علاقائی

بھائی پھیرو:بااثرسیاستدانوں اورپولیس کی ملی بھگت سےمنشیات فروشی اورجوئےکادھندہ عروج پر

بھائی پھیرو﴿نامہ نگار﴾ بھائی پھیرو میں با اثر سیاستدانوں اور پولیس کی ملی بھگت سے منشیات فروشی اور جوئے کا دھندہ عروج پر ہے ۔ بھائی پھیرو جسے عرف عام میں پنجاب کی’’ سہراب گوٹھ ‘‘کہا جاتا ہے ، یہاں سے صوبہ پنجاب میں ایک تہائی منشیات سمگل کی جاتی ہے ۔ سینکڑوں نوجوان لڑکے ، لڑکیاں ، طلبائ اور طالبات نشے کی لت میں گرفتار ہو کر لقمہ اجل بن چکے ہیں اور ہزاروں زندہ لاشیں بن چکے ہیں ۔ ڈی آئی جی شیخوپورہ رینج کے آپریشن کے بعد منشیات فروش علاقہ چھوڑ گئے ، پولیس میں چھپی کالی بھیڑیں تبادلہ کروانے کے لئے با اثر افراد کے گھروں کے چکر لگانے لگے ۔ تفصیلات کے مطابق بھائی پھیرو جسے عرف عام میں پنجاب کی سہراب گوٹھ کہا جاتا ہے منشیات فروشوں اور منشیات نوشوں کے لئے جنت بن چکا ہے ۔ جگہ جگہ منشیات کے اڈوں پر سر عام منشیات فروخت کی جاتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے درجنوں ککھ پتی لوگ لکھ پتی بن چکے ہیں۔ پاک نیوز لائیو ڈاٹ کام سروے کے مطابق بھائی پھیرو محلہ میانکے موڑ ، لمبے جاگیر ، محلہ نذیر شاہ ، بگھیانہ کلاں ، کاونیں ملیاں اور بائی پاس پر بنے کئی ہوٹل منشیات فروشی کے اڈے بن چکے ہیں ۔ دور دراز علاقہ غیر سے ٹرکوں پر منشیات کی بھاری تعداداس علاقے میں لائی جاتی ہے اور یہاں سے پورے پنجاب میں سپلائی کی جاتی ہے ۔ ایک انٹرنیشنل نیوز ایجنسی کے سروے کے مطابق پورے صوبہ پنجاب میں استعمال ہونے والے نشہ کی ایک تہائی مقدار بھائی پھیرو سے سپلائی کی جاتی ہے ۔ منشیات فروشوں کو با اثر سیاسی افراد اور رشوت خور پولیس افسران کی سر پرستی حاصل ہے اس لئے منشیات کا مکروہ دھندہ سالہا سال سے سر عام جاری و ساری ہے ۔ دور دراز سے نشہ پینے والے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اس علاقے میں آ تے ہیں اور نشہ پی پی کر چند ہفتوں کے بعد لقمہ اجل بن جاتے ہیں ۔ پولیس کے ریکارڈ کے مطابق نا معلوم مرنے والوں کی تعداد سینکڑوں میں بتائی جاتی ہے ۔ نشہ پینے والے ہی اس علاقے میں چوریوں ، ڈکیٹیوں میں ملوث ہیں ، جو اپنے نشہ کی لت پوری کرنے کے لئے خونی ڈکیٹیوں میں ملوث ہیں ۔ ان تھانوں میں لگنے والے پولیس افسران منشیات فروشوں سے رشوت لے لے کر کروڑ پتی بن گئے ۔ بعض دفعہ نمائشی طور پر اس علاقے میں منشیات فروشوں کے خلاف آپریشن شروع کیا جاتا ہے مگر چند روز بعد ہی با اثر افراد کے دبائو پر خفیہ ہاتھ پولیس کو آپریشن ختم کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں ۔ حال ہی میں ڈی آئی جی شیخوپورہ رینج نے اس علاقے میں منشیات فروشوں کے خلاف گرینڈ آپریشن شروع کیا ، کئی بدنام زمانہ منشیات فروشوں کے قبضے سے منشیات اور ناجائز اسلحہ کی بھاری تعداد برآمد ہوئی۔آپریشن کے بعد درجنوں منشیات فروش زیر زمین چلے گئے ہیں اور علاقہ چھوڑ چکے ہیں ۔ عوامی سماجی حلقوں نے پولیس کے اس آپریشن کو زبر دست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اسے جاری رکھنے کا مطالبہ کیا ہے ،ہیومن رائٹس کونسل کے صوبہ پنجاب کے صدر ﴿ر﴾میجر حبیب الرحمان میونے اعلیٰ پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ نئی نسل کو تباہ ہونے سے بچانے کے لئے یہ آ پریشن جاری رکھا جائے اور نہ صرف منشیات فروشوں کو پکڑا جائے بلکہ ان منشیات فروشوں کی پشت پناہی کرنے والے با اثر افراد کو بھی گرفت میں لایا جائے اور منشیات فروشوں سے منتھلیاں لے کر منشیات فروخت کروانے والے پولیس ملازمین کو بھی ملازمت سے بر خاست کیا جائے

یہ بھی پڑھیں  وہاڑی:وہاڑی کے نواحی علاقہ اڈہ گڑھا موٹر کے قریب تاجر کی دوکان میں مبینہ طور پر ڈکیتی کی کوشش

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker