پاکستانتازہ ترین

’’لاجواب سروس ، باکمال لوگ ‘‘ایم ڈی پی آئی اے 7لاکھ تنخواہ لیتے ہیں، لاکھوں کے پیکج پر3افسران باہر سے تعینات کئے گئے ہیں

اسلام آباد(بیورو رپورٹ)’’لاجواب سروس، باکمال لوگ‘‘ ایم ڈی پی آئی اے 7لاکھ تنخواہ لیتے ہیں جبکہ لاکھوں کے پیکج 3افسران باہر سے تعینات کئے گئے ہیں، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قواعدو ضوابط و استحقاقات میں انکشاف، کمیٹی نے رکن اسمبلی سے بدسلوکی کرنیوالے مسافر ارجمند حسنین پر سفری پابندی عائد کرنے کی سفارش کردی، سول ایوی ایشن اتھارٹی کی یقین دہانی، نثار جٹ سے پولیس افسران کی جانب سے بدسلوکی کے معاملے پر ڈی آئی جی غلام محمود ڈوگر نے اپنی نگرانی میں غیر جانبدار انکوائری کرکے رپورٹ کمیٹی کو پیش کرنے کی یقین دہانی کرادی، فیصل آباد کے رکن قومی اسمبلی کے مسئلہ کے حل کیلئے ذیلی کمیٹی تشکیل بھی دینے کا فیصلہ، چیئرمین اسدالرحمن نے کہاہے کہ بیورو کریسی سٹیٹ کا حصہ ہے ، اراکین قومی اسمبلی کے ساتھ بدسلوکی برداشت نہیں کی جاسکتی، بیورو کریٹس منتخب اراکین قومی اسمبلی کااحترام کریں، جبکہ کمیٹی میں انکشاف ہوا ہے کہ ایم ڈی پی آئی اے 7لاکھ تنخواہ لیتے ہیں جبکہ 3افسران کو لاکھوں کے پیکج پر پی آئی اے میں تعینات کیاگیاہے۔ جمعرات کے روز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قواعدو وضوابط و استحقاقات کا اجلاس چیئرمین اسد الرحمن کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں اراکین کمیٹی، تحاریک استحقاق کے محرک اراکین سمیت متعلقہ اداروں کے عہدیداروں نے شرکت کی۔ اجلاس میں رکن قومی اسمبلی رمیش کمار سے ہوائی جہاز کے مسافروں کی بدسلوکی اور انہیں طیارے سے اتارنے کا معاملہ زیر غور آیا۔ اس موقع پر رمیش کمار نے کہاکہ میں اپنے کیس سے ودڈرا نہیں ہوا یہ کسی ایک رکن نہیں بلکہ اراکین پارلیمنٹ کی عزت و توقیر کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایک مسافر ارجمند حسنین نے نہ صرف بدسلوکی کی بلکہ ویڈیو بھی بنائی اور پھر طیارے سے نکالنے کیلئے دھمکایا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جہاز کے کیپٹن اور مسافر کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے جبکہ مسافر ارجمند حسنین پر ایف آئی آر کے ساتھ ساتھ ہوائی جہاز کی سفری پابندی عائد کی جائے اور میرے ساتھ ہونیوالی زیادتی کا ازالہ کیا جائے۔ جس پر کمیٹی اراکین نے بھی اس بات کی تائید کی جبکہ کمیٹی نے سفارش کی کہ رمیش کما ر کا مطالبہ درست ہے لہٰذا اس سلسلے میں وزارت بھی اپنی ذمہ داری نبھائے جس پر وزیر مملکت پارلیمانی امور شیخ آفتاب نے یقین دہانی کرائی کہ بدسلوکی کرنیوالے مسافر کیخلاف ایف آئی آر کا اندراج کیا جائیگا دوسری جانب سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سیکرٹری علی محمد گردیزی نے کہاکہ فضائی سفر کیلئے کوئی شخص شناختی کارڈ کے ذریعے ٹکٹ نہیں لیتا جس پر اس کے خلاف ایکشن ہوسکے البتہ ارجمند حسنین کے معاملے بارے تمام فضائی کمپنیوں کو آگاہ کیا جائیگا اور ملکی فضائی کمپنیوں پر اسے سفر کرنے کی اجازت نہیں دینگے البتہ فی الوقت تمام ائر لائنز کا اپنا اپنا سسٹم ہے اس لئے فضائی سفر پر پابندی میں مشکلات بھی درپیش ہونگی۔ اس موقع پر شگفتہ جمانی کے سوال کے جواب میں سیکرٹری سول ایوی ایشن ایشن نے بتایا کہ ایم ڈی پی آئی اے ایم ون سکیل کے تحت 7لاکھ تنخواہ لیتے ہیں جبکہ گزشتہ سال جون میں چار افسران کی باہر سے تقرری کی گئی جن میں سے ایک افسر چھوڑ گئے جبکہ وسیم سلیمی سی ایل او کو 2.5 ملین روپے تنخواہ پر رکھاگیا جبکہ بریگیڈیئر آصف کو ایڈمنسٹریشن کی ذمہ داریوں کیلئے 7 سے آٹھ لاکھ اور جاوید آگرہ والا کو فنانس کی ذمہ داریوں کیلئے 7 سے آٹھ لاکھ تنخواہ پر ان کی خدمات لی گئی ہیں۔ اس موقع پر رمیش کمار نے مطالبہ کیا کہ لاہور میں دو پروازیں روزانہ چلتی ہیں اس لئے ہم گزارش کرتے ہیں اس کو کم کرکے سندھ کو ریلیف دیا جائے کیونکہ لاہور کیلئے موٹروے پر بھی بآسانی سفر کیا جاسکتاہے۔ بعدازاں فیصل آباد سے رکن اسمبلی نثا ر جٹ کی تحریک استحقاق کا معاملہ زیر غور آیا جس میں ایک جی پی او آفیسر عثمان صلاح الدین وردگ کی جانب سے رکن قومی اسمبلی کو اسلحہ کے زور پر دھمکانے کی تحریک استحقاق پر بات کرتے ہوئے قرآن پاک پر حلف دیا اور کہاکہ نثار احمد جٹ نے کہاکہ وہ کسی کام کے سلسلے میں جی پی او آفس گئے مگر جیسے ہی وہ عثمان وردگ کے دفتر میں گئے تو عثمان وردگ نے ان پر پستول تان لی جس پر دیگر ساتھیوں سے ملکر انہیں غیر مسلح کیا مگر اسکے باوجود ایف آئی آر بھی رکن قومی اسمبلی کیخلاف درج کرلی گئی اور یہ معاملہ گزشتہ سوا سال کا ہے مجھے انصاف نہیں مل رہا اور نہ ہی میری شنوائی ہورہی ہے جس پر عثمان وردگ نے کہاکہ میں بیان ریکارڈ کراچکاہوں اب معاملہ کمیٹی کے سامنے ہے اگر یہ معاملہ یہاں افہام و تفہیم سے حل نہ ہواتو پھر وہ اگلے فورم پر جائینگے جس پر تمام اراکین کمیٹی نے شدید رد عمل کا اظہار کیا اور کہاکہ ایسا لگتاہے کہ عثمان وردگ اپنے کئے پر پشیمان نہیں ہیں اور الٹا اراکین کو ہی دھمکا رہے ہیں جس پر ایڈیشنل سیکرٹری مواصلات شاہد اشرف تارڑ نے اس رویہ پر پوری کمیٹی سے معذرت کی اور کہاکہ اس وقت دونوں جانب سے قرآن پاک پر حلف ہوچکے ہیں ا س لئے اس معاملے کو طول دینے کی بجائے افہام و تفہیم سے حل کیا جائے جس کے بعد کمیٹی اراکین کے دباؤ پر عثمان وردگ نے بھی کمیٹی اراکین سے معافی مانگی اور بعدازاں نثار جٹ سے معانقہ کیا جس پر اس معاملے کو حل کرلیاگیا بعدازاں سابق آئی جی پنجاب خان بیگ ، ایس ایس پی فیصل آباد اور ایس ایچ او تھانہ ریل بازار کی بدسلوکی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا جس میں پولیس افسران نے نثار جٹ سے بدسلوکی کی تھی اس موقع پر نثار جٹ نے ایک ویڈیو کلپ بھی دکھایا جس کے بعد ڈی آئی جی غلام محمود ڈوگر نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے کی وہ ازخود انکوائری کرینگے اور رکن اسمبلی کے ساتھ ہونیوالی زیادتی کا ازالہ کیا جائیگا جس پر کمیٹی نے تمام اراکین کی رائے سے ذیلی کمیٹی تشکیل دے کر معاملہ جلد از جلد حل کرنے کی ہدایت کردی اور ڈی آئی جی غلام محمود ڈوگر سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کی اپنی نگرانی میں انکوائری کرائیں۔ بعدازاں چیئرمین اسدالرحمن اور دیگر اراکین کمیٹی نے اپنے کمنٹس کے دوران کہاکہ بیورو کریسی سٹیٹ کا حصہ ہے ، اراکین قومی اسمبلی کے ساتھ بدسلوکی برداشت نہیں کی جاسکتی، بیورو کریٹس منتخب اراکین قومی اسمبلی کااحترام کریں، جبکہ کمیٹی میں انکشاف ہوا ہے کہ ایم ڈی پی آئی اے 7لاکھ تنخواہ لیتے ہیں جبکہ 3افسران کو لاکھوں کے پیکج پر پی آئی اے میں تعینات کیاگیاہے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button