تازہ ترینکالممحمد عمران فاروق

پشاور -پھولو ں کا شہر مُر جھا گیا

imran farooqقیامت صغریٰ کا منظر ۔آہ و پکار۔ ظلم و بربریت کی داستانیں ۔ غم و اندوہ کے عالم میں بِلکتی ماؤں کی بھاگ دوڑ ۔ کیا انسان اِتنا بھی گِر جا تا ہے ؟ کیا امن و سلامتی کے پیامبر کی اُمت کا ملک ایسے منا ظر دیکھے گا ؟ سفا کیت کی انتہا ء ہو گئی ۔ درس گاہ کو مقتل میں تبدیل کر دیا گیا ۔درندہ صفت جانور اور اپنی زہریلی صفات میں یکتا زمینی کیڑا سانپ بھی انسانی بچے کے ساتھ یہ ظلم برپا نہیں کر سکتا ۔ یہ کون لوگ تھے جنہوں نے انسانی تاریخ میں یہ گھناؤنا فعل سر انجام دیا ؟ کیا یہ لوگ انسان کہلانے کے مستحق ہیں ؟ نہیں جناب بالکل نہیں ۔ ہر گز نہیں ۔ کوئی گِرا ہوا ، وحشی اور بد ترین معاشرہ بھی اُنہیں قبول نہیں کریگا ۔
سولہ دسمبر کا دن پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے ۔ سقوطِ ڈھاکہ کی تلخ یادوں میں اس ظلم و بربریت کی داستان کا اضافہ ہو گیا ۔ آرمی پبلک سکو ل پشاور میں مقامی شہریوں کے علاوہ پاکستان آرمی کے ملازمین کے بچوں کی کثیر تعداد زیر تعلیم ہے ۔ ان ملازمین کا تعلق پاکستان کے طول و عرض سے ہے ۔ دہشت گرد فوجی ملازمین کے ببچوں کو چن چن کر شہید کرتے رہے ۔ ظلم اور نفرت کی اُس وقت انتہا ہو گئی جب اُن درندوں نے گولیاں برسانے کے بعد کئی ملازمین کی لاشوں کو آگ لگا دی ۔ دہشت گردی اور عسکرئیت پسندی ماہ و سال کی کہانی نہیں ہے ۔ ہماری سویلین اور فوجی حکومتیں سالہاسال سے اِسکی آبیاری کر رہی ہیں ۔ لیکن اَب وقت آن پُہنچا ہے کہ ہم مِن حیث القوم سخت فیصلے کریں ۔ اور اُن پر عمل پیرا بھی ہوں ۔ مستقبل کے لائح�ۂ عمل کیلئے چند ایک تجاویز پیشِ خدمت ہیں ۔
1 – فاٹا اور قبائلی علاقوں کو ہر صورت میں حکومتی رِٹ میں شامل کیا جائے ۔ مقامی حکومتوں کا جا ل اِن علاقوں میں بھی پھیلا یا جائے ۔ جب تک مقامی حکومتیں قائم نہیں ہو تیں اُس وقت تک کمیونٹی (Community) میں موجود دردِ دل رکھنے والی سماجی شخصیات پر مشتمل کو آرڈینیٹنگ کمیٹیاں ترتیب دی جائیں ۔ فاٹا اور قبائلی علاقوں میں پاکستانی فوج اِن کمیٹیوں کو تحفظ فراہم کرے اور اِن علاقوں کے مسائل وہیں پر حل ہوں ۔ فاٹا اور اُسکے قبائلی علاقوں میں نو جو انوں کی تعلیم و تربیت کا جامع نظام وضع کیا جائے ۔ جذبہ حُب الوطنی اور وطن سے محبت کا جذبہ اُجاگر کیا جائے ۔
