تازہ ترینکالم

پولیس پر عدم اعتمادی کی وجہ

تحریر: غلام مصطفٰی
عوام پولیس پر اعتماد نہیں کرتے ۔ یہ وہ جملہ ہے جو اکثر سنائی دیتا ہے ۔ تھانے کچہری سے ہمیں خوف محسوس ہوتا ہے ۔ پولیس کی اکثر گاڑیوں پر لکھا ہوتا ہے کہ ’’پولیس کا ہے فرض مدد آپ کی‘‘ ، لیکن ہم اس سلوگن پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے ؟ سیدھی سی بات ہے کہ اگر عوام کو پولیس پر اعتبار ہی نہیں تو پر اس محکمہ کی ضرورت بھی نہیں ۔ یہ کلیہ ہر سرکاری محکمہ پر عائد ہوتا ہے۔ سرکار کا ہر محکمہ عوام کی خدمت کے لئے ہے ۔ یہ عوام کے ٹیکسوں پر ہی چلتے ہیں ۔ اگر یہ عوام کو سہولت نہیں پہنچائیں گے تو اپنی اہمیت کھو بیٹھیں گے۔
آج ہم صرف پولیس پر اپنی توجہ مرکوز رکھتے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ عوام کو پولیس پر اعتماد کیوں نہیں ہے ۔ اگلا سوال یہ ہے کہ اس اعتماد نہ کرنے کی وجہ کیا ہے ۔ وہ کون سی بنیادی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے یہ رائے قائم ہوئی ہے ۔ اگر ہم غیر جانبداری سے جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پولیس پر عدم اعتماد کی داستانیں زیادہ تر وہ لوگ سناتے ہیں جن کا تھانے کچہری میں آنا جانا لگا رہے۔ یہ لوگ ایماندار پولیس اہلکار یا افسر سے نالاں رہتے ہیں ۔ جو ان کی سفارش قبول نہ کرے وہ ان کی نظر میں برا ہوتا ہے ۔ ان کا مشہور جملہ یہی ہوتا ہے کہ پولیس کسی کی دوست نہیں ہے ، اس کی دوستی دشمنی دونوں سے خدا بچائے ۔ یہاں سوال یہ ہے کہ کیا پولیس اہلکار کو دوستی کے نام پر ملزم کو چھوڑ دینا چاہئے تاکہ اس کی تعریف ہو ؟ پولیس اہلکار اگر فرض کی ادائیگی کے دوران دوستی کا خیال نہپیں رکھتا تو یہ اس کی ایمانداری ہے جسے ہم منفی انداز سے بیان کرتے ہیں۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ چوری تو نہیں کرتے لیکن ہیرا پھیری سے بھی باز نہیں آتے ۔ ہم موٹر سائیکل کے کاغذات بھی پاس نہیں رکھتے اور پھر موٹر سائیکل بند ہونے پر پولیس کے بھی خلاف ہو جاتے ہیں ۔
ہم پولیس پر اعتماد بھی نہیں کرتے اور عید کی نماز کے وقت پولیس اہلکار کی ڈیوٹی بھی لگواتے ہیں ۔ ہم پولیس پر اعتبار بھی نہیں کرتے اور علاقہ میں سٹریٹ کرائمز روکنے کے لئے پولیس گشت بڑھانے کے لئے بھی اثر رسوخ استعمال کرتے ہیں ۔ حد تو یہ ہے کہ اگر ہم کسی سیاسی عہدے پر فائز ہوں تو نجی اداروں کے سکیورٹی گارڈز پر بھروسہ کرنے کی بجائے پولیس اہلکار کی سکیورٹی مانگنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں۔ ہماری اکثر اہم شخصیات پولیس کی سکیورٹی حاصل کرنے کے لئے اعلی حکام کو خط لکھتی رہتی ہیں لیکن محفلوں میں پولیس پر عدم اعتماد کا اظہار بھی کرتی ہیں ۔
لاکھ روپے کا سوال یہ ہے کہ اگر ہمیں پولیس پر اعتماد نہیں ہے تو کسی بھی سانحہ کے بعد ہم سب سے پہلے ون فائیو پر فون کیوں کرتے ہیں ؟ ماہر نفسیات کے مطابق ایسا صرف تب ہوتا ہے جب ہم شعوری طور پر تو کسی چیز کی نفی کرتے ہیں لیکن ہمارے لاشعور میں وہی چیز درست ہوتی ہے ۔ ہم گھبراہٹ اور پریشانی میں جس پہلے مددگار کی جانب دیکھتے ہیں وہ ہمارے اعتماد کا ثبوت ہوتا ہے ۔ اب ہوتا یہ ہے کہ ہم کسی بھی واردات کے بعد پولیس کو فون کرنے کے بعد یہ امید کرتے ہیں کہ پولیس اہلکار فورا وہاں پہنچ جائیں گے ۔ ہم اس سارے پراسس کو بھول جاتے ہیں جو اس دوران ہوتا ہے ۔ ون فائیو پر ہماری شکایت سن کر آپریٹر متعلقہ تھانے اطلاع کرتا ہے ۔ وہاں رپورٹ ملنے کے بعد موقع پر موجود اہلکار کو بھیجا جاتا ہے ۔ تھانے سے چائے حادثہ پر پہنچنے کے لئے پولیس کے پاس کوئی جادوئی چراغ نہیں ہوتا ۔ پولیس اہلکاروں کو اسی ٹریفک سے گزر کر آنا ہوتا ہے جس میں ہم خود گھنٹوں پھنسے رہتے ہیں ۔ اگر تو کوئی پولیس موبائل جائے حادثہ کے قریب ہو تو پولیس جلد پہنچ جاتی ہے لیکن اگر پولیس موبائل دور ہو تو اسے پہنچنے کے لئے ٹریفک اور دیگر مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
پولیس کارکردگی کو جانچنے کے لئے میری طرح آپ بھی ایک تجربہ کریں ۔ اپنے کسی دوست یا رشتہ دار کو فون کریں اور اسے کہیں کہ آپ کے ساتھ واردات ہو گئی ہے لہذا اس جگہ کے قریب رہنے والے فلاں دوست کو کہو فورا کچھ پیسے لے کر میرے پاس پہنچے ۔ آپ کا دوست آپ کی کال سننے کے بعد متعلقہ دوست کو فون کرے اور وہ آپ کے پاس پہنچے ۔ اب اس سارے عمل میں ٹائم نوٹ کرتے جائیں ۔ شاید آپ کو اندازہ ہو جائے کہ پولیس کس قدر جلد یا تاخیر سے پہنچتی ہے ۔ جب ہم زمینی حقائق نظر انداز کر دیتے ہیں تو پھر ہم خون جلانے اور بلڈ پریشر کے مریض بننے کے سوا کچھ نہیں کر پاتے ۔ پولیس میں کالی بھیڑیں ضرور ہیں لیکن ان کی وجہ سے ایماندار اہلکاروں کی تذلیل کسی صورت درست نہیں ۔ اگر ہم ایسا کریں تو ان جوان شہیدوں کی توہین ہو گی جو ہماری حفاظت کے لئے ڈاکوؤں سے لڑتے ہوئے شہید ہو چکے ہیں ۔ُ

یہ بھی پڑھیں  کسان 29 نومبر کو پورے پاکستان میں ہرضلعی ہیڈ کوارٹرپراحتجاج کریں گے،کسان بورڈ

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker