انور عباس انورتازہ ترینکالم

لانگ مارچ کی سیاست اور پاکستان

anwar abasآج پاکستان کی گلیوں محلوں سے لیکر دور دیہات کے کھیت کھلیانوں میں سب سے ہاٹ موضوع اپنے پیر طریقت شیخ الااسلام طاہر القادری کا لانگ مارچ ہے۔کوئی اس کی حمایت اور طاہر القادری کا دفاع کر رہا ہے تو کوئی اسے پاکستان کے لیے اجنبی قرار دینے میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے میں مصروف کار دکھائی دیتا ہے۔تمام دفاعی کوششوں کے باوجود قائد انقلاب ڈاکٹر طاہرالقادری کے حمایت مخالفین کے اعتراضات کا جوابات دینے میں بے بس نظر آتے ہیں۔ڈاکٹر طا ہر القادری کے حامی مخالفین کے اس سوال’’ طاہر القادری صاحب کو جنرل مشرف کے دور آمریت میں لانگ مارچ اور اصلاحات کا خیال کیونکر نہیں آیا‘‘کے سامنے بے بسی کی تصویر بنے دکھائی دیتے ہیں۔پوچھنے والے دریافت کرتے ہیں کہ جب طاہر القادری صاحب کی کوئی سیاسی جماعت ہی نہیں ہے اور نہ ہی انکی کوئی جماعت الیکشن کمیشن کے ہاں رجسٹرڈ ہے لیکن پھر بھی ڈاکٹر صاحب انتخابی اصلاحات چاہتے ہیں۔۔۔ہے ناں دلچسپ بات
لانگ مارچ کا لفظ پاکستان کی سیاست میں پہلی بار 1977میں منظر عام پر آیا۔جب نو ستاروں والے حلوہ اتحاد کے مولویوں اور اقتدار کے بھوکے سیاست دانوں نے بھٹو حکومت کو گرانے کے لیے عالمی سامراج اور اسکے گماشتوں کے اشاروں پر ناچتے ہوئے اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کے لیے لانگ مارچ کاا علان کیا۔اور ساتھ ہی پہیہ جام ہڑتال کی کال بھی دی گئی تھی۔اس سے قبل پاکستان کی تاریخ میں لانگ مارچ اور پہیہ جام ہڑتال کا نام کسی نے نہیں سن رکھا تھا۔اس کے بعد 1993 میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی جانب سے میاں نواز شریف کی حکومت کے خلاف لانگ مار۴چ کرنے کا اعلان کیا تھا۔اس سے قبل کبھی بھی لانگ مارچ کا لفظ پاکستانی سیاست میں نہ کسی نے سنا اور نہ ہی پڑھا تھا۔حقیت یہی ہے کہ لانگ مارچ ہماری جمہوری سیاست اور جمہوری کلچر کا حصہ ہی نہیں ہے۔پاکستان میں جب بھی لانگ مارچ کی باتیں ہوئیں اسٹبلشمنٹ یا پھر امریکی اشیر باد سے ہوئیں۔اور یہ بھی سچ ہے کہ یہ باتیں جمہوری حکومتوں کے خاتمے کے لیے ہوئیں ۔آج تک کسی بڑے سے بڑے جمہوری سیاست دان نے کسی بڑے سے بڑے آمر کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان نہیں کیا۔بے نظیر بھٹو شہید نے میاں نواز شریف حکومت کے خلاف لانگ مارچ غلام اسحاق اینڈ کمپنی کے اشاروں پر کیا اور میاں نواز شریف نے ججز بحالی کے نام پر لانگ مارچ بھی اعلی سطح کے اشاروں اور ہدایات پر ہی کیا تھا۔ورنہ اگر اسٹببلشمنٹ کی آشیر باد حاصل نہ ہوتی تو آرمی چیف کبھی بھی مداخلت نہ کرتے۔۔۔۔قائد انقلاب ڈاکٹر طاہر القادری لاکھ انکار کریں کہ انہیں کسی ’’ملکی یا غیر ملکی مہربان ‘‘ کی حمایت اور تعاون حاصل نہیں ہے۔مگر حقیقت یہی ہے کہ ان کے لانگ مارچ کو کسی نہ کسی ’’ مہربان قدرجان ‘‘ کی مدد حاصل ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو مفکر قرآن اور قائد انقلاب کو کبھی بھی لانگ مارچ کا خیال نہ آتا اور نہ ہی جرات ان کے دل میں پیدا ہوتی۔ججز بحالی کے لیے کیے جانے والے لانگ مارچ کی کامیابی اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اسے اسٹبلشمنٹ کی حمایت حاصل تھی اور اسکا مطلب یہی تھا کہ ججز کے ذ ریعے موجودہ حکومت کو چلتا کیا جائے ۔لیکن ناکامی سے دوچار ہونا پڑا۔ایسا چوچنے والوں کے خواب محض خواب ہی رہے۔۔۔۔ججز بحالی مارچ میں مسلم لیگ نواز بلکہ مسلم لیگ سے زیادہ دلچسپی نواز شریف کو تھی کیونکہ ججز کی عدم بحالی سے سب سے زیادہ نقصان ان کا ہو رہا تھا۔ لیکن شائد اس بار لانگ مارچ کے منتظمین اور سرپرستوں کو کامیابی نہ حاصل ہو۔کیونکہ اس بار ججز بحالی لانگ مارچ کے فرنٹ مین ( میاں نواز شریف برادران) جمہوریت بچانے کے لیے حکومت کے ساتھ ہیں۔اسکی وجہ یہ ہے کہ اگر اس بار جمہوریت ڈی ریل ہوگئی تو سب سے زیادہ نقصان انہی کا ہوگا۔اسکی وجہ یہ ہے کہ زرداری حکومت اور پیپلز پارٹی تو ویسے ہی جا رہی ہے اور آئندہ اسے اپوزیشن میں بھی شائد جگہ نہ ملے اور مسلم لیگ نواز آئندہ انتخابات میں جیتنے والی پارٹی ہے تو آئندہ حکومت بھی تو انہی کی بنے گی ناں۔اس لیے جمہوریت ڈی ریل ہونے کی صورت میں مسلم لیگ کی حکومت قائم ہونے اور نواز شریف یا شہباز شریف کے وزیر اعظم بننے کی راہیں مسدود ہو جائیں گی۔اس لیے نواز شریف ہر گز نہیں چاہیں گے کہ جمہوریت ڈی ریل ہو اور انتخابات کچھ عرصہ کے لیے ہی سہی ملتوی ہو جائیں۔انکی پوری کوشش ہو گی کہ وہ بروقت انتخابات کا انعقاد ممکن بنائیں اور انتخابات کے انعقاد کے خلاف کی جانے والی اندرونی اور بیرونی سازشوں کو ناکام بنانے کی ہر ممکن کوشش بھی کریں گے۔عوامی سطح پر مجھے تو لانگ مارتچ کی بڑے پیمانے پر تیاریاں اور عوام میں جوش خروش کہیں دکھائی نہیں دے رہا۔ہو سکتا ہے۔کہمنتظمین اور طاہر القادری صاحب پر دست شفقت رکھنے والے ’’مہربانوں‘‘ نے آسمان سے فرشتوں کے نزول کا بندوبست کر رکھا ہو۔۔۔برحال اسلام آباد پر چڑھائی بنا مقصد کے نہیں ہے۔ یہ بات اسلام آباد کے مکینوں کے ذہن میں لازمی ہوگی۔اوروہ اس گرداب سے باہر نکلنے کی تدابیر سو چ رہے ہوں گے ۔اور اسکے لیے راہیں بھی تلاش کر رہے ہو ں گے ۔لیکن ایک بات جو میں سمجھ پایا ہوں وہ یہ ہے کہ اگر کوئی بندہ یا ایجنسی اپنے دل اور دماغ میں یہ سوچ رکھتا ہے کہ وہ صدر زرداری کی موجودگی میں کسی غیر آئینی یا طاقت کے زور پر اس حکومت کو یر غمال بنانے میں کامیاب ہو جائے گا۔یہ اسکی خام خیالی ہے۔میرا حقیر سا اسے مشورہ ہے کہ وہ اس بات کو اپنے ذہن سے نکال باہر پھینکے اسی میں ملک اورقوم کی بھلائی ہے ۔۔۔اسی میں جمہوریت کا بھلا ہے۔اسی میں دشمننان پاکستان اور اسلام کی تباہی ہے۔صلاح عام ہے یاران نکتہ دان کے لیے

یہ بھی پڑھیں  تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا ہنگامی اجلاس آج ہوگا

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker