بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

پیوسہ رہ شجر سے امید بہار رکھ ۔۔۔۔؟؟؟؟

bashir ahmad mir11مئی 2013ء عام انتخابات کے نتائج پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں ۔کچھ لوگ تو یہاں تک کہتے سنے گے کہ اب پی پی پی ختم ہو چکی ہے ،کوئی اس گمان میں مبتلا ہے کہ بس چند ماہ کے بعد حالات کے تھپیڑے شیر کو بگا لے جائیں گے ،کسی کا خیال ہے کہ پی ٹی آئی ماضی کی ایم ایم اے کی طرح صوبائی اقتدار کے نشہ میں بہا لی جائے گی۔یہ سب جائیزے و تجزئے اپنی جگہ ،لیکن تمام تر حالات کے باوجود یہ طے شدہ حقیقت ہے کہ 1970ء سے اب 2008ء تک بھٹو اور انٹی بھٹو ووٹ بینک شطرنج کی طرح چالیں بدلتا رہا۔1988میں طویل آمریت کے بعد انتخابات میں پہلی بار بے نظیر بھٹو کی قیادت میں پی پی پی بے بہا جانی قربانیوں اور بے مثال جد وجہد کے بعد 38.5%ووٹ لیکر 94نشستیں جیت پائی جبکہ مخالف اتحاد IDAمیاں نواز شریف کی قیادت میں 30.2%ووٹ لیکر 56نشستیں حاصل کر سکا اور حکومت سازی کے نتیجہ میں بے نظیر بھٹو وزیر اعظم منتخب ہوئیں ۔ ٹرن آؤٹ 43.5%رہا۔ایوانوں کی سازشوں سے حکومت کو آئینی مدت سے پہلے ختم کیا گیا اور دوبارہ انتخابات 1990ء میں منعقد ہوئے جس کے نتیجہ میں میاں نواز شریف کی قیادت میں بننے والے اتحاد IDAنے 37.4%ووٹ لیکر 106نشستیں حاصل کیں جبکہ پی پی پی 36.8%ووٹ لیکر 44نشستوں کے ساتھ اپوزیشن پارٹی بنی، ٹرن آؤٹ 45.5%رہا،پھر سازشوں کے نرغے میں میاں نواز شریف آئے اور حکومت ٹرائیکا کی ذد میں آ کر توڑ دی گئی جس کے بعد 1993ء میں انتخابات کے نتیجہ میں 37.9%ووٹ لیکر پی پی پی 89نشستیں حاصل کرکے حکومت میں آئی جبکہ مسلم لیگ ن پہلی بار تنہا 39.9%ووٹ لیکر اپوزیشن میں رہی ، ان انتخابات میں ٹرن آؤٹ 40.3%رہا،بے نظیر بھٹو کے اپنے صدر فاروق لغاری نے بد نام زمانہ آرٹیکل دفعہ 56لگا کر انہیں وزارت عظمیٰ سے رخصت کیا اور پھر 1997ء کے انتخابات میں 45.9%ووٹ لیکر مسلم لیگ ن 137نشستوں جیتیں،ٹرن آؤٹ 36%رہااور میاں نواز شریف دوسری بار وزیر اعظم بنے ۔12اکتوبر1999ء طاقت کا پھر استعمال ہوا اور میاں نواز شریف نہ صرف وزارت عظمیٰ سے ہٹائے گے بلکہ انہیں جلا وطن کر دیا گیا ،اسی دوران پی پی کی چیئر پرسن محترمہ بے نظیر بھٹو بھی بیرون ملک روانہ ہو گئیں ۔ملک میں ایک بار پھر عام انتخابات 2002ء میں جنرل مشرف نے کروائے جن میں مسلم لیگی دھڑے جو ہمیشہ اقتدار کی رسہ کشی کا حصہ رہے انہیں ساتھ ملا کرخود ساختہ مسلم لیگ ق سامنے لائی گئی ،جس نے26.3%ووٹ لئے اور118نشستیں لیکر نیم جمہوری حکومت تشکیل دی گئی ۔ان انتخابات میں پی پی پی نے80نشستوں کے ساتھ 28.42%ووٹ لئے،البتہ درپردہ سازشوں کے نتیجہ میں مذہبی جماعتوں کا اتحاد متحدہ مجلس عمل کو سامنے لایا گیا جس نے12.28%ووٹ لیکر 59نشستوں کے ساتھ پارلیمنٹ میں ملا جلا کردار ادا کیا ۔مسلم لیگ ن بمشکل 12.19%ووٹ لے سکی اور قومی اسمبلی میں 18نشستوں کے ساتھ سیاسی و جمہوری جد وجہد جاری رکھی ۔ ان انتخابات میں 41.80%ٹرن آؤٹ رہا۔گذشتہ انتخابات 2008ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے باوجود پی پی پی 30.6%ووٹ لیکر 124نشستیں حاصل کر سکی مقابلے میں ن لیگ نے 19.6%ووٹ لئے اور 91نشستیں جیتیں جبکہ ق لیگ نے 23%ووٹ لئے اور54نشستیں جیتیں ان انتخابات میں 44%ٹرن آؤٹ رہا۔
ماضی کے اعداد و شمار سامنے رکھتے ہوئے حالیہ انتخابات کے نتائج کا جائیزہ لیا جائے تو کوئی انہونی نظر نہیں آ رہی ہے ۔ذرا دل شکن انکشاف زیر تحریر ہے کہ ہمارے وطن میں جمہوری نظام اتنا مستحکم نہیں کہ اندرونی اور بیرونی سازشوں کا مقابلہ کر سکے ،اگر2002ء کے انتخابات سے حالیہ انتخابات کا موازنہ کیا جائے تو اس وقت ن لیگ 18نشستوں پر پہنچ گئی تھی ۔جب غیر محسوس انداز سے انجیئرڈ الیکٹیورل ہو تو ایسے ہی نتائج آ تے ہیں ۔بد قسمتی سے یہ سلسلہ کسی نہ کسی شکل میں اب بھی جاری ہے ۔ابھی حالیہ انتخابات میں بھی دھاندلی کی روایاتی گردان سننے میں آئی ہے جس کے شواہد سوشل میڈیا پر دکھائے گے ،بتایا جاتا کہ بعض پولنگ اسٹیشنز میں سو فی سے بھی زائد ووٹ پول ہوئے ہیں جن میں این اے 190میں 320.63%تاریخ ساز ووٹ پڑے ،این اے 262کے ایک پولنگ اسٹیشن میں 184.44%ووٹ کاسٹ ہوئے ،این اے 5 میں 157.99%ووٹ ڈالے گے جہاں سے پی ٹی آئی کے نامزد وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جیتے ہیں،این اے 211کے ایک پولنگ اسٹیشن میں 200%ووٹ پڑنے کی اطلاعات ہیں ۔ ان انتخابی خامیوں کے ازالے کے لئے مستقل بنیادوں پر الیکشن کمیشن کو آئندہ کی منصوبہ بندی کے لئے متحرک کرنا از بس ضروری ہے ۔شفاف انتخابات کیلئے نو منتخب حکومت پہلے روز سے الیکشن کمیشن کو روڑ میپ دے تاکہ 5سال پورے ہوتے ہی سب انتظامات مکمل قرار پائیں ۔جہاں تک مذکورہ بالا اعداد و شمار کا تعلق ہے تو اس کی روشنی میں سیاسی اکابرین اپنی سمت کا آسانی سے تعین کر سکتے ہیں آج کے جیتے ہوئے کل اس سطح تک پہنچ سکتے ہیں ۔انتخابی نتائج باعث عبرت اور نصائح کی حیثیت رکھتے ہیں ۔حکمت و دانش ،فہم فراست ،تدبیر و تدبرکے ساتھ سیاسی قائدین کو عوام کا اعتماد بحال رکھتے ہوئے ہمہ جہت منصوبہ عمل کو زیر کار لانا پڑے گا۔انشاء اللہ آئندہ تشکیل حکومت پر لکھوں گا قارئین کا ’’کریک ڈاؤن‘‘ کی انتظار کرنے کا شکریہ
