اعجاز راناتازہ ترینکالم

’’ تھانہ کلچر میں تبدیلی کی ضرورت ‘‘

Rana Aijaz sada e waqtپولیس افسران کی اعلیٰ تربیت اور تھانہ کلچر میں تبدیلی کی روشن مثال ، گذشتہ دنوں ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب راولپنڈی کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن میں کالج روڈ پر راولپنڈی پولیس نے ناکہ پر نہ رکنے پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں دو جواں سال بھائی شکیل اور ذیشان گولیاں لگنے سے جاں بحق ہوگئے۔ گولیاں لگنے کے بعد دونوں نوجوانوں کو ہولی فیملی ہسپتال پہنچایا گیا۔ ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی 25 سالہ شکیل جان کی بازی ہار چکا تھا جبکہ 20 سالہ ذیشان ہسپتال پہنچ کر دم توڑ گیا۔ جاں بحق بھائیوں کے گھر والوں کے مطابق وہ دکان پر کام کرنے کے بعد گھر واپس آرہے تھے کہ راستے میں ظالم پولیس والوں نے ان کی جان لے لی۔ راولپنڈی کے سی پی او اور ایس ایس پی بھی ہولی فیملی ہسپتال پہنچے اور لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور بتایا کہ 2 پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ جبکہ وزیراعلیٰ نے اس واقعہ پر پولیس حکام سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ پولیس نے نوجوانوں پر فائرنگ کرنے والے پولیس اہلکاروں پر دفعہ 302 اور 324 کا مقدمہ درج کرلیا ہے جبکہ 2 ملزم پولیس والوں کی تلاش جاری ہے۔ پنجاب پولیس کے ہاتھوں کسی بے گناہ شہری کے سرعام قتل کا پندرہ روز میں یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے پہلے ڈسکہ میں ایس ایچ او نے 2 وکلاء کو گولی مار کر قتل کردیا تھا جبکہ تین دیگر افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ اس واقعہ پر وکلاء نے زبردست احتجاج کیا تھا اور ابھی تک یہ احتجاج جاری ہے کہ راولپنڈی میں ظالم پولیس اہلکارو ں نے جرم بے گناہی کے باوجود دو نوجوانوں کو سرعام فائرنگ کرکے مار ڈالا۔ جس سے ایک بھرا پرا گھر ماتم کدہ بن گیا۔ کیا ان پولیس والوں کو خدا یاد نہیں ، کیا وہ اسی طرح اس ملک کے نوجوان کو مارتے رہیں گے؟اس حوالے سے وزیراعلیٰ نے بھی نوٹس لیا ہے نوٹس لینے سے کیا وہ نوجوان زندہ ہو جائیں گے؟ کیا آئندہ پولیس اہلکار دوبارہ ایسا جرم نہیں کریں گے؟ اور کیا ان مجرم پولیس والوں کو وہ سزا ملے گی کہ آئندہ کسی پولیس والے کو کسی بے گناہ کو اس طرح مارنے کی جرائت نہ ہو؟ وزیراعلیٰ پنجاب نے تھانہ کلچر اور پولیس کے رویے میں تبدیلی کا اعلان کئی مرتبہ کیا ہے۔ پولیس کی تنخواہوں، مراعات اور تعداد میں اضافہ کیا گیا ان کے لئے سازوسامان اور گاڑیاں بڑھائی گئی ہیں لیکن نتیجہ ابھی تک منفی ہی ہے۔ آئی جی پولیس پنجاب بتائیں کہ پولیس ناکے لگانے سے اب تک کتنے ملزم دہشت گرد یا جرائم پیشہ پکڑے گئے۔ تمام ناکوں پر صرف شہریوں کو تنگ کیا جاتا ہے۔ عموماً شہریوں سے رقوم بٹورنے کے لئے مختلف حربے استعمال کیے جاتے ہیں، جامہ تلاشی ، موٹر گاڑیوں کے کاغذات اور ڈرائیونگ لائسنس کی پڑتال کے دوران شہریوں کو زد کوب کیا جانا معمول کی بات ہے، اس سے بچنے کے لیے بعض شہری ناکے پر نہیں رکتے اور فرار کی کوشش کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب، صوبائی وزیر داخلہ اور آئی جی پنجاب کو اس واقعے کا صرف نوٹس ہی نہیں لینا چاہیے بلکہ ناکوں کے حوالے سے ایسی پالیسی وضع کرنی چاہیے کہ آئندہ ان ناکوں پر کسی بے گناہ کی جان نہ جائے۔ ناکہ پر اگر کوئی نہ رکے تو اگلے ناکے پر اس کو روکنے کا انتظام کیا جائے۔ پولیس پر کوئی حملہ نہ ہو تو پولیس کو گولی چلانے کی اجازت نہ ہو۔ وزیراعلیٰ پنجاب کو دونوں متوفی بھائیوں کے گھر جا کر ان کے اہل خانہ سے تعزیت کرنے کے علاوہ اس خاندان کی انتہائی معقوم رقم سے مدد کرنی چاہیے اور اس کیس میں ملوث پولیس اہلکاروں کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہیے۔
کیا خادم اعلیٰ بتائیں کے کہ پولیس پر اتنے وسائل صرف کرنے کے باوجود قانون کی بالا دستی پر لاقانونیت غالب کیوں آرہی ہے، عوام کے محافظ قاتلوں کا روپ کیوں بدل چکے ہیں۔ پولیس کے محکمے سے کرپشن کا خاتمہ کیونکر ممکن نہ ہوسکا۔پولیس کا محکمہ ریاست کا ایک اہم ادارہ ہے جس کی اولین ذمہ داری عوام کی عزت و جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے، اسی لیے تو یہ ادارہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ کہیں یہ ادارہ بے گناہ کو گنہگار کرکے اس کی ساری عمر تباہ کر دیتا ہے تو کہیں گنہگار کو بے گناہ قرار دے کر معاشرے میں افراتفری اور لاقانونیت کا باعث بنتا ہے۔ پولیس کا اصل کام تو عوام میں تحفظ کا احساس پیدا کرنا تھا، بدقسمتی سے اس اہم ادارے نے عوام میں عدم تحفظ کا احساس اس حد تک پروان چڑھا دیا ہے کہ شہری پولیس وردی میں ملبوس رضا کار کو دیکھ کر سہم جاتے ہیں اور اپنے وجود پر مختلف دعائیں پڑھ پڑھ کر پھونکنے لگتے ہیں کہ خدا کرے اس کی نظر مجھ پر نہ پڑجائے، اگر اس کی نظر مجھ پر پڑ گئی تو میری جیب خالی ہوجائے گی یا غلیظ گالیاں ناحق سننی پڑیں گی ۔ افسوس کہ ہمارے نام نہاد مہذب معاشرے میں پولیس افسروں کی بے باکی اور ماردھاڑ کی ذمہ داری کوئی بھی ادارہ، کوئی بھی حکومتی گروہ قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔ کیا خادم اعلیٰ پنجاب کے علم میں نہیں ہے کہ مظلوم، شریف شہریوں کو پولیس کی مدد درکار ہوتو ان کو اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کی دادرسی کے لئے پہلے منشی /محرر تھانہ ،پھر SHO اس کے بعد تفتیشی آفیسر کی مٹھی گرم کرنا پڑتی ہے، تب کہیں جاکر کسی شریف شہری کا مقدمہ درج ہوتا ہے۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد تفتیشی آفیسر مختلف حیلوں بہانوں سے دباؤ بڑھا کر رشوت وصول کرتا ہے اور پھر الزام علیہ پارٹی کے گھر کی چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کرکے خوف وہراس پھیلا کر ان سے بھی رشوت کا نذرانہ لے کر بے گناہ قرار دے دیتا ہے۔ تفتیشی آفیسر کے اس عمل کی وجہ سے مقدمہ مدعی کوئی بات کرتا ہے تو تفتیشی آفیسر صاحب مقدمہ مدعی کی عزت نفس مجروح کرکے تھانہ سے نکال دیتا ہے اور ساتھ یہ دھمکی دی جاتی ہے کہ اگر تم نے دوبارہ تھانہ میں قدم رکھا تو تمہیں حوالات میں بند کردیں گے۔ شریف شہری اپنی جان اور عزت بچانے کے لیے دوبارہ تھانے کے قریب سے گزرنے سے بھی گریز کرتا ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ جب بھی کوئی نیا آئی جی، آرپی او یا کسی اضلاع میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر تعینات ہوتا ہے تو وہ ماتحت افسران سے کرپشن کے خاتمے کے لیے حلف لیتا ہے یا مساجد میں کھلی کچہریاں لگانے کا حکم دیتا ہے۔ ان کی یہ عجیب منطق سمجھ سے بالا تر ہے، چاہیے تو یہ کہ وہ مساجد میں کھلی کچہریوں کے انعقاد کا ڈرامہ رچانے کی بجائے پولیس افسران پر چیک اینڈ بیلنس کا موثر لائحہ عمل ترتیب دے کر سختی سے اس پر عمل کروائیں۔ پولیس افسرنذرانہ لینا بند کردیں گے تو انصاف کا عمل خود بخود شروع ہوجائے گا۔ پھر مساجد میں کھلی کچہریوں کی تکلیف اور نہ ہی قسمیں لینے کی ضرورت پڑے گی۔ مثبت سوچ ہی معاشرے میں نکھار کا باعث بنتی ہے۔ پولیس میں موجود کالی بھیڑیں اور کرپشن اُم المسائل ہیں، بلاشبہ انصاف باتوں سے نہیں کرپشن کی بیخ کنی سے ہی آسکتا ہے۔اگر پولیس ناکے کرپشن کے باعث نہ ہوتے تو ان دو بے گناہ بھائیوں کی جان نہ جاتی۔ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیراعلیٰ تھانہ کلچر میں تبدیلی کے لئے سائنسی بنیادوں پر عمل کریں اور واضح طور پر بتائیں کہ پنجاب پولیس کا کلچر کب تک تبدیل ہوگا اور یہ کہ پنجاب پولیس کب عوام کی خدمت گزار بنے گی؟ کیا ان کے اس تیسرے دور حکومت میں بھی یہ ممکن ہوپائے گا۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button