رپورٹس

میانمار کے پاپ سٹارز کی نغماتی انقلاب سے والہانہ وابستگی

ینگون﴿پاک نیوز لائیو ڈاٹ کام﴾شعلہ رنگ کے نقش و نگار والے کپڑوں کے پورے ذخیرے اور مسحورکن آواز والی اس خاتون کو میانمار کی لیڈی گاگا خیال کیا جاتا ہے ، ایک ایسے ملک کی غیر معمولی پاپ سٹار جس کی برسوں کی تنہائی کی وجہ سے موسیقاروں کو مستعار غیر ملکی دھنوں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔بون جوی کے ’’You give love A Bad Name‘‘جیسے عالمی شہرت یافتہ نغموں کے برمی تراجم گانے والی پھیوپھیوکیوا تھئین اپنے پروں والے نقابوں ، رائن سٹون گلیمر اور ناٹکی پشواز کی وجہ سے مشہور ہے وہ خود کو لیڈی گاگا سے تقابل پر کندھے ہلاکر خفگی کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہے کہ وہ امریکی سٹار سے بہت پہلے اپنے آٹھ سالہ کیریئر میں اپنے ناچنے گانے والے لباسوں کے ذریعے شائقین کو حیرت زدہ کررہی ہے ،یہ کوئی جرم نہیں بلکہ حقیقت ہے اور بے ڈھنگی امریکی موسیقارہ کے برعکس اس کے موسیقی کے لباس اس کی ٹانگوں کے بیشتر حصے اور درزوں کو نمایاں نہیں کرتے ہیں۔
میانمار کی پاپ سنگر جو میگا سٹارز سے کہیں زیادہ جنون کی حد تک محبت میں پروان چڑھی کئی دہائیوں پر محیط سیاسی تنہائی کو سرد اندھیری غار میں بندکردینے سے تشبیہ دیتی ہے اس کا کہنا ہے دنیا میں بعض کو اس بات تک کا علم نہیں کہ ہمارا بھی کوئی وجود ہے۔30سالہ پھیوپھیو میڈیکل گریجویٹ ہے، لیکن اس کا کہنا ہے کہ اس نے اس وجہ سے ڈاکٹر بننے کی تربیت حاصل کرنی چھوڑ دی کیونکہ ٹیلی ویژن پر اپنی پرفارمنس کے بعد لوگوں نے اسے ہسپتال میں پہچاننا شروع کردیا تھا۔ ینگوں میں اپنی رہائش گاہ پر اے ایف پی سے باتیں کرتے ہوئے اس نے کہاکہ اس کے باوجود میں خوش ہوں کیونکہ میں اپنے ملک میں لاکھوں عوام کی زندگیوں میں تبدیلی لاسکتی ہوں۔میانمار پاپ سنگر کئی عالمی دھنوں کی نقل کرنے کے علاوہ ناکام محبت اور دل شکنی والے برمی نغموں کی گائیکی سے مالامال ہے۔ صرف چند فنکار اس ملک کے بڑے دھارے میں شامل ہونے کی جدوجہد میں کامیاب ہوسکے ہیں جہاں دھنیں چرانے کی بھرمار نے موسیقی صنعت کو حبس زدہ کررکھا ہے اور سخت سنسر شپ نے نغمات سے لیکر لباس تک ہر ایک کو کنٹرول کررکھا ہے۔ لیکن گزشتہ سال فوجی اقتدار کے خاتمے کے بعد زبردست اصلاحات نے بیرونی دنیا تک اثر و نفوذ کا امکان پیدا کردیا ہے۔اس کے علاوہ ایسی بیداری کی امید پیدا ہوگئی ہے جس سے موسیقی کے منظر نامے کو بحال کیا جاسکتا ہے ۔ میانمار نے اس امر کا عندیہ دیاہے کہ وہ کاپی رائٹس کے قوانین پر نظر ثانی کرکے انہیں بین الاقوامی معیار کے مطابق بنائے گا۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ عمل کب رنگ لائے گا۔ اس اقدام سے انٹیلیکچول پراپرٹی اونرز سے ان کے نغمے برمی زبان میں ترجمہ کرنے کی اجازت کے لئے درخواست دینے کے کاپی ایکٹس کی ضرورت ہوگی ۔ اس طرح فنکاروں کو خود اپنے نغمے تخلیق کرنے کی حوصلہ افزائی ہو گی ۔ حکومت کے انٹرنیٹ پر کنٹرول میں نرمی پیدا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ موسیقی کے دلدادہ یوٹیوب کی ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ پر سینکڑوں دھنوں تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں ۔ تاہم میانمار کی زیادہ آبادی کے لئے پاپ موسیقی کا مطلب فلموں اور موسیقی کی ویڈیوز کی چوری شدہ دھنیں فروخت کرنے والے سٹریٹ کارنر سٹال ہیں۔پھیوپھیو کیائوتھیئن نے دھنوں کی چوری کو ناقابل کنٹرول قراردیا ہے ۔اس کا کہنا ہے کہ ویڈیوز کی جعلی کاپیوں کی وجہ سے اس کی البمز کی فروخت کی آمدن میں کمی آرہی ہے،اس کی البم کی خوردہ قیمت قریباًدو ڈالر ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ دھنیں چوری کرنے کو قانون کی زد میں لانا کاپی رائٹ قوانین کو معمول پر لانے کی جانب پہلا قدم ہوگا۔
اسے امید ہے کہ اس اقدام سے موسیقی کی ایسی صنعت کی تعمیر میں مدد ملے گی جس سے نئے فنکاروں کی مدد کے ساتھ اصل نغمے تخلیق کرنے کیلئے کافی رقم دستیاب ہوگی۔
میانمار ٹائمز کے تفریحی شعبہ کے مدیر ڈوگلس لانگ نے کہا کہ بلاروک ٹوک دھنیں چوری کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے پاس ایسے پروڈیوسر نہیں ہیں جو موسیقاروں کے گروپوں اور فلم پراجیکٹس کی مدد کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہاں پر ایک ایسے نظام کا ہونا بڑی اچھی بات ہوگی جہاں گروپ میانمار کا نمایاں منظر نامہ تخلیق کرنے اور نئی بنیادی تعمیر کرنے میں زیادہ آرام دہ محسوس کریں گے۔
خود اپنی آواز کا جادو جگانے والا ایک گروپ می این ما گرلز ہے یہ پانچ لڑکیوں کا ایک گروپ ہے جو انگریزی اور برمی میں خود اپنے نغمے تحریر کرتا ہے ۔
ان میں سے ایک وہ نغمے ہیں جس میں میانمار کے تارکین وطن سے کہا جاتا ہے کہ وہ وطن واپس آکر اس کی تعمیر میں حصہ لیں۔
اس گروپ کی آسٹریلوی خاتون انجینئر نکی وے جو میانمار میں مقیم ہے کو امید ہے کہ خود اپنی موسیقی ترتیب دے کر اس گروپ کیلئے عالمی سٹیج پر پھلنے پھولنے میں آسانی ہوگی اور انہیں بغیر اجازت کورز گانے کی بھی زحمت بھی نہیں اٹھانی پڑے گی۔
اس کا کہنا ہے کہ اگر کاپی رائٹ کے مسائل ہوں گے تو موسیقار کبھی بیرون میانمار نہیں جاسکیں گے،اس طرح وہ اپنے ملک کی کبھی نمائندگی کرنے کے بھی قابل نہیں ہوسکیں گے۔
اس گروپ کا کہنا ہے کہ دوسرے فنکاروں نے بھی اب یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ وہ مستقبل میں اصل مواد پر توجہ مرکوز کریں گے۔
اکیس سالہ آدمون نے کہا بڑے فنکاروں نے ایسا کرنا شروع کردیا ہے۔
لہٰذا نو آموزوں کا ان سے متاثر ہونا آسان ہوگا۔
می این ما گرلز کو گزشتہ سال ملک میں ہونیوالی اصلاحات کی وجہ سے اب کم سنسر شپ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ان اصلاحات کی بدولت یہ پہلا گروپ ہوگا جسے اپنی ویڈیوز میں رنگین وگز پہنے کی اجازت ہوگی۔
تاہم ان کی چست روایتی لباس اور توانائی سے بھرپور مغربی طرز کے رقص کی کوششوں کا امتزاج اب بھی منطقی چیلنج ہے۔
مے نے کہا کہ ایسے اعتدال پسند ملک میں ہنسانا بھی مشکل ہے جہاں قحبہ خانوں میں ناچنے والی عورتوں کو جنسی صنعت سے نتھی کیا جاتا ہے۔
یہ موسیقار لڑکیوں کے ان گروپوں کی طرح ہے جو براہ راست پروگرام پیش کرنے کی تگ ودو کر رہا ہے اور انہیں محدودے چند مقامات پر موسیقی کے پروگرام پیش کرنے کی اجازت ہے۔
انڈیائی راک گروپ سائیڈ ایفکٹ کے ممتاز موسیقار ڈلاکوسی نے کہا کہ اب ہمارے پاس پروگرام پیش کرنے کے منتظر کافی نئے گروپ ہیں۔
حال ہی میں ایک امریکی ویب سائٹ کی طرف سے آن لائن پر اپنی پہلی البم ریلیز کرنے کی اپیل کے ذریعے اکٹھی کی جانے والی قریباً تین ہزار ڈالر کی رقم بھیجنے سے انکار کے بعد یہ گروپ خبروں میں نمایاں ہوگیا ہے۔
امریکی ویب سائٹ نے اس وجہ سے یہ رقم بھیجنے سے انکار کردیا کیونکہ اسے ڈر تھا کہ ایسا کرنا امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی ہوگا۔
سائیڈ ایفکیٹ گروپ کو جس کا بغیر ڈرم والا ڈرمرٹسر یٹو گھر پر کتابوں کے ڈھیر پر پریکٹس کرتا ہے۔
کھلکھلا کر ہنسنے پر بہت کم ادائیگی کی جاتی ہے اور ڈریکوسی جو پابندیوں کو نامعقول قرار دیتا ہے کیونکہ ان سے عام آدمی متاثر ہوتا ہے گزر اوقات کیلئے درزی کی ایک چھوٹی سی دکان کرتا ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ اس گروپ نے دل سے کام کرنے کا عزم کر رکھا ہے اور اس نے ملک کے نقل کرنیوالے فنکاروں کے لئے چیلنج پیدا کردیا ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ آپ کے پاس یہ عظیم موسیقار ہیں لیکن آپ شاکر مایا لیڈی گاگا یا جون بون جودی یا گرین ڈے نہیں ہیں،لہٰذا تم کیا ہو؟مجھے بتاؤ تم نے کیا حاصل کیا ہے؟۔

یہ بھی پڑھیں  ایشیا میں خواتین میں بریسٹ کینسرمیں اضافہ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker