانے کیلئے ہی سہی ملک میں جاری بحرانوں پر خصوصی توجہ دیں اور عوامی مسائل کو سنجیدگی کے ساتھ حل کرنے کیلئے فوری اقدامات کریں، اگر حالیہ بحرانوں پر قابو نہیں پایا گیا تو نہ ہی حکومت رہے گی اور نہ معیشیت ، خدا نخواستہ ایسے حالات میں ملک کو کسی ایمرجنسی کا سامنا کرنا پڑ جائے تو اکیلے میاں صاحب اور ان کے حواری کیا کریں گے؟؟؟؟ قوم کدھر جائے گی ؟ کیا کھائے گی؟ غربت ، مہنگائی اور بے روزگاری سے تنگ عوام خود کشیوں پر مجبور نہیں ہوگی تو کیا کرے گی؟
اب بھی وقت ہے کہ حکومت ہوش کے ناخن لے اور خاص طور پر وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان میاں محمد نواز شریف جو کہ وزارت عظمیٰ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں وہ پٹرول کے بحران کے ذمہ دار عناصر کیخلاف فوری طور پر انکوائری کروا کر کارروائی کریں اور اگر اگر یہ ساری رسہ کشی بیورو کریسی کی پیدا کردہ ہے تو بیرو کریسی کو لگام دیں، خدارا قوم کی حالت زار پر توجہ دیں ، عوام سے کئے گئے وعدوں پر عمل کریں، چاپلوس اور خوشامدی ٹولے سے جان چھڑوائیں اور بحرانوں کے حل کیلئے اپنا کردار سنجیدگی کیساتھ ادا کریں ، بصورت دیگر پاکستان مسلم لیگ ن اور میاں محمد نواز شریف کا نام بھی تاریخ کے اوراق میں مفاد پرستوں کی فہرست میں لکھا جائے گا۔۔

 

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button