تازہ ترینعلاقائی

بھائی پھیرو:ڈکیتی میں قتل ہونے والی بیٹی کا باپ پولیس دفاتر کے درمیان فٹ بال بن گیا

BHAI PHERO PHOTO M RAFI MAIGA 22-9-2013بھائی پھیرو(نامہ نگار) بھائی پھیرو ۔ڈیڑھ ماہ قبل ڈکیتی میں قتل ہونے والی بیٹی کا باپ پولیس دفاتر کے درمیان فٹ بال بن گیا۔وزیر اعلی پنجاب اور اعلی پولیس حکام کو درخواستیں دینے کے باوجود بھائی پھیرو پولیس قاتلوں کو نہ پکڑ سکی۔محکمہ ایکسائز کے ملازم کی بیٹی کے قاتلوں کو پکڑنے کی اپیل۔قاتل نہ پکڑے گئے تو میں اپنے خاندان کے ہمراہ وزیر اعلی کے گھر کے باہر تادم مرگ بھوک ہڑتال کر دے گا ،م تبادلہ کے بعد چند روز قبل تفتیش ملی ہے ،جلد ہی ملزمان ٹریس کرلوں گا۔سب انسپکٹر غلام عباس کا موقف ۔مدعی کی دھمکی ،تفصیلات کے مطابق تھانہ بھائی پھیرو کے نواحی گاؤں میگہ موڑ میں مورخہ 5-9-2013 کو محکمہ ایکسائز کے ملازم مرزا محمد رفیع کے گھر نامعلوم ڈاکو گھس آئے اور مزاحمت پر اسکی اٹھارہ سالہ بیٹی شمائلہ کو فائر مار کر قتل کر دیا۔اس واقع کا مقدمہ نمبر 366/2013 بجرم 395/302/397ت پ تھانہ صدر بھائی پھیرو میں درج کیا گیا۔کچھ دنوں بعد مدعی کے اہل خانہ نے ایک ملزم ساجد علی ولدمحمد اسحاق کو پہنچان کر پولیس کو پکڑوایا ۔مدعی محمد رفیع نے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ تفتیشی افسر نے خونی ملزم ساجد کو بغیر برآمدگی اور اسکے ساتھی ملزمان پکڑے بغیر جوڈیشیل بھیج دیا۔ڈی پی او قصور سے رابطہ کرنے پر ڈی پی او نے ملزم کی شناخت کروانے کا حکم دیا جس پر جوڈیشیل مجسٹریٹ کی موجودگی میں ہم نے 9-9-2013 کو ملزم مزکور کو شناخت کر لیا۔اس کے باوجود پولیس نے ابھی تک ملزم کو دوبارہ جسمانی ریمانڈ پر جیل سے واپس نہیں لیا اور نہ ہی اسکے ساتھی ملزمان کو ٹریس کیا ہے۔مدعی نے کہا کہ وہ ڈیڑھ ماہ سے پولیس دفاتر کے دھکے کھا رہا ہے ۔وزیر اعلی پنجاب کو بھی درخواستیں دیں مگر پولیس اسکی بیٹی کے قاتلوں کو گرفتار نہیں کر رہی ۔میرے ساتھ ہونے والی زیادتی پر نہ ہی خادم اعلی پنجاب ،اور نہ ہی چیف جسٹس نے کوئی نوٹس لیا ہے۔مدعی نے مطالبہ کیا کہ اسکی بیٹی کے قاتلوں کو جلد از جلد پکڑ کر قرار واقعی سزا دی جائے وگرنہ وہ اپنے خاندان کے ہمراہ وزیر اعلی پنجاب کے گھر کے باہر تا دم مرگ ہڑتال کرے گا۔تھانہ صدر بھائی پھیرو کے چند روز قبل آنے والے انچارج انوسٹی گیشن سب انسپکٹر غلام عباس نے کہا کہ مجھے 17-9-2013کو تفتیش ملی ہے 25-9-2013کو ملزم سجاد کو جسمانی ریمانڈ پر لیکر باقی ملزمان کو ٹریس کر لیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button