اس سارے پس منظر میں بہت کچھ پو شیدہ ہے تاہم خوش آئند امر یہ ہے کہ وطن عزیز میں جمہوری ادارے مستحکم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں ۔عوام کو زیادہ دیر اندھیر نگری میں رکھے جانے کی سازشیں دم توڑ رہی ہیں ۔جہاں عوام میں شعوری بیداری نے جنم لیا ہے وہیں ہمارے سیاسی اکابرین کی دور اندیشی اور سنجیدہ پن کا اظہار امید افزاء مستقبل کی نشاندھی کرتا ہے ۔بہت کچھ دیکھنے سننے کے باوجود سیاسی قائدین کا انتخابی نتائج کو قبول کرنا جمہوری فکر کی پختگی ظاہر کرتا ہے ۔جہاں تک پی پی پی کی عبرت ناک شکست کا تعلق ہے اس کے بے شمار اسباب ہیں ۔چیدہ چیدہ نظر قارئین کرنا ضروری ہیں ۔2008ء میں منتخب ہونے والی حکومت کو ورثہ میں جہاں معاشی بحران ملا ،اسی کے ساتھ ساتھ دہشتگردی نے چاروں اطراف سے جکڑ ے رکھا۔توانائی کا بحران ایسی سطح پر لے گیا کہ ڈالر ایک سو روپے تک پہنچ پایا جس کے سبب مہنگائی نے ہر گھر کو بھوت بنگلہ بنا دیا،ڈگری ہولڈرز تک بے روزگاری کا جن نازل ہوا ،بجلی نے اجالے کے بجائے تاریکی میں اہل وطن کو ڈبودیا ۔اس بحرانی کیفیت سے پی پی پورے پانچ سال گذرنے کے باوجود نکلنے میں کامیاب نہ ہو سکی ،یقینی طور پر کارکردگی کے مطابق نتائج ملنا دھاندلی سے منسوب کرنا قطعی مناسب نہیں تھے ۔ پی پی پی کی جمہوریت پسندی کی تعریف نہ کرنا قلم کی حرمت سے بد دیانتی ہو گی کہ انہوں نے نا صرف انتخابی نتائج قبول کئے بلکہ پارٹی کے اہم رہنماؤں جن میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی،صدر پی پی پی پنجاب میاں منظور وٹو ،راجہ پرویز اشرف ،امریکہ میں متعین سفیر شیری رحمان ،سینٹر اعتزاز احسن جیسی شخصیات ناقض کارکردگی کی بنیاد پر رضا کارانہ طور پر
اپنے عہدوں سے مستعفی ہو چکے ہیں ۔یہ اچھی سیاسی اپروچ کی نشانی ہے کہ جو نتائج نہیں دے سکے انہیں کسی عہدہ پر رہنے کا کوئی جواز نہیں رہتا۔پی پی کو پارٹی نظم و ضبط میں سختی لانا پڑے گی ۔تنظیمی خامیوں کو دور کرنے اور آمدہ حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے صف بندی کرنے پر تمام تر صلاحیتیں مرکوز کی جائیں ۔مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف خوش نصیب انسان ہیں کہ وہ پہلی ایسی شخصیت ہیں جو تیسری بار وزارت عظمیٰ کا قلمدان سنبھالیں گے ۔سابق حکمرانوں نے کیا پایا کیا کھویا۔۔؟ْْ؟یہ الگ بحث ہے۔ اب’’ آنے‘‘ والوں کے لئے’’ جانے‘‘ والوں سے زیادہ مشکل ،پیچیدہ حالات درپیش ہیں ۔ پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ کے مصداق ساگر ان حالات میں نو منتخب حکومت سرخرو ہو جاتی ہے تو میاں نواز شریف کا نام ’’قائد اعظم ثانی‘‘ کے طور پر زباں ذد عام ہوگا اگر خدانخواستہ ایسا نہ ہوا تو اپنا حشر ’’جانے‘‘ والوں سے بھی بد تر ہونے کا اندیشہ سمجھا جائے ۔کالم کا اختتام کرتے ہوئے شاعر نے کیسی ان حالات میں عوام کے غیض و غضب کی منظر کشی کی
بدن سے روح نکل جائے تو بچھتی ہے صف ماتم
مگر کردار مر جائے تو کیوں ماتم نہیں ہوتا

یہ بھی پڑھیں  فیصل آباد‘فرانزک لیبارٹری بھجوائے گئے ‘جسمانی اعضاکے نمونےغائب

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker