انور عباس انورتازہ ترینکالم

وزیر اعظم ہاؤس اور میاں نواز شریف

anwar abasگذشتہ دنوں ایک خبر کیا چھپی گویا ہر طرف ہلچل مچ گئی۔غریب کے چائے خانے سے لیکر گلی محلوں کے تھڑوں تک اور فائیو سٹار ہوٹلوں کی لابئیوں سے ملک کے بڑے سے بڑے ڈرائینگ روموں تک کو اپنے زیر تسلط لے گئی۔مقصد یہ کہ عام گاؤں کے چوپال سے بڑے بڑے شہروں میں یہی ایک خبر موضوع سخن بنی ہوئی ہے۔خبر کیا ہے ۔آپ بھی جان لیجئے کہ ’’ وزیر اعظم میاں نواز شریف وزیر اعظم ہاؤس کو بطور رہائش گاہ استعمال نہیں کریں گے بلکہ کسی اور جگہ رہیں گے۔‘‘یار لوگ اپنے تئیں خبر کی وضاخت کرنے لگے۔مسلم لیگ نواز کے میڈیا مینگر کے فرائض سرانجام دینے پر مامور ایک کالم نگار نے لکھا ہے کہ ’’لیکن میرے خیال میں ایسے اقدامات عملی طور پر با مقصد اور نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتے ۔شائد ان سے قومی خزانے پر بوجھ کم نہیں ہوتا ممکن ہے کچھ بڑھ جاتا ہو۔ایوان صدر ،وزیر اعظم سکریٹریٹ ،وزیر اعظم ہاؤس ،سپریم کورٹ ہائی کورٹس،سرکار سکریٹریٹ اور ایسی دیگر عمارات کچھ مخصوص ضرورتوں اور تقاضوں کو پیش نظر رکھ کر ہی تعمیر کی جاتی ہیں۔اگر ان عمارات کو متعینہ مقاصد سے الگ کر کے استعمال کرنے کی کوشش کی جائے توانکی افادیت بہت کم ہو جاتی ہے۔اور بعض اوقات وہ ناکارہ ہو کر رہ جاتی ہیں۔‘‘ آگے چل کر مذید لکھتے ہیں کہ ’’وزیر اعظم ہاؤس کسی فرد کے لیے نہیں پاکستان کے چیف ایگزیکٹو کے لیے بنا ہے۔دنیا بھر سے آئے مہمانوں کے سامنے پاکستان کا باوقار تشخص قائم رکھنا بھی ضروری ہے‘‘ لیکن دوسروں کی مانند میں اس خبر کو ایک اور زاوئیے سے دیکھتا ہوں۔ اور اسے میاں نواز شریف کا ایک اچھا فیصلہ قرار دیتا ہوں۔اور سمجھتا ہوں کہ اگر میاں نواز شریف کی جانب سے وزیر اعظم ہاؤس میں عہائش پزیر نہ ہونے کی خبر حقیقت پر مبنی ہے تو انکے اس فیصلے کے دورس نتائج برامد ہوں گے جو کہ میاں نواز شریف دیکھ رہے ہیں۔میاں نواز شریف پہلے حکمران نہیں ہوں گے جو سرکاری رہائش گاہ کے استعمال کی بجائے کسی دوسری جگہ کو استعمال کرنے کی روایت قائم کرنے جا رہے ہیں۔مسلم لیگ نواز کے سابق صدر اور پنجاب کے نامزدوزیر اعلی میاں شہباز شریف جس برادر ملک ’’ترکی ‘‘ کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے۔اسی ترکی کے سابق صدر سلیمان ڈیمرل کی مثال ہمارے سامنے ہے۔’’سلیمان ڈیمرل بطور صدر ترکی ایوان صدر میں رہائش پذیر نہیں تھے۔انکی رہائش ایوان صدر کے بالمقابل سڑک کے دوسری جانب اپنی ذاتی رہائش گاہ میں تھی۔اور وہ صبح دفتری اوقات میں گھر سے نکلتے اور ایوان صدر میں واقع اپنے دفتر پہنچ جایا کرتے تھے۔‘‘رہا اعتراض کہ میاں نواز شریف غیر ملکی مہمانوں سے ملاقاتیں کہاں کیا کریں گے۔تو یہ اعتراض کرنے والوں کے ذہن میں یہ بات ہونی چاہئے کہ نواز شریف نے صرف اپنی ذاتی رہائش وزیر اعظم ہاؤس سے باہر رکھنی ہے ۔باقی معمولات تو وہ صبح وزیر اعظم ہاؤس میں واقع اپنے دفتر میں ہی انجام دیا کریں گے۔اور غیر ملکی سربراہان اور دیگر وفود سے میاں نواز شریف کی ملاقاتیں وہیں میٹنگ ہال میں ہی ہوا کریں گی۔میرے خیال میں میاں نواز شریف کی جانب سے وزیر اعظم ہاؤس میں رہائش پذیر نہ ہونے کے فیصلے اور محرکات کے پیچھے اکتوبر 1999 کی اس بھیانک رات کا خوف پوشیدہ ہے،جس رات جنرل پرویز مشرف اور انکے ساتھیوں کی طرف سے انکی حکومت کا دھڑن تختہ کر دیا گیا تھا ۔اگر واقعی یہ خوف ابھی تک انکے دماغ میں موجود ہے تو انہیں اپنی حفاظت کے لیے اقدامات کرنے کی پوری پوری آزادی اور حق حاصل ہے۔ہو سکتا ہے کہ جیسے خبر یں گردش میں رہی ہیں ،کہ صدر آصف علی زرداری نے ایوان صدر میں اپنے ذاتی سکیورٹی گارڈ تعینات کر رکھے ہیں اور وہ رات کو اپنے پاس بھرا ہوا پستول بھی رکھتے ہیں۔ہو سکتا ہے کہ میاں نواز شریف بھی بطور وزیر اعظم اپنی ذاتی سکیورٹی بھی رکھیں کیونکہ سرکاری اہلکاروں کا کیا بھروسہ کہ وہ کب اپنے ’’اصل باس‘‘ کے احکامات پر عمل شروع کردیں۔یار لوگوں نے ایک غیر مستند وہ بھی ایک ذرائع کی جاری کردہ خبر پر اتنا شور برپا کیا ہوا ہے۔ذرائع کے حوالے سے شہ سرخیوں کی زینت بننے والی خبریں در اصل متعلقہ رپورٹرز کے اپنے دماغ کی اختراع ہوتی ہیں۔اور وہ ایسی خبروں کی اشاعت سے حکمرانوں کو اپنی سوچ کے مطابق چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔اس خبر پر رائے زنی کرنے والے حضرات نے اتنا بھی گوارا نہیں کیا کہ وہ میاں نواز شریف سے تو اس خبر کی تصدیق وغیرہ کر لیں۔جب کہ وہ خود میاں نواز شریف تک اپنی رسائی کا بڑا دعوی کرتے ہیں۔میرے خیال میں ان لوگوں کو پرابلم یہ ہے کہ اگر میاں نواز شریف وزیر اعظم ہاؤس میں رہائش نہیں رکھتے تو ان کے ٹاٹھ باٹھ کا کیا بنے گا؟کیونکہ وزیر اعظم ہاؤس کے ٹیلیفون نمبر سے فون کر نے کا ایک الگ ہی رعب اور دبدبہ ہے۔اگر ایمانداری سے دیکھا جائے تو میاں نواز شریف کا فیصلہ(اگر انہوں نے خود کیا ہے تو) بہترین ہے۔کیونکہ بڑی گاڑیوں کے استعمال سے اور بڑے بڑے گھروں میں رہنے سے تکبر اور غرور دل اور دماغ میں ’’گھر ‘‘ کر جاتا ہے۔خرابی بھی یہی ہے۔
ہمارے حکمرانوں کے دماغ بھی اسی وجہ سے خراب ہوتے ہیں۔وزیر اعظم ہاؤس میں نہ رہنے کے فیصلہ کے ساتھ ساتھ میاں نواز شریف کو اس طرف بھی توجہ دینی ہوگی کہ کہیں انہیں ’’خوشامدیوں‘‘ اور جی حضوریوں‘‘ کا گروہ اپنے نرغے میں نہ لے لے۔اگر انہوں نے اس گروہ سے خود کو بچائے رکھا تو پھرانہیں ’’ستے خیراں‘‘ نئیںnote

یہ بھی پڑھیں  ۔،۔ لہو کی پکار ۔،۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker