تازہ ترینکالمملک عامر نواز

حلقہ PP-22 کی دلچسپ سیاسی صورت حال

محترم قارئین !تحصیل تلہ گنگ کے حلقہ PP-22 کی سیاست کا رخ کا فی دلچسپ صورت حال میں داخل ہو تا دیکھا ئی دے رہا ہے ۔ ایک طرف ن لیگ کے امیدواروں کا رش ،اور آپس میں ٹانگیں کھینچنے کی روش جبکہ دوسری طرف ق لیگ اور پیپلز پارٹی کے اتحاد کی خوب دھوم مچتی دیکھا ئی دے رہی ہے ۔ کیو نکہ ق لیگ کے رہنماء و نائب وزیر اعظم چوہدری پرویز الہی پوری طرح الیکشن کی پوزیشن کو بہتر کر نے کی جستجو میں دیکھا ئی دیتے ہیں ۔ اور جس کی واضح مثال حافظ عمار یا سر کا خوب سرگرم اور جوشیلے انداز سے مختلف جگہوں پر سوئی گیس کا افتتاح کر نا ۔ اور باقاعدہ طور پر کام کا آغاز کروانا بتاتا ہے کہ ق لیگ عوام کی ہمدردیاں حاصل کر نے میں نمبر ون جا رہی ہے ۔ اور خاص کر تلہ گنگ کے تقریبا 35 ہزار ووٹرز کو اپنے حق میں کر نے کے لئے خوب زور لگا رہے ہیں ۔
عوامی وسیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ حافظ عمار یا سر کی خدمات عوام کے سامنے ہیں ۔ انہوں نے ہمیشہ عوام کی بھلا ئی کے لئے ق لیگ کے پلیٹ فارم سے عوام کو فائدہ پہنچانے کی خوب کو شش کی ہے ۔ گو کہ اس میں ق لیگ کی قیادت کا سیاسی مفاد شامل ہے لیکن کو ئی بھی سیاست دان اگر کسی علا قے میں کا موں کا جال بچھا تا ہے تو اس کا مفاد تو اس میں لا زم ہو تا ہے ۔ بہر حال جو صورت حال ہما رے مقا می لیڈران کی ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے ۔ کہ انہوں نے عوام کو کیا دیا ۔ بے شک سیاسی نقطہ نظر سے چوہدری پر ویز الہی ایک بیرونی حملہ آور ہی سہی لیکن جو فائدہ تلہ گنگ کی عوام کو چوہدری پر ویز الہی کی وساطت سے حافظ عمار یا سر نے دلوایا ہے وہ آج تک کسی وڈیرہ شاہی کرنے والے نے نہیں کروایا۔ اسی وجہ سے حافظ عمار یا سر کو عوام قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے ۔ جو کہ اس کا حق بنتا ہے ۔
ق لیگ کا سیاسی گراف جس قدر نچلی سطح پر تھا اسی قدر یک دم اونچائی کی طرف دیکھا ئی دے رہا ہے ۔اور ق لیگ کا پیپلز پارٹی کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر کے الیکشن لڑنا پیپلز پا رٹی کے لئے بھی بے حد مفید ہے۔ جس طرح ق لیگ کا سیاسی گراف بتدریج اوپر جا تا دیکھائی دے رہا ہے ۔ اس سے پیپلز پارٹی کے امیدوار کی پوزیشن بھی مضبوط ہو گی ۔ اس وقت حلقہ PP-22 پر الیکشن لڑنے کے لئے ق لیگ کے امیدوار سابق ایم پی اے سید تقلید رضا شاہ اور پیپلز پارٹی کے امیدوار سابق امیدوار حلقہPP-22 ڈاکٹر علی حسنین نقوی ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ق لیگ اور پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت اس سیٹ پر کس امیدوار کو چانس دیتی ہے ۔ دیکھا جا ئے تودونوں امیدوار حلقہ میں پوری طرح سرگرم دیکھا ئی دیتے ہیں ۔ اور اپنی سیاسی پوزیشن کو بہتر بنا نے کی کا وش میں ہیں ۔ اگر تو جو حالات دیکھا ئی دے رہے ہیں ان کے مطابق ٹکٹ ڈاکٹر علی حسنین نقوی کو ملتا ہے تو اس سے ان کی سیاسی پوزیشن کو بھی مشکوک نہیں کیا جا سکتا ۔ گو انہوں نے گذشتہ الیکشن میں تقریبا 8000 ووٹ لیا تھا تب حالات کی نزاکت کچھ اور نعج پہ تھی ۔ اس وقت کے پیپلز پارٹی
کے امیدوار برا ئے قومی اسمبلی سردار منصورحیات ٹمن نے بھی ان کا ساتھ نہیں دیا تھا ۔ اور وہ ان کا پہلا الیکشن تھا ۔ لیکن اب پوزیشن ق لیگ کی سپورٹ سے خاصی مختلف ہو گی ۔ اور یوں پیپلز پارٹی کا امیدوار کا میاب ہو سکتا ہے ۔ اور اگر ق لیگ اپنا امیدوار میدان میں اتار ے تب بھی ق لیگ کے امیدوار سید تقلید رضا شاہ کی پو زیشن بہتر ہو گی ۔ دونوں ہی امیدوار حلقہ PP-22 کے لئے ق لیگ کے موزوں ترین امیدوار ہیں ۔
جہاں ق لیگ اور پیپلز پارٹی اپنا ہوم ورک مکمل کر نے کے ساتھ ساتھ عوام کا رخ اپنی طرف موڑتے دیکھا ئی دیتے ہیں ۔ اسی تیزی کے ساتھ ن لیگ کے امیدوار آج کل اوور لوڈنگ کا شکا ر کشتی کے سواروں کا راہ روکنے کے لئے آپس میں اتفاق و اتحاد کی پینگیں ڈالنے میں مصروف ہیں ۔ کیو نکہ جب چکوال میں ن لیگ کے امیدواروں کا PP-22 کے ٹکٹ کے حصول کے لئے انٹرویو لیا گیا تو اس میں سات امیدواروں نے شمو لیت کی تھی جن میں سیاسی حوالے سے بھا ری امیدوار ملک سلیم اقبال اور سردار ذوالفقار علی خان دلہہ تھے اب صورت حال یہ ہو گئی ہے کہ ایم این اے سردار ممتاز خان ٹمن اورسردار ذوالفقار علی خان دلہہ نے اس بات پر اتفاق کر لیا ہے کہ PP-22 پر ملک سلیم اقبال خود آئے یا ملک شہر یار کو لا ئے کسی صورت میں بھی ٹکٹ کا رخ اس طرف نہیں ہو نے دینا ۔ اس اتفاق پر ن لیگ کی مقامی سطح پر پھوٹ پیدا ہو نے کا سخت اندیشہ ہے ۔
عوا می سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ سردار ذوالفقار علی خان دلہہ کو ایم این اے سردار ممتا ز خان ٹمن کی بجا ئے ملک سلیم اقبال کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا نا فا ئدہ مند ثابت ہو تا ۔ لیکن سردار ذوالفقار علی خان دلہہ نے ہمیشہ کی طرح ایک غلط پتہ کھیلا ہے ۔ جو کہ سیاسی حوالے سے کسی طور بھی سردار ذوالفقار علی خان دلہہ کو فائدہ مند نہیں ہو سکتا ۔

یہ بھی پڑھیں  چنیوٹ :پولیس نے عوام کے ساتھ انوکھا رویہ اختیار کرتے ہوئے ایک اور نیا قانون کا نظام کو مسلط کردیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker