تازہ ترینعلاقائی

پنجاب حکومت اور بیوروکریسی قوم کے معماروں سے ہاتھ کرگئی

phool negarبھائی پھیرو(نامہ نگار) پنجاب حکومت اور بیوروکریسی قوم کے معماروں سے ہاتھ کرگئی ۔ضلع قصور کے تین ہزار مردوخواتین کنٹریکٹ ایجوکیٹرز کوریگولر کرنے کا جھانسہ دیکر جمہوریت بچاؤ ریلی میں شریک کرانے کیلئے لاہور بھیج دیاگیا۔ٹیچر رہنماؤں کی شدید مذمت۔تفصیلاتکے مطابق ایجوکیٹرز کو کہا گیا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب آپ کوایک تقریب میں ریگولر کرنے کا اعلان کریں گے۔ضلعی انتظامیہ نے محکمہ تعلیم کے افسران ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ ایجوکیشن کے دفتر،ڈپٹی ڈی ای اوز(زنانہ و مردانہ) ،اے ای اوز(زنانہ و مردانہ) اور ہائی سکولوں کے ہیڈماسٹرز اور ہیڈ مسٹریس کے ذریعے تمام ایجوکیٹرز (مرد و خواتین)کو فون کرکے اور ایس ایم ایس کے ذریعے پیغام بھجوایاگیا کہ,2009 2010،2011،2012میں بھرتی ہونیوالے ایجوکیٹرزجو ابھی ریگولر نہیں ہوئے صبح نو بجے اپنے متعلقہ تحصیل ہیڈ کوارٹر پرنامزد کردہ سکول میں جمع ہوجائیں جہاں سے بسوں کے ذریعے انہیں لاہور لے جایا جائے گا۔متعلقہ جگہ پہنچ کر اساتذہ کی حاضری لگائی گئی بعد ازاں تمام ایجوکیٹرز خوشی خوشی لاہور پہنچے۔جن میں ایک بڑی تعداد خواتین اساتذہ کی بھی تھی جو اپنے شیر خوار بچوں کو گودمیں لئے ہوئے تھیں۔ لیکن تقریب کہاں ہو گی سب بے خبر تھے پنجاب اسمبلی کے سامنے نکالی جانیوالی جمہوریت بچاؤ ریلی میں پہنچ کر تمام ایجوکیٹرزایک دوسرے سے اور اپنے متعلقہ افسران سے استفسار کرتے رہے کہ ریگولر آرڈر ملنے کی تقریب کس مقام پر ہوگی؟ تو پتہ نہیں یہیں کہیں ہوگی کا جواب ملتا رہا۔یہاں تک کہ اساتذہ کو ساتھ لانے والے ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز اور اے ای اوز بھی لا علم تھے۔صبح سات بجے سے گھروں سے نکلے ہوئے قوم کے معمار جب بارہ بجے پنجاب اسمبلی کی بلڈنگ کے سامنے پہنچے تووہاں منظر ہی کچھ اور تھا۔کبھی گانے اور کبھی ملی نغمے سنائے گئے اور کبھی مخصوص ٹولہ جمہوریت کے حق میں نعرے لگاتا دکھائی دیا۔شام چھ بجے تک یہی ڈرامہ رچایا گیا۔اور وہ ایجوکیٹرز جو ریگولر ہونے کی آس اور امید لے کر لاہور گئے تھے وہ منہ لٹکا کر واپس گھروں کو لوٹ آئے اورایجوکیٹرز اور ان کے گھروں کے تمام افرادچھوٹے بڑے سب مل کر حکومتی کارندوں اور افسران کو کوستے رہے۔ دراصل حکومت پنجاب اور بیورو کریسی نے قوم کے معماروں سے ہاتھ کیا اوران کی آنکھوں میں دھول جھونک کر انہیں جمہوریت بچاؤ ریلی کی رونق بڑھانے کے لئے استعمال کیا ۔جس سے قوم کے معماروں کے سر شرم سے جھک گئے ریلی میں شامل بعض ایجوکیٹرز نے صحافیوں کو روتے ہوئے بتایا کہ بیورو کریسی اور افسران نے ہمیں کس طرح دھوکا دیا اور مخصوص سیاسی مقاصد کے لئے ا ستعمال کیا ۔پنجاب ایجوکیٹرز ایسوسی ایشن ضلع قصور کے رہنماؤں صدر محمد یوسف ندیم،جنرل سیکرٹری شکیل احمد دانیال،جوائنٹ سیکرٹری ہارون الرشید،فنانس سیکرٹری آصف محمود،ڈپٹی فنانس سیکرٹری عارف شاہین،سیکرٹری نشرواشاعت یونس جاوید،تحصیل صدرغلام مصطفیٰ تبسم،تحصیل صدرمحمد علی تبسم ودیگر نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت نے ایجوکیٹرز کو ریگولر کرنے کا جھانسہ دیااور جمہوریت بچاؤ ریلی میں شریک کراکراپنے سیاسی قد کاٹھ میں اضافہ کرکے قوم کے معماروں کی بھونڈے انداز میں تذلیل کی ہے جمہوریت بچاؤ ریلی کی آڑ میں اساتذہ کو زبردستی لاہورلے جاناریاستی جبر کی بدترین مثال ہے جس کی ہم پرزور مذمت کرتے ہیں ۔یہی افسران اور حکومتی کارندے بعدمیں اساتذہ کو طعنے دینے لگتے ہیں کہ گورنمنٹ سکولوں کے رزلٹ اچھے نہیں۔اس کے علاوہ بھی اساتذہ سے دوسرے غیر تدریسی کام لئے جاتے ہیں مثلاًخانہ شماری ، مردم شماری،ووٹ بنانے کا کام، یو پی ای وغیرہ یہ سب کام اساتذہ سے لئے جاتے ہیں اور انہیں ذلیل و رسوا کیا جاتا ہے۔ ہم چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اساتذہ سے غیر تدریسی کامل لینے اورزبردستی سیاسی جلسوں میں لے جانے پراز خود نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کریں اور ہمیشہ کے اساتذہ کواپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے پر پابندی عائد کریں پورے ملک کے اساتذہ چیف جسٹس آف پاکستان کو دعائیں دیں گے

یہ بھی پڑھیں  ڈیرہ غازیخان:انتخابات کے سلسلے میں ریسکیو 1122 اور ریسکیورز کی چھٹیاں منسوخ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker