تازہ ترینعلاقائی

ضمنی الیکشن ،کانٹے دارمقابلہ کی توقع ڈائری اوکاڑہ تحریر محمد مظہررشید چوہدری 03336963372

ضمنی الیکشن ،کانٹے دارمقابلہ کی توقع
ڈائری اوکاڑہ
تحریر محمد مظہررشید چوہدری 03336963372

قومی اسمبلی کا حلقہ 144اوکاڑہ شہر اس کے ملحقہ چکوک پر مشتمل ہے 11مئی2013 ؁ء کو یہاں سے منتخب ہونے والے ایم۔این۔اے چوہدری محمد عارف ایک لاکھ پانچ ہزار کے ریکارڈ ووٹوں سے کامیاب ہوئے جن پر کامیابی کے پہلے دن سے ہی نااہلی کی تلوار لٹکتی رہی جسکی وجہ سے عوامی حلقوں میں مقبول ترین شخصیت چوہدری محمد عارف اپنی کامیابی کے تقریباََ دو سال بعدالیکشن ٹریبونل کے فیصلہ کے نتیجہ میں جعلی ڈگری کیس میں نااہل قرار پائے جسکے نتیجہ میں الیکشن کمیشن نے 11اکتوبر2015 ؁ء کو ضمنی الیکشن کا اعلان کیاضمنی انتخاب کا اعلان ہوتے ہوئے شہر میں سیاست کے پرانے اور چند ایک نئے کھلاڑی میدان سیاست میں کود پڑے گلیاں،بازاراور اْمیدواروں کے ڈیرے آباد ہوگئے رنگ برنگے بینرز ،پمفلٹ ،اسٹیکرز،فلیکس نے حلقہ144میں دلکش سماں پیدا کر دیا ہے مسلم لیگ(ن)نے محمد عارف چوہدری کے بیٹے علی عارف چوہدری کوپارٹی ٹکٹ دیا ہے علی عارف چوہدری اپنے والد کی کھوئی نشست دوبارہ سے حاصل کرنے کے لیے پرْ عزم ہیں پاکستان تحریک انصاف نے چند ماہ پہلے پیپلز پارٹی کو خیرآبادکہہ کر آنے والے محمد اشرف خان سوہنا کو ٹکٹ دیا ہے جو اپنی عوام دوست شخصیت کی وجہ سے جیت کے لیے میدان میں ہیں پاکستان پیپلزپارٹی نے اپنے ضلعی صدر اور سابق ایم۔این۔اے چوہدری سجادالحسن کو ٹکٹ دیا ہے چوہدری سجاد الحسن اپنی حلیم طبیعت کی وجہ سے عوامی حلقوں میں نمایاں مقام رکھتے ہیںآزاد اْمیدواروں میں چوہدری ریاض الحق جج پہلی بار قومی اسمبلی کی نشست کے لیے میدان میںآئے ہیںآپ اور آپکی فیملی شہر بھر میں سماجی کاموں کی وجہ سے ایک الگ پہچان رکھتی ہے چوہدری ریاض الحق جج مسلم لیگ ن سے ٹکٹ کے خواہاں تھے کیونکہ جنرل الیکشنوں میں چوہدری ریاض الحق جج (نعمت بناسپتی والے)نے مسلم لیگ ن کی بھر پور حمایت کی تھی اور خیال کیا جاتا ہے کہ اگر عوام نے ریاض الحق کو کامیاب کیا تو یہ سیٹ پھر بھی مسلم لیگ ن کی ہی تصور کی جائے گی چوہدری ریاض الحق جج بلدیاتی سیاست میں گزشتہ تقریبا 15سال سے سرگرم ہیں انجمن مزارعین کے جنرل سیکرٹری عبدالستار مہر بھی اْمیدواروں کی فہرست میں ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں مزارعین کے حقوق کے لیے سرگرم عبدالستار مہر جنرل الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے صوبائی نشست پرموجودہ صوبائی وزیر آبپاشی میاں یاور زمان کے مقابلہ میں الیکشن لڑ چکے ہیںآپ کومزارعین کے چکوک سے بھاری اکثریت حاصل کرنے کی امید ہے آپ کی شخصیت کوئی بڑا اَپ سیٹ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے شہر میں بھی عبدالستار مہر جیت کے لیے اپنی کوششوں میں مصروف ہیں دیگر امیدواروں میں خلیل الرحمان ،رضا بشیر سنگوکا،فیاض احمد غوری،شہادت علی سپرا بھی اپنی قسمت آزمائی کررہے ہیں چھ امیدواروں نے اپنے کاغذات واپس لے لیے جن میں محمد اسلم مغل ایڈووکیٹ جو کہ پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے الیکشن میں حصہ لینا چاہتے تھے لیکن ضمنی الیکشن میں کم وقت ہونے کی وجہ سے الیکشن کی دوڑ میں شامل نہیں ہوئے اسکے علاوہ معروف نام رانا اکرام ربانی،راؤ حسن سکندر،راؤ خالد مصطفےٰ اور طارق چوہدری،شازیہ احمد نے بھی ضمنی الیکشن کی دوڑ میں اپنے آپ کو شامل ہونے سے نکال لیا ہے ضمنی انتخابات حلقہ این اے 144میں 3لاکھ16ہزار289ووٹر اپنا حق رائے دہی 11اکتوبر2015کو استعمال کریں گے ان میں خواتین ووٹر کی تعداد ایک لاکھ 42ہزار 168ہے جبکہ مرد ووٹر کی تعداد ایک لاکھ 74ہزار121ہے اوکاڑہ شہر میں سیاسی پارٹیوں کے ٹکٹ کے علاوہ اہم کردار برادریاں بھی کرتی ہیں سابقہ جنرل الیکشنوں میں کامیاب امیدواروں کے ووٹوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت کھل کے سامنے آتی ہے کہ برادریاں کسی بھی امیدوار کی جیت میں اہم کردار کی حامل ہوتی ہیں اس حلقہ میں آرائیں برادری ،راجپوت برادری کے علاوہ دیگر اہم برادریاں امیدوار کوکامیاب کروانے میں ہمیشہ بھرپور کردار ادا کرتی رہیں ہیں اس با ر ضمنی انتخابات میں دو بڑی پارٹیوں کے امیدوار آرائیں برادری سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ آزاد امیدوار ریاض الحق جج جنہیں نوجوانوں کی کثیر تعداد سپورٹ کرتی نظر آرہی ہے بھی آرائیں برادری سے تعلق رکھتے ہیں شہر کی سیاسی فضا دیکھی جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس بار محمد عارف چوہدری اپنے بیٹے کو آسانی سے کامیاب کروانے میں سرخرو ہوتے نظر نہیں آتے کیونکہ آزاد امیدوار ریاض الحق جج اپنی بھرپور کمپین کے ذریعے انہیں ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کر رکھا ہے 11اکتوبر کا سورج کس کی کامیابی کی نوید لیکر طلوع ہوتا ہے اسکے لیے ہمیں چند دن کا انتظار کرنا ہو گا *

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button