تازہ ترینکالممحمد فرقان

منفی سوچ آخر کیوں؟

Muhammad Furqanہم لوگ مثبت سوچنے کے بجائے ہمیشہ منفی سوچتے رہتے ہیں۔ہم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ یہ چیز اچھی ہے،فلاں سیاست دان اچھا ہے اور اِسی طرح کی ہزاروں ایسی مثالیں ہیں۔منفی سوچ رکھتے ہوئے ہم عوام ہر سیاست دان کو برابھلا کہتے ہیں لیکن سوچنے کی بات ہے کیا کسی اچھے سیاست دان کو اچھے لفظوں میں بھی یاد کرتے ہیں؟ہم اچھے لفظوں میں ہر گز نہیںیاد کرتے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم عوام میں سے اکثریت کی سوچ ہو منفی ہوتی ہے اور منفی سوچ رکھنے والے شخص کو ہر جگہ غلطیاں اور برائیاں ہی نظر آتی ہیں۔

میں روز مرہ زندگی کی عام سی مثال دیتا ہوں،میز پر پانی کا گلاس پڑا ہوا ہے جو پانی سے آدھا بھرا ہوا ہے لیکن ہم جیسے ہی دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ تو آدھا خالی ہے کہنے کا مطلب یہ ہوا کہ ہمارا دھیان بھرے گلاس کے بجائے آدھے خالی گلاس کی طرف کیوں گیا؟اس کی اصل وجہ ہماری ہماے سوچنے کی صلاحیت منفی انداز میں کام کر رہی ہے کیوں کہ ہمارے لیے تو آدھا بھرا گلاس فائدہ مند تھا لیکن ہم نے اُسے اہمیت نہیں دی اور اپنا زیادہ دھیان خالی گلاس کی طرف کیا،یعنی کہ ہمارے سوچنے کا انداز مثبت نہیں بلکہ منفی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں  بھائی پھیرو:تیل کا بحران ختم کرنے کے لئے حکومت کو ہنگامی اقدامات کرنے چاہیےِ،عرفان بھٹی

منفی سوچ رکھنے والے لوگ اپنی مصیبتوں اور مشکلات کا ذمہ دار ہمیشہ دوسروں کو ٹھہراتے ہے ایسے لوگوں کے ساتھ دوسرے بات چیت کرنے سے کتراتے ہیں اور ایسے لوگوں کے ساتھ گزارہ کرنا کافی مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں کیوں کہ آ ج کل ہر دوسرے شخص کی سوچ منفی ہے۔منفی سوچ رکھنے والے لوگ اپنے مسائل کا حل ڈھونڈنے کے بجائے اپنا بہت سا قیمتی وقت مسائل پر بخث کرنے میں ضائع کر دیتے ہیں ،اب بھلا بحث کرنے سے مسائل کا حل تھوڑا ہی نکل آئے گااس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ایسے منفی سوچ رکھنے والے لوگوں کے پاس وقت کی کوئی قدرو قیمت نہیں ہوتی۔

یہ بھی پڑھیں  پاکستان تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی الیکشن کی تاریخ کا اعلان کردیا

قارئین۔ایک اچھا اور کامیاب شخص بننے کے لیے مثبت سوچ کے ساتھ ساتھ وقت کی قدر و قیمت کا احساس ہونا لازمی ہے کیونکہ گُزرا ہوا وقت دوبارہ ہاتھ نہیں آتا اور پھر انسان گزرے وقت پر افسوس کرنے کے سوا کچھ حاصل نہیں۔یہ زندگی کی حقیقت ہے کہ ہر انسان میں کچھ خوبیاں اور کچھ خامیاں پائی جاتی ہیں لیکن معلوم نہیں کہ ہم خوبیوں کے بجائے کسی کی خامیوں پرکیوں زیادہ دھیان دیتے ہیں،حالانکہ ہمیں مثبت سوچ کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی کی خامیوں کے بجائے خوبیوں پر زیادہ دھیان دینا چاہیے تاکہ اُس شخص کی حوصلہ افزائی ہو جس کی خامیوں پر زیادہ دھیان دیا جارہا ہوتا ہے۔
ضرورت اِس امر کی ہے کہ ہم ہر وقت اپنے آپ کومثبت سوچنے کی طرف راغب رکھیں کیونکہ مثبت سوچ رکھنے سے انسان کے شخصیت میں نکھار پیدا ہوتا ہے۔آپ نے بغور مشاہدہ کیا ہو گاکہ منفی سوچ رکھنے والے لوگوں میں چِر چڑا پن ہوتا ہے۔ہر کام میں مکھیاں نکالتے ہیں اور ہر کسی کے ساتھ منفی انداز میں بات کرتے ہوئے غصہ ہوتے رہتے ہیں۔منفی سوچ کے بہت سارے نقصانات بھی ہیں جیسے انسان مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے،ذہن میں ہر وقت بد گمانیاں چلتی رہتی ہیں اور منفی سوچ انسان کے نفس پر بری طرح اثر انداز ہوتی ہے جیسے ذِدی پن وغیرہ۔
ہمیں چاہیے کہ مثبت سوچ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی شخصیت میں نکھار لائیں۔لوگوں کی خامیوں پر بحث کرنے کے بجائے خوبیوں کے متعلق بات کرنے کی ضرورت ہے ۔مثبت اور منفی سوچ کاتعلق براہ راست دماغ سے ہے اور انسان مثبت سوچنا شروع کر د ے تو دماغی طور پر مکمل مطمئن ہوتاہے اور ایسا محسوس کرتا ہے کہ آج تک اُسے کسی مصیبت یا پریشانی کا سامنا کرنا ہی نہیں پڑالیکن اصل میں آرام و سکون کی وجہ اُس شخص کی مثبت سوچ ہے کیونکہ مثبت سوچ انسان کے لیے فائدہ مند ہے۔

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ : نوجوانوں میں پینٹنگ سمیت دیگر شعبوں میں آگے بڑھنے کے لئے مواقع فراہم کئے جائیں . صائمہ احد

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker