بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

پولیس +انتظامیہ =عوام دوست یا دشمن

چین میں چوری کی سزا ’’موت‘‘ اور سعودی عرب میں ’’ہاتھ کاٹنا‘‘ ہے۔اسی طرح دیگر ممالک میں بھی سخت سزائیں رکھیں گئیں ہیں ۔ہمارے ملک میں یہ حال ہے کہ معاشی ابتری کے سبب چوریاں معمول ہیں ۔حیران کن اطلاعات یہ ہیں کہ ہمارے دارلحکومت اسلام آباد اور جڑوان شہر راولپنڈی میں روزانہ دودرجن کے لگ بھگ گاڑیاں اور موٹر سائیکل کے علاوہ درجنوں دیگر وارداتیں ہو رہی ہیں ۔ہر روز مشکوک افراد پکڑنے کی اطلاعات بھی ہیں مگر پولیس مک مکا کے تحت بے گناہ راہگیروں کو پکڑ کر ناکوں کو تجارتی منڈی اور روہ داری کا اڈہ بنایا ہوا ہے ۔بلا وجہ عام شہریوں کی زندگی پولیس کے غلط اندازِ کار سے اجیرن بنتی جا رہی ہے جبکہ چوری کے ملزمان کھلے عام وارداتیں کر کے بھاگ جاتے ہیں ،یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے قانوں کی چھتری کے سائے میں جرائم پیشہ افراد پل رہے ہیں ۔حالانکہ ہر گلی محلے میں ناکے لگے ہوئے ہیں لیکن چوری شدہ کوئی گاڑی ابھی تک بر آمد نہ ہونا پولیس پر سیاہ دھبہ ہے،عام شہریوں کو کہنا ہے کہ قانون کا اطلاق محض ایک ڈھونگ ہے ۔اب کمائی کا نیا بھندہ یہ شروع ہو گیا ہے کہ بغیر کاغذات گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو بھی ضبط کیا جائے گا اس طرح پویس عام شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کا قانونی راستہ ہموار کر رہی ہے ۔
یہ حال تو ملک کے دارالحکومت کے جڑواں شہروں کا ہے جبکہ ملک کے دیگر علاقوں میں پولیس کے وارے نیارے ہو چکے ہیں ۔پولیس گردی کا یہ عالم ہے کہ عوام شہری تنگ آمد بجنگ آمد کی صورت حال سے گذر رہا ہے ۔بھتہ خوری کا یہ عالم ہے کہ ایک طرف پولیس لوٹ مار میں مصروف ہے اور دوسری طرف چور و ڈکیت شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں ۔ان سماج دشمنوں کے وجہ سے ہر شہری عدم تحفظ کا شکار ہو رہا ہے ۔پولیس تھانے عقوبت خانے بن چکے ہیں اور جنگل کا قانون خوفناک حالات کی جانب بڑھ رہا ہے ۔اگر کوئی شہری اپنی چوری شدہ اشیاء کی رپورٹ درج کرانے تھانے جاتا ہے تو سب سے پہلے پولیس والے اس درخواست والے کا اس طرح استقبال کرتے ہیں کہ انہیں خود اپنی گاڑیوں کی حفاظت کرنی چاہئے ۔اس طرح ایف آئی آر درج کرانے کے لئے بھی اعلی سفاش کی ضرورت پیش آتی ہے ۔
اس اندھیر نگری کا یہ عالم ہے کہ قانون کہیں بھی نظر آتا دکھائی نہیں دیتا ۔قابل افسوس امر یہ ہے کہ پولیس کی غیر ذمہ دارانہ رویہ پر کوئی آواز بھی نہیں اٹھا رہا ہے ۔اب یہ بھی علم ہوا ہے کہ پولیس کی بھاری نفری وی وی آئی پی سیکیورٹی ،پروٹوکول اور گارڈ ڈیوٹی پر مامور ہونے کی وجہ سے شہریوں کی حفاظت کرنے سے قاصر ہے ۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ راولپنڈی میں 2046آسامیاں خالی پڑی ہوئی ہیں ۔مگر حکومت ان آسامیوں پر پولیس کے نئے جوان بھرتی بھی نہیں کر رہی ہے ۔حالانکہ گذشتہ سال وزارت داخلہ نے ایک لاکھ نئے پولیس اہلکار بھرتی کرنے کا اعلان کیا تھا مگر عی اعلان بھی ایک خواب بن کر رہ گیا ہے ۔
ایک طرف عوام کی زندگی دہشتگردوں نے خطرے میں ڈالی ہوئی ہے جبکہ دوسری جانب جرائم پیشہ افراد کھلے بندوں لوٹ مار میں مصروف عمل ہیں ۔یہ لوٹ مار ملک کے دیگر شہروں میں بھی جاری ہے ۔آذادکشمیر میں بھی پولیس کا یہی رویہ ہے ۔انتظامیہ اپنے پروٹوکول میں مگن ہے ۔آئے روز چوریاں ،ڈکیتیاں ہو رہی ہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔کراچی ،کوئٹہ ،ملتان ،فیصل آباد ،گجرات ،گوجرانوالہ ،سیالکوٹ ،پشاور ،گلگت بلتستان اور دیگر علاقوں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق پولیس کارکردگی انتہائی مایوس کن بتائی جا رہی ہے ۔ایسا لگ رہا ہے کہ پولیس مجموعی طور پر قانون نافذ کرنے میں ناکام ہی نہیں ہے بلکہ ساتھ ساتھ ہماری انتظامیہ بھی عضو معطل بن چکی ہے ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کے تمام صوبوں سمیت آذادکشمیر ،گلگت بلتستان کی انتظامیہ میں تطہری عمل شروع کیا جائے ۔پولیس نفری کی کمی کو پورا کیا جائے ۔پولیس کو جدید تربیت دی جائے ۔عام شہریوں کے ساتھ ملزموں والا سلوک کرنے والوں کو پولیس سے نکالا جائے ۔جہاں جہاں چوریاں ہو رہی ہیں وہاں پولیس کے ناکوں کو متحرک کیا جائے ۔مانٹرنگ کا نظام موثر بنایا جائے تاکہ عوام پر پولیس کا اعتماد بحال ہو سکے ۔جب سے پولیس کی تنخواہوں میں دوگناہ اضافہ کیا گیا تھا تو عوام میں یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ اب پولیس کا کارکردگی بہتر ہو جائے گی مگر یہ اقدام بھی بے نتیجہ نکلا ۔سٹریٹ کرائمز میں روز بروز اضافہ اس کی نشاندھی کر رہا ہے کہ پولیس سسٹم درست نہیں ہے ۔دراصل کوئی بھی ادارہ اس وقت تک بہتر کارکردگی ظاہر نہیں کر سکتا جب تک باصلاحیت اور دیانت دار افراد کو ذمہ دارانہ حیثیت نہیں دی جاتی ۔ہماری بد نصیبی رہی ہے کہ ہمیں سفارشی اور نااہل انتظامی افسان ملے ہیں جن کی وفاداریاں کسی نہ کسی سیاسی جماعتوں یا با اثر شخصیات کے اردگر ہیں اور ایسے سماج دشمن انتظامی افسران نے پورے نظام کو تلپٹ کر رکھا ہے ۔اگر منصوبہ ساز عوام دوست کردار ادا کریں تو کوئی وجہ نہیں کے ہمارے معاشرے میں امن ،سکون اور قانون کی بالا دستی نہ ہو ۔
ان حالات میں ارباب اختیار سے امید کی جاتی ہے کہ وہ ان خرابیوں اور کمزوریوں کے ازالے کے لئے بھر پور انداز سے تنظیم نو کریں ۔آئندہ عام اور بلدیاتی انتخابات ہونے جا رہے ہیں ۔ان پیش آمدہ حالات کے مد نظر حکومت کو چاہئے کہ وہ سیکیورٹی انتظامات بہتر بنانے کے لئے سیکیورٹی فورسسز میں اضافے کے لئے مطلوبہ وسائل فراہم کرئے تاکہ امن اور سکون کی فضا میں عوام اپنا حق رائے دہی کا استعمال یقینی بنا سکیں نیز جرائم کی روک تھام کے لئے موثر حکمت عملی مرتب کی جائے ۔شہریوں کو اعتماد میں لیکر ان سے بھی تعاون حاصل کیا جائے تاکہ باہمی اشتراک سے سماج دشمنوں کا قلع قمع ممکن ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیں  لاہور میں آج شام 6 بجے سے سی این جی دوبارہ بند ہو جائیگی

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker