تازہ ترینعلاقائی

پھولنگر:اللہ کے راستے میں لڑکرمرنے والے شہادت کے درجے پرفائض ہوتےہیں

phoolnegarبھائی پھیرو(نامہ نگار) زندگی کے تمام معاملات میں زندگی بھرشہادت حق دیتے رہنے والے بھی مرنے کے بعد شہید ہوتے ہیں مگر اللہ کے راستے میں لڑ کر مرنے والے شہادت کے اعلی ترین درجے پر فائض ہوتے ہیں۔اپنا سارا کنبہ قربان کرکے اورپیکرصبر و استقامت بن کر امام حسین نے ہر دورکے یزیدوں کے خلاف جدوجہد کا راستہ دکھایا۔ان خیالات کا اظہار معروف دینی سکالروں خلیل الرحمان چشتی،ڈاکٹر شبیر احمد منصوری،ڈاکٹر اختر حسین عزمی،اور دیگر نے سابق امیر جمات اسلامی ضلع قصور ڈاکٹر عبدالخالق مرحوم کی قائم کردہ بھائی پھیرو کی معروف دینی درسگاہ دارالاصلاح کے تئیسویں سالانہ پروگرام کے شرکا سے خطاب کرتے گزشتہ روز کیا۔حنیف شادی ہال میں ہزاروں افراد سے ،،شہادت حق اور شہدا،،کے موضوع پر خطاب کرتے خلیل الرحمان چشتی نے کہا کہ ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ زندگی کے سارے معاملات میں ہر لمحہ اور ہر کام میں اللہ اور اسکے رسول کے احکامات پر عمل کرنے کی گواہی دے۔حالات چاہے کتنے بھی کٹھن ہوں اور یزیدیت کے پیروکار سلطان چاہے کتنے ہی ظالم اور جابر ہوں انکے سامنے امام عالی مقام کی طرح کلمہ حق بلند کرنے والا ہی شہادت کے رتبہ عظیم پر فائض ہوتا ہے۔جو مسلمان ساری زندگی چلتے پھرتے زندگی کے سارے معاملات میں شہادت حق پر قائم رہیں اور انکے پائے استقلال میں لغزش نہ آئے وہ طبعی موت بھی مرے تو شہید ہے مگر جو ظالم وجابرحکمران قرآن و سنت کے بتائے ہوئے اصولوں کو توڑ کر جبری طور پرانسانوں کو ایک اللہ کی غلامی کی بجائے اپنی خواہشوں اور حکمرانی کا غلام بنائے اس کے خلاف لڑ کر جہاد کرتے ہوئے مرنے والا مسلمان شہادت کے اعلی ترین درجے پر فائض ہوتا ہے۔کئی دینی کتابوں کے مصنف ڈاکٹر اختر حسین عزمی نے کہا کہ اگر ہر مسلمان اللہ اور اسکے رسولﷺکے احکامات پر خود بھی عمل کرے اور دوسروں کو بھی نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے تو دنیا میں نیکی اور امن کا راج ممکن ہے۔معروف دینی سکالر ڈاکٹر شبیر احمد منصوری نے اپنے خطاب میں کہا دعوت اور انسانیت کی خدمت کے ذریعے اگرعوام کو قرآن و سنت کی طرف بلایا جائے تو جلد ہی تمام محکوم ،مقہور اور مجبور لوگ دین کے داعی بن جائیں گیاور پوری دنیا اسلام کے امن کے ابدی پیغام کی داعی بن جائے گی۔اجلاس سے بابر اسماعیل،ملک محمد صدیق،اقبال چاند،چوہدری محمد ارشداور دیگر نے بھی خطاب کیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button