بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

باکمال لوگ ۔۔۔ لاجواب سروس ۔۔۔ موجاں ای موجاں

bashir ahmad mirکہا جاتا ہے کہ سابق حکومتوں نے لوٹ مار کی ،کچھ کہتے ہیں زرداری سب لوٹ رہا ہے اور کچھ اس امید پر ہیں کہ آنے والے انتخابات کے نتیجہ میں ہونے والی تبدیلی سے لوٹ مار بند ہو جائیگی ۔یہ سب مفروضے عوام کے ذہین میں گردش کرتے ہیں مگر ذمینی حقائق کچھ اور نظارہ دکھا رہے ہیں ۔ہمارے ملک کو اصل لوٹنے والے’’ صدا بہار حکمران ‘‘ہیں جن پر کسی کی نظر نہیں پڑ رہی ہے۔آج قارئین کو ایک ایسے شاہی محکمہ کے شاہانہ کردار سے آگاہی کرنا ضروری سمجھتا ہوں جو ملک کا اہم قومی ادارہ ہونے کا اعزاز رکھتا ہے اور اس سے عوام کم اور ’’خواص‘‘ خوب فائدہ اٹھائے جا رہے ہیں ۔ان خواص میں کوئی سیاستدان شامل نہیں ،ذرا غور فرمائیں ۔۔؟؟؟
اطلاعات کے مطابق قومی فضائی کمپنی پی آئی اے جس کا مجموعی خسارہ 140ارب سے تجاوز کر گیا ہے کے افسران اور ملازمین نے گزشتہ 3 سال کے دوران اپنے اور اہلخانہ کیلئے ساڑھے 5 ارب روپے کے 4 لاکھ 49 ہزار 995 مفت ٹکٹ حاصل کئے ، قومی ایئر لائن کے ہزار سے زائد گریجویٹ و انڈر گریجویٹ ملازمین ایک لاکھ روپے سے زائد ماہانہ تنخواہ لے رہے ہیں۔ وزارت دفاع کے ذرائع کے مطابق 11-12-2010 میں پی آئی اے کے افسران و ملازمین کیلئے (اندرون و بیرون ملک سفر کیلئے) استحقاق اور سرکاری ڈیوٹی کے نام پر 449995 ٹکٹ مفت جاری کئے گئے جن کی مالیت محدود اندازے کے مطابق ساڑھے پانچ ارب روپے سے زائد بنتی ہے۔ وزارت دفاع کے اعدادوشمار کے مطابق پی آئی اے کے افسران و ملازمین نے 2010ء میں 2 ارب 10 کروڑ روپے کے مفت ٹکٹ حاصل کئے جن میں 78,516 ٹکٹ ذاتی کام کیلئے (استحقاقی) جبکہ 97,149 ٹکٹ سرکاری ڈیوٹی کے نام پر حاصل کئے گئے۔ 2011ء میں 2ارب 21 کروڑ روپے کے 1,84,403 ٹکٹ مفت حاصل کئے گئے جن میں 93,707 ٹکٹ ذاتی کام کیلئے (استحقاقی) جبکہ 90,696 ٹکٹ سرکاری ڈیوٹی کے نام پر مفت حاصل کئے گئے جبکہ 2012ء میں (جنوری تا نومبر) ایک ارب 7 کروڑ روپے کے 89,927 ٹکٹ پی آئی اے کے افسران و ملازمین اور ان کے اہلخانہ نے مفت حاصل کئے جن میں 71,894 ٹکٹ ذاتی کام کیلئے (استحقاقی) جبکہ 18,033 ٹکٹ سرکاری ڈیوٹی کے نام پر حاصل کئے گئے۔ واضح رہے کہ پی آئی اے کا مجموعی خسارہ اس وقت 140 ارب روپے ہے جوکہ گزشتہ تقریباً 20 ، 25 سال سے مسلسل بڑھ رہا ہے اس لحاظ سے پی آئی اے کا سالانہ خسارہ 6 ارب روپے سالانہ بنتا ہے۔ اس کے برعکس سالانہ پی آئی اے کے ملازمین پونے 2 ارب روپے کے ٹکٹ مفت حاصل کرتے ہیں لہٰذا پی آئی اے کا نصف خسارہ ملازمین و افسران اور ان کے اہلخانہ کے مفت سفر کرنے کی وجہ سے ہے اگرحکومت پی آئی اے کے ملازمین و افسران اور ان کے اہلخانہ کے مفت سفر پر پابندی لگائی جائے تو پی آئی اے کا نصف خسارہ کم کیا جاسکتا ہے۔ علاوہ ازیں وزارت دفاع کے ذرائع سے معلوم ہوا کہ پی آئی اے میں 988 ملازمین ایسے ہیں جو یاتوگریجویٹ یا پھر انڈر گریجویٹ ہیں جبکہ وہ ایک لاکھ روپے سے زائد ماہوار تنخواہ وصول کر رہے ہیں جن میں انڈر گریجویٹس کی تعداد 488 ہے۔
