تازہ ترینعلاقائی

بھائی پھیرو:4ماہ گذرجانےکےباوجود محمد نعیم اقبال کوپولیس برآمد کرنےمیں ناکام

بھائی پھیرو﴿نامہ نگار﴾چار ماہ گذر جانے کے باوجود اغوائ ہونے والے سرائے مغل کے سترہ سالہ محمد نعیم اقبال کو پولیس برآمد کرنے میں ناکام۔بیٹے کی آمد کا انتظار کرتے کرتے والدہ کو غشی کے دورے، جبکہ والد ریٹائرڈ ٹیچر دل کا مریض بن گیا۔ ورثائ کا چیف جسٹس آف پاکستان ، وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب سے فوری نوٹس لے کر بازیابی کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق تھانہ سرائے مغل کے علاقے کھڈیاں چک 41 کے رہائشی ریٹائرڈ ٹیچر ماسٹر تاج دین کا سترہ سالہ بیٹا محمد نعیم اقبال جو کہ اسلام آباد میں اپنا کاروبار کرتا ہے۔وہ چار ماہ قبل اپنے گھر سے اسلام آباد جارہا تھاکہ لاہور شیرا کوٹ سے نامعلوم افراد نے اغوائ کر لیا جس کا مقدمہ تھانہ شیرا کوٹ میں درج کرنے کے باوجود کوئی کارروائی نہ کی ۔ جس پر مغوی کے بھائی کی درخواست پر تفتیش سی آئی اے کے سپرد کی گئی۔ سی آئی اے انسپکٹر محمد زبیر نے مقدمہ کی تفتیش کرتے ہوئے بذریعہ کال ڈیٹا کی بنیاد پر تین ملزمان دانش حسن ، نازیہ یونس، اور خالد مشتاق کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا۔دوران تفتیش ملزمہ نازیہ یونس نے انکشاف کیا کہ مغوی محمدنعیم اقبال کو بے ہوشی کی حالت میں ساجد مشتاق، عمران، نعیم شاہ اور ہُما نامی لڑکی میرے گھر آئے اور چار گھنٹے بعد میرے گھر سے چلے گئے۔ اس انکشاف کے باوجود مرکزی ملزم ساجد مشتاق اور اس کے دیگر ساتھیوں کو پولیس گرفتار کرنے سے گریزاں ہے۔ مسلسل چار ماہ تک بیٹے کی آمد کا انتظار کرتے کرتے والدہ کو اکثر غشی کے دورے پڑ جاتے ہیں اور والدبھی غم سے نڈھال ہوکر دل کا مریض بن گیا ہے۔ مقدمہ کے مدعی نے قوی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پولیس نے ملزمان سے مک مکا کرلیا ہے۔ اورایسے اغوائ کاروں کو مزید وارداتیں کرنے کی کھلی چھٹی دے دی ہے۔ مغوی محمد نعیم اقبال کے ورثائ والد،والدہ اوربھائیوں نے صحافیوں کی موجودگی میں چیف جسٹس آف پاکستان ،وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب سے مطالبہ کیا ہے مغوی محمد نعیم کو فوری طور پرظالموں کے چنگل سے بازیاب کرواکر داد رسی کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں  آزاد کشمیر کا ترانا،لیڈر اور سوکھی مچھلی کے '' اعضائے مخصوصہ''

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker