شہ سرخیاں

شعوری بیداری

دنیا بھر میں سیاست دو اہم بنیادوں پر کی جاتی ہے ۔جسے عام لفظوں میں دائیں اور بائیں نظریات سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔اس کی تشریح یوں بھی اختصار سے کی جا سکتی ہے کہ عوامی(غیر سرمایہ داررانہ) سیاست اور غیر عوامی(سرمایہ دارانہ) سیاست،عوامی سیاست کے خدوخال عوام کے مفادات اور حقوق کا پورا پورا تحفظ کرنا اور غیر عوامی سیاست کی بنیاد نوکر شاہی کی کوکھ سے جنم لینے والے سرمایہ دار،جاگیر دار اور مافیاز کے اشتراک سے طاقت حاصل کرنا ہوتا ہے۔اب اس سیاسی نقشہ کو سامنے رکھتے ہوئے ہماری قومی سیاست کے دائرہ کار کا جائیزہ لیتے ہیں۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ وطن عزیز میں کسی بھی نوعیت کی سیاست پھل پھول نہ سکی۔طویل آمریت کے مہیب سائے میں جنم لینے والی سیاسی حکومتیں دیرپا اثرات نہ چھوڑ سکیں ۔تاہم یہ امر خوش آئیند ہے کہ جمہوری جد وجہد میں پاکستان پیپلز پارٹی ،پاکستان مسلم لیگ ن ،نیشنل پارٹی ،ایم کیو ایم سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے بگڑے ہوئے نظام کو درست خطوط پر استوار کرنے میں اپنی کاوشیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔اگرچہ موجودہ نظام سیاست کو درج بالا کسی ایک واضح نظام کے ساتھ تعریف میں نہیں لیا جا سکتا تاہم عوامی طاقت کے بل بوتے پر قائم ہونے والی حکومتوں کا نقطہ نظر عوام کی خیر خواہی سے تعبیر کیا جا تا ہے۔سیاسی نظام مملکت کا بنیادی اصول ’’عوام سے ،عوام کی ،عوامی حکمرانی ہے۔اس اصول پر چلنے والے جمہوری فکر کے داعی کہلاتے ہیں۔
اگر یہ کہا جائے کہ جنوبی ایشیاء میں آذادکشمیر واحد ایسی ریاست ہے جو ابھی مکمل آذاد بھی نہیں ہوئی ہے مگر اس میں جمہوری فکر روز بروز پروان چڑھ رہی ہے ۔1985ء سے اب تک 27برس گذر گئے ہیں یہاں جمہوری نظام آئین و قانون کے مطابق مثالی انداز سے چل رہا ہے۔اگرچہ نظام حکومت میں اب بھی کچھ خامیاں موجود ہیں لیکن سیاست کاروں کی دانشمندانہ جدوجہد سے جمہوری کلچر فروغ پا رہا ہے۔ آذاد کشمیر کی سیاست میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن دو اہم سیاسی کردار ہیں جن کی بنیاد عوامی قوت پرقائم ہے۔ان دونوں سیاسی قوتوں نے عوام کی بھلائی کو ترجیج دینے کا عزم کر رکھا ہے ۔
کسی بھی سیاسی حکومت کی کارکردگی کا انحصار اپوزیشن کے جمہوری کردار سے بنیادی تعلق رکھتا ہے۔آذادکشمیر میں بلاشبہ لیڈر آف اپوزیشن کا جمہوری کردار تاریخ میں ہمیشہ نمایاں رہے گا جن کی جاندار سیاسی حکمت عملی سے عوامی حقوق کی ترجمانی ہو رہی ہے۔قارئین کی تعریف و تنقید ان کا حق ہے مگر یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ قائد حز ب اختلاف راجہ فاروق حیدر خان نے ماضی میں جس طرح دارالحکومت بچاؤ مہم کامیاب کی اور پھر منافقت پر مبنی سیاسی گروہ کا مقابلہ کر کے انہیں چت کیا ،یہ بھی حقیقت ہے کہ عوام کی رائے کا احترام کرتے ہوئے انہوں نے ہر محاذ پر جرات مندی اور دلیری کا مظاہرہ کیا ۔ان کی اس سیاسی جد جہد سے عوام میں نئی امنگ اور جذبہ حب الوطنی اجاگر ہونا ان کی سیاسی خدمات کا بین ثبوت ہے۔
گزشتہ دنوں قائد حزب اختلاف و صدر پاکستان مسلم لیگ ن راجہ فاروق حیدر خان اپنے آبائی ضلع کے دورے پر آئے تو عوامی وفد نے محکمہ تعلیم کے حوالے سے متعدد شکایات کیں جن کی روشنی میں انہوں نے عوامی حقوق کی خاطر پروٹوکول کو بالائے طاق رکھتے ہوئے محکمہ تعلیم کے ضلعی دفتر کا دورہ کیا اس دوران انہوں نے تازہ ترین بھرتیوں کے حوالے سے تفصیل طلب کی تو ایک انتظامی آفسر نے حکمران جماعت کا کارندہ ہونے کا مظاہرہ کیا جس پر معمولی تلخ کلامی کو مخالف لوگوں نے اس اقدام پر غیر سیاسی سوچ کا اظہار کیا۔بعض شر پسند عناصر نے اشتعال دلانے کی ناکام کوشش بھی کی ۔اس سارے واقعہ کو طول دینے میں برادری ازم کا بھی سہارا لیا گیا۔جو کسی بھی صورت میں عوامی پذیرائی نہ پا سکا۔اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ حکمران جماعت کے کارندوں نے میرٹ کی پامالی کو ترجیج دے رکھی ہے جس کے خلاف اپوزیشن نے سنجیدہ کردار ادا کیا ہے۔
سیاست اسی صورت میں عبادت کہلاتی ہے جب وہ انصاف اور عدل پر کی جائے ۔ماسٹر ڈگری والے اگر میرٹ پر نہ رکھے جائیں اور ایف اے پاس بھرتی کئے جائیں تو پھر سیاست ایک بچگانہ فعل بن کر رہ جائے گی۔اسی کے خلاف راجہ فاروق حیدر خان نے آواز بلند کی جس پر مفاد پرستوں نے غلط طرزِ فکر کا اظہار کیا۔راجہ فاروق حیدر خان نے اپنے دورے کے دوران کہا کہ وہ عوامی حقوق پر کسی مصلحت کا شکار نہیں ہونگے ۔ان کے اس عزم کو دیکھ کر احساس ہوا کہ جو جد جہد ماضی قریب میں آیت اللہ خمینی،فیڈرل کاسترو،موزئے تنگ،کارمارکس نے کی اس ہی جد جہد کا رخ راجہ فاروق حیدر خان کی سیاسی فکر سے عیاں ہوتا ہے۔یقیناًان کے ایسے اقدامات سے عوام میں ان کی قدر و منزلت میں اضافہ ہو گا۔آج جو لوگ انہیں سطحی تنقید کا شکار کرنا چاہتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ تاریخ عوام مخالف عناصر کو کبھی معاف نہیں کرتی جو لوگ پانی کے بلبلے کہ ماند برادریوں کی بیساکھیوں پر عوامی حقوق غصب کرنا اپنا دستور بنا رہے ہیں وہ عوام کی طاقت سے بے خبر ہیں۔عوام شعوری طور پر سب کچھ جانتے ہیں ان کی آنکھوں میں دھول نہیں جھونکی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ : انجمن طلباء اسلام نے توہین آمیز خاکوں کیخلاف ضلع بھر کے سکولوں،کالجوں میں مذمتی قرارداد پاس کی