انور عباس انورتازہ ترینکالم

پوہ کی سردی اور ہماری سیاست

anwar abas’ پوہ کے مہینے کی یخ بستہ سردی نے ہر چیز کو ٹھنڈا ٹھار کر کے رکھ دیا ہے۔ابلکہ سب کی قلفی جما دی ہے۔لیکن اگر اس غضب ناک ٹھنڈ کا کسی شے پر زور نہیں چلا تو وہ شے ہمارا سیاسی موسم ہے۔جس نے خود کو نہ صرف تمام موسمی اثرات سے محفوظ رکھا ہوا ہے۔بلکہ جیسے جیسے پوہ کی راتیں ٹھنڈی ہوتی جا رہی ہیں ویسے ویسے ہی سیاسی موسم کی حدت میں بے پناہ اضافہ بھی ہو تا جا رہا ہے۔دہشت گردوں اور تمام مافیاز کی جانب سے استعمال کیے جانے والے بارود کی تپش بھی اپنا الگ سے رنگ دکھا رہی ہے۔ہماری قومی سلامتی کو ہدف بنانے والے دہشت گرد اپنی مربوط حکمت عملی کے تحت مسلسل پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔کراچی اور بلوچستان میں لاشوں کا گرنا معمول کا حصہ بن کر رہ گیا ہے۔بم دھماکے ہوں یا ٹارگٹ کلنگ اور یا پھر لاپتہ نوجوانوں کی خبریں ۔ ان سب کا ہم پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔کسی کی آنکھ پر نم نہیں ہوتی۔۔۔۔کسی ایک گھر میں بطور احتجاج بھارتی چینلز دیکھنا بند نہیں کیے جاتے۔۔۔۔دہشت گردی کی ہر چھوٹی بڑی واردات کے بعد قوم کو سنائی جاتی ہے کہ سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ پھر اس سے اگلی واردات پر کہا جاتا ہے کہ سکیورٹی ریڈ الرٹ کر دی گئی ہے۔اگر سکیورٹی ہائی الرٹ اور سکیورٹی ریڈ الرٹ کے بارے میں کیے جانے والیاب تک کے تمام اعلانات کو جمع کیا جائے تو کسی چھوٹی سے بھی چھوٹی دہشت گردی کی واردات کا رونما ہو جانا ناممکنات میں سے ہونا چاہئیے ۔لیکن بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اایسا نہیں ہوتا۔ہمارے عوام کی مال جان کے تحفظ پر مامور قانون کے رکھوالے اور دیگر ادارے اپنے فرائض کی ادائیگی احسن طریقے سے نبھانے میں بری طرح ناکام ثابت ہوئے ہیں۔قانون کے ان رکھوالے اداروں کی ناکامی کی دو ہی وں وہات ہو سکتی ہیں۔(۱) یہ کہ ان اداروں کے اعلی حکام اور اہلکار عوام کے تحفظ کی اہلیت اور صلاحیت سے محروم ہیں(۲)یا انہیں دہشت گردوں اور دیگر عوام دشمن عناصر کے خلاف پوری قوت اور شدت سے کام کرنے کی آزادی حاصل نہیں ہے۔یا پھر یہ دہشت گردوں کے ہاتھوں اپنی معاشی مجبوریا بیچ چکے ہیں۔ تیسری کوئی وجہ ہی دکھائی نہیں دیتی۔۔۔۔۔۔آخر ی وجہ میں مجھے تو رتی بھر صداقت نظر نہیں آتی کیونکہ کوئی بھی حکومت دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کو عوام کی عزت آبرو اور جان و مال سے کھیلنے کھلی چھٹی دینے کی متحمل نہیں ہو سکتی ۔اسکی وجہ یہی کافی ہے کہ اسے عام انتخابات میں عوام کے پاس ووٹوں کی بھیک مانگنے جانا ہوتا ہے۔۔۔۔اور اگر حکومتیں خود ہی حکومتیں اور وہ بھی جمہوری حکومتیں دہشت گردوں اور جرائم پیشہ مافیہ کی وارداتوں سے چشم پوشی کرنے لگیں تو عوام کسی وقت بھی اسلامی ممالک مصر اور لیبیا کی تاریخ دہرانے کے لیے سراپا احتجاج بن سکتے ہیں۔