شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / بھائی پھیرو:اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ قابل مذمت، عوام کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے

بھائی پھیرو:اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ قابل مذمت، عوام کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے

بھائی پھیرو(نامہ نگار) اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ قابل مذمت، عوام کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے گزشتہ پانچ سالوں میں عوام کو مہنگائی ،بے ورزگاری اور لوڈشیڈنگ کے سوا کچھ نہیں ملا. متحدہ مجلس عمل اور جماعت اسلامی ضلع قصور کے جنرل سیکرٹری حلقہ پی پی181 کے امیدوار سردار نور احمد ڈوگرنے کہا ہے کہ سابق حکمران عملاً22کروڑ عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ ایک طرف مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے جبکہ دوسری طرف پرائس کنٹرول کمیٹیاں قیمتوں پر قابوپانے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہیں۔۔اشیا خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں ۔جس کے باعث عوام کی زندگی اجیرن بن گئی ہے ۔انہوں نے کہاکہ لوڈشیڈنگ جوں کی توں ہے ۔کسی قسم کی کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ۔شہروں میں چار سے چھ گھنٹے اور دیہات میں 8 سے 10گھنٹے بجلی کی غیر اعلانیہ بندش ہو رہی ہے ۔عوام کی مشکلات میں پہلے سے زیادہ اضافہ ہوچکا ہے۔ پاکستان میں متبادل ذرائع سے سستی بجلی پیداکرنے کے بے پناہ امکانات موجود ہیں مگربات حکمرانوں کی ترجیحات پر آکر ختم ہوجاتی ہے۔شمسی توانائی سے ہم29ملین میگاواٹ حاصل کرسکتے ہیں۔اسی طرح ہواکے ذریعے بجلی کی پیداوارکاسالانہ اندازہ 3لاکھ40ہزارمیگاواٹ ہے۔آبی وسائل سے ایک لاکھ میگاواٹ سالانہ بجلی پیداہوسکتی ہے ۔ توانائی بحران نے صنعتیں بند اور کاروبار ٹھپ کردیئے ہیں۔مزدوروں کے گھروں میں نوبت فاقوں تک پہنچ چکی ہے۔چولہے ٹھنڈے اور غربت وافلاس نے گھروں میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔سردار نور احمد نے مزیدکہاکہ تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد حکمرانوں کی مایوس ترین کارکردگی سے مشکلات کا شکار ہیں۔انہوں نے کہاکہ ستم ظریفی یہ ہے کہ نہ توتوانائی بحران کاخاتمہ ہوسکا اور نہ مہنگائی وبے روزگار ی میں کمی ہوئی۔عوام کو ریلیف دینے کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔غیر ملکی قرضوں پر انحصار ختم کرنے کا دعویٰ کرنیوالوں نے پچھلی تمام حکومتوں کوقرض لینے میں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔قومی وسائل سے غیر ملکی کمپنیاں منافع کماکر بیرون ملک منتقل کررہی ہیں

یہ بھی پڑھیں  پھول نگر:مقامی انتظامیہ کی ملی بھگت سے لگائے جانے والے منگل بازار، بدھ بازاراور اتوار بازارسیکورٹی رسک بن گئے