اب آپ مذکورہ مصدقہ اعداد و شمار سے اندازہ لگائیں کہ ہمارے ملک کو دیمک کی طرح چاٹنے ،کاٹنے اور کھانے والے درپردہ ’’مافیا‘‘ کس صفائی اور کمال مہارت سے کھوکھلا کرتے جارہے ہیں ۔ہماری قومی بے حسی ،بے بسی اور بے خبری کا یہ عالم ہے کہ ملک کو لوٹنے والے مزے سے لوٹ مار میں مصروف عمل ہیں جبکہ کوتاہ اندیش اس کا سارا ملبہ حکمرانوں کے سر تھوپ دیتے ہیں ۔اب آپ خود جائیزہ لگائیں کہ جس ادارے کو منافع بخش ہونا چاہئے اس کا سالانہ خسارہ6ارب روپے سے زائد ہو رہا ہے ،کسی حکمران نے یہ نہیں سوچا کہ ان کی حکومت کو عوام میں رسواء کرنے والے کون ہیں ۔۔؟
آج پی آئی اے کا ذکرکیا ہے انشاء اللہ آئندہ کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اس ملک کے خائن ،بد دیانت اور دشمن ٹولے کے بارے بھی آگاہی کی جائے گی ۔سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ ایسا کب سے ۔۔۔۔کب تک ہوتا رہے گا ۔۔۔؟؟؟کیا ہمارے قومی سیاستدان ان’’ تاریک راہوں‘‘کا ادراک کر کے قوم کا مستقبل سنوار سکیں گے ۔قوم کو ہر انتخابات سے قبل سبھی خوشخبریاں دیتے ہیں کہ ہم آکر پائی پائی کا حساب لیں گے ،ہم ملک سے کرپشن کا خاتمہ کریں کے ،ہم لوٹی ہوئی قومی دولت خزانے میں جمع کر وائیں گے مگر جب اقتدار ملتا ہے تو انہیں سمجھ نہیں آتی کہ قومی خزانہ شیر مادر سمجھ کر لوٹنے والے کون ہیں ۔۔؟اب انتخابات کی آمد آمد ہے ،ہر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف عمل ہے مگر کیا مذکورہ بالا اعداد و شمار کے مطابق کوئی اصلاح احوال بارے اپنا منشور واضح کیوں نہیں کر رہا ،کیا سب ہی اس حمام میں ننگے ہیں ۔۔؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کی سلامتی ،خوشحالی اور ترقی کے لئے ہمیں انقلابی اصلاحات لانا پڑیں گی،سطحی دعوؤں ،کاغذی وعدوں اور خوشنما نعروں سے قوم کو کب تک بہکاؤے میں رکھا جائے گا ۔یہ امر لائق توجہ ہے کہ ہمارے قومی ادارے درست خطوط پر چل پڑیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہو جائیں مگر ہمارے اندر موجود قومی ناسور جس بے رحمی اور ظالمانہ انداز سے لوٹ مار میں مصروف ہیں اس کا مقابلہ کرنا ہو گا ،جو قوم قانونی کرپشن میں ملوث ہو وہ کبھی بھی آگے نہیں بڑ ھ سکتی اس جانب آنے والی حکومت کو ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔سیاسی رہنماؤں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنی ہییت ترکیبی درست کریں ،عوام کو ربڑ سٹیمپ یا ٹشو پیپرز سمجھ کر انہیں خام مال کے طور استعمال نہ کیا جائے ۔قومی مفاد کو عزیز تر سمجھ کر ہر سیاسی جماعت کو اپنا انتخابی منشور بہتر سے بہتر پیش کر کے عوام کو آگاہی اور فیصلے میں آذادی کے مواقع فراہم کرنا ہونگے۔اگر ہم نے حالات کادرست جائیزہ لیکر اپنے اہداف کا تعین نہ کیا تو پھر’’موجاں ‘‘ منانے والے اپنا عبرت ناک انجام پڑھ لیں ،تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی۔۔۔!!!

note

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button