ہاں البتہ پہلی وجہ کو زیر بحث لایا جا سکتا ہے۔اورقانون کے نگہبان اور عوام کو تحفظ فراہم کرنے والے اداروں کی اہلیت اور صلاحیت پر سوالیہ نشان لگائے جا سکتے ہیں۔اس حوالے سے میں ایک بات ضرور کہوں گا کہ دہشت گردوں اور بدامنی کی ترویج کرنے والوں کے خلاف افواج پاکستان کی قربانیاں قابل فخر اور قابل تحسین ہیں۔لیکن پولیس کا کردار کوئی قابل رشک و فخر نہیں ہے۔کیونکہ جو پولیس اہلکار چند روپوں کے حصول کے لییعصمت فروشی کے اڈوں کی دلال بن سکتی ہے اور ان اڈوں کے مالکان کو تحفظ دے سکتی ہے۔چند روپوں کی خاطر پولیس ناکوں سے بارود کی بھر ی گاڑیاں جانے دیتی ہے۔ اور جو پولیس لینڈ مافیہ قبضہ ضافیہ اور جوا خانوں کے گماشتوں کا کردار ادا سکتی ہے ۔ جو پولیس بدمعاشوں کی ساتھی بن کر شرفاء کی زندگیاں اجیرن بنا سکتی ہے۔تھانوں میں بھلے مانس انسانوں نکے ساتھ ناروا سلوک اور بد کرداروں کو تحفظ کے ساتھ ساتھ انہیں عزت دیتی ہو۔ایسی پولیس سے یہ توقعات رکھنا کہ وہ دہشت گردوں اور ٹارگٹ کلرز سے تحفظ فراہم کرے گی۔اور ملک کے امن و امان کی اینٹ سے اینٹ بجانے والے کے راستے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑی ہو جائیگی؟ اور یہی پولیس ملک کی سلامتی سے کھیلنے والے دہشت گردوں اور وطن عزیز میں فرقہ وارانہ فسادات کی آگ بھڑکانیمیں کوشاں ملک و ملت کے بد خواہوں کی بیخ کنی کے لیے سنجیدہ ہوگی ؟۔۔۔۔۔۔نہیں ایسا کابھی سوچا بھی نہیں جا سکتا کیونکہ چند ہزار روپوں سے مٹھی گرم ہونے پر کچھ بھی کرنے کا جزبہ رکھنے والی ہماری پولیس سے ایسی توقعات کرنا فضول ہے کیونکہ یہ پولیس ملک اور قوم کے لیے اس قدر سنجیدہ ہوگی یہ نا ممکن ہے۔ہاں اگر ہم نے پولیس سے ہی یہ سب کچھ کروانا ہے تو اس کے لیے ہمیں اس کوسیاسی اثر ورسوخ کے بوجھ سے نجات دلانی ہوگی۔ایک کانسٹیبل سے لیکر آئی جی تک تمام تقرریاں اور تعیناتیاں خالصتا میرٹ پر کرنا ہوں گی۔اور اس کے ساتھ ساتھ ہمیں پولیس ڈیپارٹمنٹ میں گھسے زر پرستوں زن پرستوں اور اس چند روزہ زندگی کو عیش و عشرت سے بسر کرنے کے متوالوں کو نکال باہر کرنا ہوگا۔اس کے علاوہ بھتہ خوروں دہشت گردوں اور امن و آشتی کے دشمنوں کو تحفظ مہیا کرنے اور انکی مکمل پشت پناہی کرنے والوں کو سرعام الٹا لٹکانے کا بندوبست کر۴نا ہوگا۔ہاں ایک بات یہ کہ جب تک ہم سیاسی اور مزہبی وابستگیوں سے آزاد اور بالا تر پولیس فورس تیار نہیں کرتے اس وقت تک ملک بھر میں خصوصا عروس البلاد کراچی کو امن کا گہوارہ بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔اور نہ ہی بلوچستان سے بیرونی آقاؤں کے اشاروں پر ملکی سلامتی کو داؤ پر لگانے والوں کو راہ راست پر لایا جا سکتا ہے۔آج نہیں تو

یہ بھی پڑھیں  پتوکی:رکشہ مافیا سرگرم، جگہ جگہ رکشہ سٹینڈ بن گئے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker