تازہ ترینجاوید صدیقیکالم

وزیر اعظم نواز شریف پھنس گئے۔۔

javidگزشتہ تین ہفتوں کے دوران بین الاقوامی سطح پر کرپشن اور منی لانڈری کے میگا کیسس سامنے آئے ہیں، یہ کیسس پاناما لیگس کمپنی نے اپنی کئی سالوں کی تحقیق کے بعد دنیا کے سامنے پیش کردیئے۔۔ جن میں کئی ممالک کے سربراہان کیساتھ ساتھ پاکستان سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد دو سو سے زائد ظاہر کی گئی۔۔!! یوں تو کئی ممالک کے سربراہان نے اخلاقی طور پر اپنے عہدوں سے مستعفی ہوئے۔۔برطانیہ کےوزیراعظم نے خود کو احتساب کیلئے اسمبلی میں پیش کیا اور انکوائری کیلئے تمام شرائط قبول کیں۔!! یہاں میںنے اپنے کالم کیلئے جو قلم اٹھا یا ہے وہ ریاست پاکستان کے سب سے بڑے منصب پر فائز ووزارت عظمیٰ پر فائز میاں نواز شریف ہیں ۔ یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ سابقہ حکومت کے سربراہ آصف علی زرداری اور ان کے رفقائے کار وں نے ملکی خذانے کو لوٹنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جبکہ آصف علی زرداری کو منصب اعلیٰ ان کی بیگم بینظیر کے صدقے نصیب ہوا، نہ ان کی شہادت ہوتی اور نہ ہی عوام میںغم و غصہ کا ایسا طوفان کھڑا ہوتا کہ مخالفین بھی پی پی پی کو ووٹ دینے پر آمادہ ہوتے۔۔ سب سے زیادہ دنیا میں بینظیر کی شہادت سے ان کے شوہر کو فائدہ نصیب ہوا،شاہد دنیا کے پہلے شوہر ہیں جن کی بیگم کے مرنے سے مالی، سیاسی اور اختیارات کا فائدہ ملا۔ یہاں میرا عنوان آصف علی زرداری نہیں بلکہ موجودہ حکمران میاں نواز شریف ہیں۔ میاں نواز شریف پاکستان کے وہ سیاسی رہنما ہیں جنھوں نےتین بار وزرات عظمیٰ کا منصب سنبھالا اورپنجاب کے وزیر اعلیٰ بھی رہے، موجودہ دور میں بھی میاں نواز شریف پاکستان کے وزیر اعظم ہیں۔!!سابق جنرل ضیا الحق کےدور اقتدار میں پنجاب کے صنعت کار میاں نواز شریف کو سیاست میں لایا گیا اور ان کی بھرپور عسکری حمایت دی گئی کیونکہ ضیا الحق پاکستان پیپلز پارٹی کے وجود کو ختم کرنا چاہتے تھے اسی بنا پر ان کی مکمل سپورٹ کرکے پنجاب کی وزرات اعلیٰ کے منصب پر فائز کیا،وزارات کا مزا ہی کچھ اور ہے ہر کوئی اس کی لذت اور نشے کو برداشت نہیں کرتا پھر کیا ہوا اختیارات اور طاقت کی وجہ سے میاں نواز شریف منفی راہ کی جانب نکل پڑے، اپنے خاندان کو مالا مال کرنے کیلئے غیروں کو بھی نوازا گیا، میاں نواز شریف کی ذہنی کیفیت کی بات کی جائے تو تما موہ حجرات جنکا ان سے بلواسطہ یا بلا واسطہ رابطہ رہا ہے وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ نواز شریف ضدی،اکڑو، ہٹ دھرم اور کمال درجہ بیوقف انسان ہیں ، انہیں چاپلوس، منافق،خود غرض لوگ بہت پسند ہیں، انہیں ہمہ وقت جھوٹی تعریفیں سننا بہت پسند ہے۔۔!! میاں نواز شریف کے مزاج میں شاطر پن، چالاکی، منافقت، جھوٹ ، لالچ اور دولت کی ہوس انتہا کو ہے!! حقیقت سامنے بھی رکھی جائے تب بھی یہ صاف انکار کرنے کے عادی ہیں، ان کی شخصیت غلیظ پن سے آراستہ ہے، غلاظت کا معاملہ تو یہ ہے کہ ان کے خاندان کے ہر فرد کیساتھ کیساتھ ان کی سیاسی جماعت کے لوگ بھی جھوٹ و غلاظت سے بھرے ہوئے ہیں۔حالیہ دنوں میں میاں نواز شریف نے قوم سے خطاب کیئے اپنے ہر خطاب میں اپنے ذاتیات کی تسکین اور اولادوں کی تعریف کے سوا کچھ بیان نہ کیا۔۔!! سب سے پہلے تو یہ بتائیں کہ کیا آج تک انھوں نے عوام کے سامنے قرض اتارو ملک سنوارو کی مد میں جو کھربوں روپے جمع کیئے وہ کہاں گئے ؟؟ جو شخص بار بار مکہ و مدینہ کی زیارت کو جائے اور جھوٹ سے اسقدر جڑا رہے کہ اسے نہ خدا کا ڈر ہو اور نہ نبی ﷺ کا ،ایسے شخص کا کیا کردار ہوگا!! میاں نوازشریف عوام اور اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کو دھوکہ دے سکتے ہیں مگر وہ رب الکائنات جو ہر شے پر غائب ہے اسے دھوکہ نہیں دیا جاسکتایہی وجہ ہے کہ رب نے مسلسل میاں نواز شریف کو ڈھیل چھوڑرکھی تھی لیکن شائد مظلموں کی فریادیں بہت بڑھ گئی کہ رب کو رسی کھنچنی پڑی۔۔!! وزیراعظم میاں نواز شریف اب بہت بری طرح اپنی ہی چالوں میں پھنس چکے ہیں ، جتنے بھی پیترے بدل لیں ہر پیترا خود ان کیلئے اذیت ثابت ہوگا بہتر یہی ہے کہ اب بھی اپنے گناہوں کا اعتراف کرکے ملکی خذانے کی لوٹی ہوئی دولت واپس کردیں بصورت یہ اپنے بھیانک انجام کیلئے تیار ہوجائیں، اب عوام اور افواج پاکستان ایک پیج پر ہیں مارشل لا بھی آیا تو عوام خوش آمدید کہیں گے۔دوسری جانب آصف علی زرداری بھی قومی خذانے کی لوٹی ہوئی دولت واپس کرنے کیلئے جلد اعلان کریں تو یہ ان کے اور ان کے اراکین کیلئے بہتر ثابت ہوگا یہی سلسلہ دیگر سیاسی جماعتوں کا بھی ہے یہاں یہ یاد  رکھنے کی بات ہے کہ پاکستان چند ایک سیاسی جماعت کے علاوہ بڑی اور کثیر سیاسی جماعتیں ایسی ہیں جو مکمل کرپشن، بد عنوانی میں ملوث رہی ہیں!! پاکستان بہت جلد اپنے اندر کےزہریلے جراثیم سے پاک ہونے والا ہے ۔۔کرپشن، بدعنوانیاں ہی اصل بیناد ہیں پاکستان کو کھوکھلا کرنے کیلئے۔۔ کرپشن، بدعنوانیاں ہی لاقانونیت کو فروغ دیتی ہیں۔۔ کرپشن، بدعنوانیاں ہی انصاف کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔۔ کرپشن، بدعنوانیاں ہی درسگاہوں کی تباہی کا ذمہ دار ہیں ۔۔ کرپشن، بدعنوانیاں ہی پولیس گردی کوفروغ دیتی ہیں ۔۔ کرپشن، بدعنوانیاں ہی معاشرے کو بد حال اور اخلاقیات سے گراتی ہے۔۔ کرپشن، بدعنوانیاں ہی مہنگائی کا سبب بیتی ہیں، کرپشن، بدعنوانیاں ہی خود کشی کا باعث ہیں۔۔ کرپشن، بدعنوانیاں ہی عصبیت و نفرت کو جنم دیتا ہے۔۔ کرپشن، بدعنوانیاں ہی غداروں کو تقویت بخشتا ہے ۔۔ کرپشن، بدعنوانیاں ہی پاکستان کی تہذیب کی تباہی کا سبب ہے۔۔ کرپشن، بدعنوانیاں کا خاتمہ ناگزیر ہوچکا ہے اسی لیئے سب سے پہلے وزیر اعظم اور ان کی جماعت کے تمام وزرا، مشیران کی کرپشن، بدعنوانیوں کا احتساب لازم و ملزوم ہوچکا ہے اگر اس وقت میاں نواز شریف کا احتساب فی الفور شفاف، نیک نیتی کی بنیاد پر نہ کیا گیا تو پھر پاکستان کا اللہ ہی حافظ ہے کیونکہ میاں نواز شریف اور ان کی فیملی کا احتساب تمام کیلئے شعل راہ ثابت ہوگا بصورت عوام اور جرنیل کے بوٹ ہی ان لٹیروں کواحتساب کریں گے ، میاں نواز شریف سمیت تمام کرپٹ ، بد عنوان سیاسی جماعت اور ان کے رہنما سیاسی شہید ہونے کیلئے پینترے بدلتے جارہے ہیں اور جھوٹ در جھوٹ بول کر خود کو محفوظ سلجھ رہے ہیں اس زمانہ بدل گیا ہے یہ باز نہ آئے تواپنی گناہوں کا عذاب خود بھتنا پڑیگا۔ انشا اللہ ضرور بلضرور۔۔ اللہ پاکستان کا حامی و ناظر رہے آمین۔ پاکستان زندہ باد ،پاکستان پائندہ باد۔۔

یہ بھی پڑھیں  پنجاب اسمبلی میں مالی سال 2017-18ء کا 85ارب40کروڑ28لاکھ15ہزار روپے کا ضمنی بجٹ پیش

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker