شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / خط پوٹھو ارکیلئے القادریونی ورسٹی کاتحفہ

خط پوٹھو ارکیلئے القادریونی ورسٹی کاتحفہ

کیا نہیں سن رکھا ہے کہ سو سا ل کی پلا ننگ کر نی ہے تو تعلیم کے شعبے میں کا م کیا جا ئے،مگر، مگر ہما رے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ تعلیم عام ہو ئی تو جو مو جو د ان کی کو ن سنے گا، حقیقت یہی ہے، کو ن بد بحت تعلیم کی اہمیت سے انکا ر کر سکتا ہے، سا تھ اس بات کو بھی ذہن میں رکھیں،،
صدا قت ہو تو دل سینے سے کھنچنے لگتے ہیں وا عظ
حقیقت خو د کو منو ا لیتی ہے ما نی نہیں جا تی
خط پو ٹھو ار کے علا قے کی تعلیمی اداروں کی بات کی جا ئے تو قا رئین کی حیر انگی کے لیے اتنا ہی کا فی ہے کی راولپنڈی سے آ گے گو جر خاں کی طر ف نکلیں تو جی ٹی روڈ اور دا ئیں با ئیں جتنے گا ؤں اور قصبے ہیں، ایک طر ف چکوال، دو سر ی طر ف، کلر سید اں اور سا تھ روا ت مند رہ، گو جر خاں، پھر آ گے سو ہا ہ تک، جتنی بھی آ با دی، اس میں نو جو انوں کیلئے ایک بھی سر کا ری یو نی ور سٹی نہیں ہے، ہر تحصیل میں ایک کا لج مو جو د ہے، میر ے خیال میں اس پر وہاں کی مقا می آ با د ی کا سر کا ر کو شکر یہ بو لنا چا ہیے، اس پو رے علا قے کے لیے ایک سر کا ری یو نی ور سٹی نہیں، اور کو ئی پر ائیو ٹ ادارہ بھی اس طر ف نہیں آ یا، یا اس کو نہیں لا سکے کہ، کسی یو نی ور سٹی کا کمپس ہی یہاں بن جا ئے،تو، جو ہما رے نو جو ان دور دراز نہیں جا سکتے، خر چے نہیں بر داشت کر سکتے وہ یہاں یو نی ورسٹی کی تعلیم حا صل کر سکیں،مگر نہیں جنا ب، ایسا بھی نہیں ہو ا، ہما رے سیا ست دانوں نے کیا کوشش نہیں کی کہ سر کا ری یو نی ور سٹی یہاں بن سکے،تو خا کسا ر غلط بیا نی بلکل بھی نہیں کر ئے گا، سب نے مر جا نا ہے، اور اپنی قبر میں حسا ب دینا ہے، یہاں کے سیا ست دانوں نے علا قے کے نو جو انوں کے لیے اب سے نہیں پچا سی کے بعد روا ت سے آ گے گو جر خاں سے کچھ فا صلہ پہلے تقر بیا ا ٓ ٹھ سو کنال زمین لی تھی، وہ کیوں، وہ اس لیے کہ یہاں پو ٹھو ار یو نی ورسٹی بنے جا ئے گی، سات کے الیکشن میں (ن) لیگ کے چو ہد ری ریا ض صا حب سے اس پو ٹھو ار یو نی ورسٹی کا پو چھا تو انہوں نے کہا بیٹا ہم نے بہت عر صہ پہلے یو نی ور سٹی کے لیے زمین بھی لیاور تمام کا غذ ی کا ر و ائی مکمل کی، مگر پر و جیکٹ مکمل نہیں ہو سکا، قا رئین کہا تھا کہ جتنی سیا ست دا نوں نے اس یو نی ور سٹی کے لیے محنت کی اس کی تعر یف کرنا اخلا قی فر ض بنتا ہے، یہ کا م کم نہیں ہے کہ آٹھ سو کنا ل زمین لی، کا غذ ی کا ر وائی بھی ہو ئی، بس عما رت نہیں بنی، اب سوال یہ نہیں کر نا چا ہیے کہ وہ کا غذ ی کا روا ئی کا خر چ، اس زمین کی قیمت، اس زمین کا اب تک کو ن فا ئد ہ اٹھا تا رہا، تو خا کسا ر اتنا ہی کہے گا کہ کیا اس علا قے کے مقا می سیا ست دان کر سی رکھ کر وہاں بیٹھ جا تے، ان سیا ست دانوں کے پا س اور بھی بہت کا م کا ج ہیں، زمین سے فا ئد ہ ضر ور اٹھا یا گیا ہو گا، اب تک تو پتہ نہیں وہ آ ٹھ سو کنا ل کس کس کے نا م پر ہو گی، مگر وہاں کی عوام دل چھو ٹا نہ کر ئیں، کا غذ ی کا روا ئی مکمل ہے۔
پو ٹھو ار یو نی ورسٹی کے ایشو پر صحا فت بھی ٹھنڈ ی رہی، پچھلے دس سا لوں میں پا نچ کا لم اس پر لکھے، جس پر اچھی خا صٰ تنقید کا سا منا کر نا پڑا، مگر جب یہ اعلان سنا کی گو جر خاں سے آ گے سو ہاہ کے مقام پر ایک القا در یو نی ور سٹی کا سنگ بنیا د رکھا جا ئے گا تو بہت خو شی ہو ئی کہ اس علا قے میں ایک یو نی ورسٹی تو بنے گی، ہما رے نو جو ان، جو تعلیم کی اہمیت سے وا قف ہیں وہ یو نی ورسٹی میں اعلی تعلیم حا صل کر سکیں گے، القا در یو نی ورسٹی سر کا ری نہیں ہے یہ یو نی ور سٹی اسی طر ز سے بنے گی فنڈز سے اور اسی طر ز سے کا م کر ئے گی جیسے عمران خاں صا حب کے با قی پر و جیکٹ نمل یو نی ور سٹی، ہیں، وہ جیسے کا م کر رہے ہیں، ایسے یہ القا در یو نی ور سٹی فنڈز سے بنے گی، القا در یو نی ور سٹی کا سنگ بنیا د رکھتے ہو ئے وز یر اعظم عمران خاں صا حب کی تقر یر بہت با معنی تھی، مگر، مگر سمجھنے والوں کیلئے، با قی وز یر اعظم صا حب سے اعتر ا ض اپنی جگہ، یہاں عمران خاں صا حب نے تقر یر کر تے فر ما یا کہ نو جو انوں کو سمجھنا پڑ ئے گا کہ ہما را ملک کس مقصد کے تحت بنا تھا اور آ ج تک ہما ری ریا ست فیل کیوں ہے،اور کیو ں بہتری نہیں آ رہی، اس کے لیے ہمیں، اسلا م، روحانیت کی تعلیم، اسلام کی تا ریخ پر رسر چ پر کا م کر نا ہو گا، سکا لر جب اس القا در یو نی ور سٹی سے با ہر نکلیں گے تو وہ اسلا م، رو حا نیت اور سا ئنس کو اکٹھا کر ئیں گے تو دنیا ہما ری اسی طر ح عز ت کر ئے گی جیسے پہلے سا ت سو سال تک صر ف مسلمان ہی سا نئس دان، اسکالر، اور انی کی ر سر چ پو ری دنیا میں ما نی جا تی تھی، مگر افسو س کے اس طر ح کا ادارہ نہیں بنا یا گیا اور پو ری دنیا میں جب اسلام مذ ہب کی تو ہین کی جا تی ہے تو ہم مسلمان ٹھیک سے دفا ع نہیں کر پا تے پو ری دنیا کے سا منے کیونکہ ہم نے اسلا م کی تا ریخ، رو حا نیت اور سا ئنس پر کا م نہیں کیا، اسکا لر نہیں پید ا کیے جو ہما را دفا ع کر سکیں، مد ینہ ریا ست کا ذکر ہو ا، جس میں خاں صا حب نے فر ما یا کہ اہم اصو ل یہ ہے کہ امیر سے لے کر غر یب میں دیا جا ئے، یہ سسٹم کون نہیں بنے دے رہے، چلیں زیا دہ ما ضی کی با ت نہیں کر تے پچھلے پند رہ بیس سا ل کی با ت کر تے ہیں، تو جو یہ سسٹم نہیں بنے دیتے رہے یا بنا نا نہیں چا ہتے تھے ان میں سے کچھ اہم لو گ خاں صا حب کے سا منے اسی اسٹیج پر تشر یف فر ما تھے، لیکن جب ملک کا وز یر اعظم ایسے خیا لا ت کا اظہا ر کر ئے کہ وہ تا ریخ پڑ ھ کر آ یا ہے کہ سا ت سو سا ل مسلمان کس و جہ پو ری دنیا پر حکومت کر تے رہے، اور القا در جیلا نی جیسے لو گوں کی زند گی کا مقصد کیا تھا، اس بنا پر ایک ایسا ادارہ بنا یا جا ئے گا یہاں مکمل رسر چ ہو گی، اور اسلا می تا ریخ اور سا ئنس ، اور ٹیکنالو جی پر تعلیم دی جا ئیگی تو امید رکھنی چا ہیے کہ، زیا دہ نہیں کم از کم ایک ادارہ تو ایسا بنے جا رہاہے، اور وہ بھی سر کا ری نہیں ہے، جس کا ڈر ہو کہ اس کا حال اس آ ٹھ سو کنال سر کا ری زمین جیسا ہو گا،
خاں صا حب نے جب اس لقا در یو نی ور سٹی کے لیے سو ہاہ کی جگہ کو منتخب کیا ہو گا،وہاں ذکر ضر ور ہوا ہو گا کہ اس علا قے میں پہلے کو ئی یو نی ور سٹی نہیں تو آگے سے جو اب ملا ہو گا کہ پو ٹھو ار یو نی ور سٹی کے لیے سر کا ری کھا تے سے زمین لی گئی تھی، تو خاں صا حب کو اس پر ایکشن لینا چا ہیے کہ اس تمام کا غذی کا روا ئی میں سر کا ری خر چ ہوا، اس کے ذمہ دارنہ کو کچھ تو پو چھ گچھ کی جا ئے، سز ا کا خا کسار نے نہیں کہا، کیونکہ پاکستان میں سیا ست دانوں کی سز ا ملے یہ بہت مشکل کا م ہے، کیا نہیں سن رکھا ہے کہ سو سا ل کی پلا ننگ کر نی ہے تو تعلیم کے شعبے میں کا م کیا جا ئے،مگر، مگر ہما رے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ تعلیم عام ہو ئی تو جو مو جو د ان کی کو ن سنے گا، حقیقت یہی ہے، کو ن بد بحت تعلیم کی اہمیت سے انکا ر کر سکتا ہے، سا تھ اس بات کو بھی ذہن میں رکھیں،،

یہ بھی پڑھیں  پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان دوسرا ون ڈے آج کھیلا جائے گا