تازہ ترینکالم

پھانسی کیا بلا ہے؟

waqar buttپاکستان ان ممالک میں سے ہے جہاں مجرمان کو قانون کے مطابق ان کے کیئے گئے جرم کی سزاسنا دی جاتی ہے فقت فرق یہ ہے کہ ہمارے ہاں مجرم اور ملزم میں کوئی خاصا فرق نہیں کیا جاتا۔ 2005 ء میں کثیر تعداد میں ان کو (376 Code of Criminal Procedure) کے تحت پھانسی پر چڑھا یا گیا جس کے بعد جب پیپلز پارٹی کی گورنمنٹ نے2008 ء ملک کی باگ دوڑ سنبھالی تو سابقہ صدر آصف علی زرداری صاحب نے نرمی برتی اور ان قیدیوں کو مہلت دی اور (DeathPenalty) کو وقتی طور پر فل فور روکنے کے احکامات صادر کیئے جس کے بعد موصوف سابقہ صدر نے اس بات پر توجہ ہی نہ دی وہ لوگ جو بیس سال سے بھی ذیادہ سزائیں بھگت چکے ہیں ان کے لواحقین یہ آس لگائے بیٹھے ہیں کے کب ان قیدیوں کو سزا معاف کر دی جائے گی جو کہ ایک عرصہ دراز سے سزا کاٹ رہے ہیں۔ ملک میں جرائم کی شرح میں کمی لانے کے لیئے قاتلوں کو پھانسی چڑھا دینا دوسرے درندوں کو عبرتناک سبق دے گا جون 2013ء میں اس جاری کردہ آرڈیننس کی معیاد ختم ہوچکی ہے ، چند وکلاء نے ورثاء سے بے حد پیسے ٹھگ لئے کے کیس بہتری کی طرف جا رہا ہے ہم نے رحم کی اپیل دائرکر رکھی ہے۔سینکڑوں قیدی جو عرصہ دراز سے سزاکاٹ رہے ہیں ان کے گھر والوں نے اعلیٰ عدالت میں سزا میں کمی کی اپیل کی ہوئی ہے۔ ۔قیدی اپنے اہل و عیال سے بلک بلک کر فریاد کرتے ہیں کے ہمیں یہاں سے نکلوائیں لیں یا پھر قصا ہی مکائیں پھانسی لگوا دیں جیل میں رہ کر وہ نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوچکے ہیں۔ بے بس ا ہلِ خانہ سوائے ٹھوکروں کے کچھ نہیں پاتے۔یورپی یونین جو عالمی انسانی حقوق کا ادارہ ہے اس کا وفد دو ماہ قبل پاکستان آیا اور زور دیا کہ سزائے موت کوختم کردیا جائے یہ وہ ادارہ ہے جس نے دیگر کئی ممالک کو کنونس کر کے وہاں پھانسی دینے کا رواج ختم کرادیا ہے مگر دنیا بھر میں ابھی بھی اکژیت ان ممالک کی ہے جہاں پچیس سنگیں جرائم کی سزا موت ہے ۔خیر سزائے موت ختم کرنے یا نہ کرنے کاماجرہ الگ ہے پر کیوں ہم نے قیدیوں کے لواحقین کو سولی پر لٹکا رکھا ہے پچھلے پندرہ سال سے جیل میں موجود قیدی جو راہ دیکھ رہے ہیں کہ کب ان کو موت دے دی جائے گی ان کو یا تو سزا دے دیں یا پھر ان پر رحم فرمایئے اور انہیں بچی کچی زندگی ہنسی خوشی بسر کرنے دی جائے۔12بائی 10کی کال کوٹھری جہاں سانس لینے کے سوا سب کچھ بہت محال ہے جہاں مختلف اقسام کے ٹورچرز کیئے جاتے ہیں جہاں ہر اوڑ کندگی کے ڈھیر ہیں جہاں بے گناہ سفاق قاتلوں میں بے یارو مددگار موجود ہیں اوران درندوں کے وحشی پن کا اکثر شکار ہوتے رہتے ہیں۔اس بڑی سزا کو قائم رہنا چاہیے تاکہ معاشرے میں بگاڑ پیدا نہ ہو اور قاتل معصوموں کی آڑ میں ہر سو خون بہاتے نہ پھریں اور بے باکی سے جرائم کا ارتکاب کرتے نہ رہیں اسلام ہمیں خون کا بدلہ خون بہانہ ہی دیتا ہے یعنی اگر کوئی کسی کو قتل کرے تو اسے بھی اتنی ہی تکلیف دے کر مارا جائے جس کے لیئے ہمارا قانونی نظام موجود ہے ۔ انہیں اسی طرح عبرت کا نشان بناتے رہنا چاہیئے پر خدارا جو لوگ پندرہ بیس سال سے سزا ئے موت کے منتظر ہیں انہیں عام معافی دے دی جانی چاہیے۔ پچھلے سال سامنے آیا شاہ زیب قتل کیس جس میں ایک وڈیرے نے ایک بھائی کو اس کی بہن کی حفاظت پر معمور رہنے کے جرم میں موت کے گھاٹ اتار دیا بمشکل مجرم شارخ جتوئی اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا۔ جس کے بعد ان کے ریمانڈ چلتے رہے عدالت نے پھانسی کی سزا دے دی مقتول شاہ زیب کے والد نے کہا جب تک اپنے بیٹے کے قاتل کو سزا نہیں دلوالیں گے چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ جتوئی صاحب کے مسلسل ریمانڈ ہوتے رہے دوسری جانب شاہ زیب کے والد ہراساں ہوتے رہے جس کے بعد انہوں نے اس خاطر کے ان کا خاندان خطرے میں نہ پڑجائے کچھ روز قبل انہیں معاف کردیا جس پر اینکرز نے چھریوں کے وار سے چور چور ہوئے ایک دکھی باپ پر الزامات عائد کئے کے انہوں نے پیسے لئے اور مجرم کو معاف فرما دیا اوراگر والدین مقتول معاف نہ بھی کرتے تو قاتل شاہ زیب سزا پاتا رہتا اور نہ ہی پھانسی لگتا یہ بھی امکانات تھے کے رواں سالوں میں وہ باہر آجاتا مگرشاہ زیب کے اہلِخانہ بہت سی جانیں گو بیٹھتے۔جنابِ صدر ممنوں حسین نے صدر بننے سے پہلے کہا تھا کہ ہر فیصلے پراپنی لیڈر شپ سے رہنمائی لیں گے مگر جب جو بات حق پر لگے گی اس پر عمل درآمد کرانے کے لیئے آواز بلند ضرور کریں گے۔ تو محترم سربراہِ مملکت خدارہ ما وُں،بہنوں بیٹیوں کی فریا د سنیئے اوران کے حال پر رحم فرمائیے ۔صاحب یقین جانیئے کے میری نظر سے ایسے بہت خاندان گزرتے ہیں جو کہ پندرہ سے بیس سالوں سے اس کش مکش میں مبتلا ہیں کے کب ان کے اپنے کی موت کی خبر سامنے آئے گی۔ اپنے عزیز کی موت ہوجائے پھر بھی صبر آجاتا ہے مگر اس طرح رہنا بہت ہی مشکل مرحلہ ہے قیدی پاگل ہوچکے لہٰذا انہیں اس سرنگ نما جیل سے باہر نکلوا دیجیے ان کا علاج معالجہ ممکن بنایئے اور ان سینکڑوں قیدیوں کے ہزاروں افراد کی تعداد پر مشتمل خاندان بھی ہیں۔مانا کہ انہی جیلوں میں خطرناک دہشتگرد اور قاتل بھی بستے ہیں پر ان کی وجہ سے ملزوموں کی بھی پھانسی رکی ہوئی ہے اور وہ بیس سالوں سے ذیادہ سزا بھگت چکے ہیں ان کی جان نکل چکی ہے بس چند سانس ہیں جو باقی ہیں اگر انہیں اب بھی چھوڑ دیا جائے تو اس سے ان کی زندگی دوبارہ بحال ہو سکتی ہے۔دُعا ہے کے ہمارا آئین و قانوں بالادست ہو اور خدا بے گناہوں کو الزامات سے بری فرمائے (آمین)۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button