2 – افغانستان اور انڈیا سے تعلقات میں متوازن خارجہ پالیسی پر عمل درآمد کیا جائے ۔ مفادات کی جنگ کی وجہ سے افغانستان سے ہمارے تعلقات میں بہت نشیب و فراز آئے ۔ حالیہ افغانی حکومت پاکستان سے اچھے تعلقات کی خواہاں ہے ۔ پاکستان کو بھی اِ ن میں بگاڑ سے اجتناب کرنا چاہیئے ۔ انڈیا کبھی بھی ہمارا دوست نہیں ہو سکتا ۔ لیکن ایک اچھے ہمسائے کے طور پر ہمیں انڈیا سے اچھے تعلقات کی شروعات کرنی چاہیئے ۔ جہاں تک عالمِ اسلام کا تعلق ماسوائے برادر اسلامی ملک ترکی ، کسی بھی اسلامی ملک نے اِ س سانحہ پر پاکستان سے اظہارِ یکجہتی نہیں کیا ۔ ایک بار پھر امریکہ اور یورپ کے ممالک ہماری ڈھارس بندھوانے کیلئے آگے آگے ہیں ۔ اس صورتحال میں ہمیں تمام عالم اسلام کے غم میں نڈھا ل ہونے کی ضرورت قطعاً نہیں ہے ۔
3 – پاکستان کے اندر مخدوش سیاسی حالات بھی ہمارے دشمنوں کو ملک کے اندرانارکی پھیلانے کا موقع فراہم کر تے ہیں ۔ ہمارا ملک انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے ۔ حکومتی عُہدیداروں کو بہت ذمہ داری اور سنجیدگی سے اپنے معاملات چلانے ہونگے ۔ اپوزیشن اور عمران خاں کے اعتراضات دور کرنے کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں ۔ عمران خاں نے اس سانحہ کے پیش نظر اسلام آباد سے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا ۔ یہ ایک احسن قدم ہے ۔ اَب حکومت کو بھی خوش دلی کا مظاہرہ کرنا چاہیئے اور جو ڈیشیل کمیشن کے قیام کیلئے فوری اقدامات کیئے جائیں ۔ میڈیا کے نام نہاد اینکر پر سنز اور مسلم لیگ کے دوست نما دشمنوں کی زبانوں کو بھی لگام دینے کی ضرورت ہے ۔ انہیں یاد رکھنا چاہیئے کہ عمران خاں روائتی سیاستدان نہیں ہیں ۔ اُنہوں نے یہ فیصلہ قوم کی بھلائی میں کیا ہے ۔
4 – مدارس کے نصاب میں فوراً تبدیلی کیجائے ۔مدارس سے فارغ التحصیل طلباء صرف مساجد میں ہی اپنے فرائض انجام دینے کے اہل ہوتے ہیں ۔ اُنہیں دینی کے ساتھ ساتھ دُنیاوی تعلیم بھی دی جائے ۔ انجینرنگ و میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیوں میں اُنکے داخلوں کا بندوبست کیا جائے ۔تاکہ یہ طلباء ایک بند خول سے باہر آئیں ۔ اور معاشرہ میں فعال کردار ادا کر سکیں ۔
5 – انتظامیہ ہمیشہ حقائق سے چشم پوشی کرتی رہی ہے مساجد کی رجسٹریشن کی جائے ، مساجد کے اندر فرقہ پرستی اور انتہا پسندی کی تعلیم عام ہے ۔ وعظ کرنے والے آئمہ حضرات کی تربیت انتہائی ضروری ہے ۔ گورنمنٹ کی سطح پر کسی ادارہ میں اِنکی ذہنی و دینی تربیت کیجائے ۔ اور سند یافتہ افراد ہی صرف امامت کے اہل قرار پائیں ۔
6 – تما م دینی جماعتوں پر پابندی لگادی جائے ۔کسی دینی جماعت کو چندہ یا قربانی کی کھالیں اکٹھی کرنے کی اجازت نہیں ہو نی چاہیئے ۔ بیرون ممالک سے مدارس اور دینی جماعتوں کو ملنے والی گرانٹس اور امداد کی بیخ کنی انتہائی ضروری ہے ۔
7 – سیاسی علماء دین معاشرہ میں موجود ہر قِسم کی برائی کی جڑ ہیں ۔ عسکرئیت پسندی (Militancyٌ) کو رواج دینے میں اِن کا کردار انتہائی بھیانک ہے ۔ اَب وقت آگیا ہے کہ قوم اِس سلسلہ میں احسن قدم اُٹھائے ۔
8 – تمام بڑے شہروں میں روزگار کے سلسلہ میں اجنبی لوگوں کی آمد و رفت جاری رہتی ہے ۔ اجنبی اور مشکوک افراد کے بارے میں آگاہی کے لیے عوام الناس کو تربیت مُہیا کی جائے ۔ ان کا ریکارڈ محفوظ رکھا جائے تاکہ بوقتِ ضرورت کا م آسکے ۔
9 – عدلیہ اور پولیس کے نظام کو مربوط کیا جائے ۔ پولیس کا انتظام انتہائی فرسودہ ہے ۔ ایس ۔ ایچ ۔ او کیلئے کم از کم تعلیمی معیار ماسٹر لیو ل (Level) ہو نا چاہیئے ۔انسپکٹر عُہدہ کا آفیسر ایس ۔ ایچ ۔ا و تعینات کیا جانا چاہیئے ۔ پولیس کے نظام کو مؤثر بنانے کیلئے مفصل تربیتی پروگرام کی ضرورت ہے ۔ اسی طرح عدلیہ کا نظام بھی درست کرنے کی ضرورت ہے ۔ عدلیہ میں اِن دہشت گردوں کے خلاف کیسز میں گواہی دینے کے لیے لوگ تیار نہیں ہوتے ۔ اگر خدا نخواستہ عدلیہ فیصلہ کر دیتی ہے تو اُس پر عمل در آمد نہیں ہو تا ۔پولیس اور عدلیہ میں تبدیلی سے معاشرہ میں تبدیلی آسکتی ہے ۔ پولیس کا مؤثر کردار معاشرہ کے ہر شعبہ میں تبدیلی لا سکتا ہے ۔مضبوط سول سوسائٹی پولیسنگ کے نظام کے لیے تقویت کا باعث بنے گی۔ صرف پولیس یا فوج ہی تمام معاملات درست نہیں کر سکتی۔
10 – حکومتی سطح پر سویلین / فوجی اداروں میں احتساب کا نظام مؤثر اور مضبوط بنایا جائے ۔ تمام واقعات میں دہشتگردوں کو اندرونی معلو مات حاصل تھیں یا اُنکے مدد گار شامل تھے ۔ سانح�ۂ پشاور میں غفلت برتنے والے اہلکاروں کو نشانِ عبرت بنا دینا چاہیئے ۔
افغانستان میں روس کی شکست کے بعد ہمیں ایک مضبوط اور قابل لیڈر مثلاً جیسے مہاتیر محمد ، کی ضرورت تھی تاکہ پاکستانی قوم ایک درست سمت کا تعین کر سکتی ۔ بد قسمتی سے ہماری قوم بغیر لیڈر (Leaderless) ہے ۔ پچھلے چند سالوں میں ہمارا ریاستی ڈھانچہ انتہائی کمزور ہو چکا ہے ۔ ناعاقبت اندیش سیاسی قیادت اس میں مزید بگاڑ کا باعث ہے ۔ سانحۂ پشاور کی ذمہ داری پوری قوم کی ہے ۔ ہمارے معاشرہ میں ماتھے پر محراب کانشان اور داڑھی ہر قسم کی بُرائی کا لائسنس ہے ۔ یہ ایک انتہائی منافقانہ سوچ ہے ۔ لاہور کے اردگرد کی آبادیوں،فیروز پور روڈپر بننے والی نئی آبادیوں ، رائے ونڈ روڈکی مختلف آبادیوں ، والٹن ہوئی اڈے کے ارد گرد بُہت سارے لوگ آباد ہیں ۔ جو کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اور یہ افراد لوگوں کو ڈراتے دھمکاتے بھی ہیں اور اسلام کے ٹھیکیدار بھی بنے ہوئے ہیں ۔ دین اسلام امن و آشتی کا دین ہے ۔ فتح مکہ کے وقت آنحضور ﷺ نے تمام کفارِ مکہ کو معاف کر دیا ۔ اور ہم ایکدوسرے کے ایمان میں کیڑے نکالتے ہیں ۔ ہمیں مین حیث القوم یہ عہد کرنا ہو گا کہ ہم ایک قوم ہیں ۔ ایک مِلّت ہیں ۔جسکے لیے روشنی کا مینار خانہٌ خدا اور بقعۂ نور ہدائیت آنحضرت محمد ﷺ کی ذات ہے ۔

یہ بھی پڑھیں  ’’ہیپی نیو ائیر ‘‘ کیامسلمانوں کاہے

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker