تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

پیپلزپارٹی ملک گیرجماعت مگر۔۔۔

zafarاگرچہ نوعیت مختلف مگر قومی دھارے کی دوسیاسی جماعتیں پاکستان پیپلزپارٹی اور متحدہ قوی موومنٹ ایک عرصے سے مشکل صورتحال کا سامنا کررہی ہیں پیپلزپارٹی کاذکرکرتے ہوئے دیکھاجائے تولگتایہ ہے کہ پنجاب میں پیپلزپارٹی کے سیاسی پنجرے کادروازہ کھلارہ گیاہے جس میں پروازکے منتظرقید سیاسی پرندے پر پر کرتے محوِپروازہورہے ہیں۔اوکاڑہ سے تعلق رکھتے سابق وزیرمملکت صمصام بخاری اوراہم دیرینہ راہنماء اشرف سوہنا کی قیادت میں کابینہ کے تمام اراکین پارٹی کوخیربادکہہ کرکپتان کی ٹیم میں شامل ہوگئے ہیں۔ پارٹی چھوڑکرنئی سیاسی بساط بنانے والے رہنماء پنجاب میں پیپلزپارٹی کی قیادت سے اختلافات اور مرکزی قیادت کی جانب سے مسلسل سرد مہری کا مظاہرہ،کارکنان کونظراندازکرنے کے طرزعمل اورپیپلز پارٹی کابحیثیت اپوزیشن جماعت اصل اپوزیشن کاکردار اداکرنے کے برعکس مسلم لیگ نوازکی حکومت کی پالیسیوں کی حمایت کوپارٹی چھوڑنے کی بنیاد بناتے ہوئے واضح کررہے ہیں کہ اس تمام عمل سے ورکرزمیں بے چینی،پریشانی اور مایوسی کی لہردوڑرہی تھی جبکہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے متعددباررابطہ کرنے اور اسے صورتحال سے آگاہ کرنے کے باوجود قیادت کی جانب سے کوئی شنوائی ہورہی تھی نہ ہی پیپلزپارٹی کاوہ کردار سامنے آرہاتھا جواس کا خاصہ رہاہے اورجس کے لئے وہ شہرت رکھتی ہے۔قصہ صرف صمصام بخاری، اشرف سوہنااوراوکاڑہ کے دیگر کارکنان کی پارٹی وفاداری تبدیل کرنے تک محدود نہیں بلکہ پنجاب کے بیشتراضلاع سے تعلق رکھتے پیپلزپارٹی کے سابق منتخب ممبران اسمبلی اور پارٹی عہدیداراب تک پارٹی چھوڑچکے ہیں اورتحریک انصاف کی قیادت کاکہنایہ ہے کہ پیپلز پارٹی چھوڑکرپی ٹی آئی میں شامل ہونے کاعمل بدستورجاری ہے۔ ادھرسیالکوٹ سے تعلق رکھتی سابق خاتون وفاقی وزیر اور پیپلزپارٹی پنجاب کی نائب صدرڈاکٹرفردوس عاشق اعوان نے بھی پارٹی عہدے سے دستبردارہونے کا اپناستعفیٰ پارٹی چیئرمین کوتھمادیاہے۔ اگرچہ یہ ایک الگ بحث ہے کہ تبدیلی کی علمبرداراورشفافیت کی دعویدارپی ٹی آئی پیپلزپارٹی جیسی جماعت کے باغیوں کواپنی آغوش میں کیوں لے رہی ہے جس کی قیادت،حکومتی وزراء اور پارٹی عہدیداروں پرتسلسل کے ساتھ مالی بدعنوانی کے سنگین الزامات عائد کرکے وہ کرپٹ ترین قراردیتی رہی ہے تاہم اس صورتحال کودیکھتے ہوئے سوال یہ جنم لے رہاہے کہ کیاپنجاب میں جنم لیتی بھٹوکی پارٹی پنجاب میں دم توڑرہی ہے، کیاپنجاب سے پیپلزپارٹی کاصفایاہورہاہے،کیاپیپلزپارٹی محض ایک صوبے تک محدود ہوکررہ گئی ہے؟اگرچہ پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری رہنماؤں کے پارٹی چھوڑنے پر سخت برہم نظرآئے اور بڑی عجلت میں پنجاب کے پارٹی صدرمنظوروٹو اور دیگر قیادت کوکراچی بلا کران سے پوچھ گچھ کی ہے تاہم ایسے وقت میں جبکہ پارٹی ایک مشکل صورتحال سے دوچارہے مفاہمتی سیاست کے لئے شہرت رکھتے پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری ملک سے باہر چلے گئے ہیں اور ان کی ملک میں عدم موجودگی سے متعلق کی جانے والی قیاس آرائیاں پارٹی عہدیداروں اور کارکنان کے لئے مزید پریشانی اورمایوسی کاسبب بن رہی ہیں۔ اگرچہ تسلسل کے ساتھ پارٹی عہدیداروں کاپارٹی کاساتھ چھوڑنا پیپلزپارٹی کے لئے تکلیف دہ امرہے تاہم پارٹی قیادت کاکہنایہ ہے کہ یہ ان کے لئے کوئی نئی بات نہیں۔ ان کی جماعت کے خلاف ماضی میں بھی اس طرح کی سازشیں ہوتی رہی ہیں ۔پیپلزپارٹی کے مطابق ساتھیوں کاساتھ چھوڑنا اچھی بات نہیں تاہم چند لوگوں کے جانے سے پارٹی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔پیپلزپارٹی ایک سوچ کانام ہے اور یہ بھٹوکی جماعت ہے جسے کوئی ختم نہیں کرسکتا۔ بظاہرپرا عتمادہونے کاتاثردیتی پیپلزپارٹی کی قیادت کانقطہ نظر اپنی جگہ دوسری جانب عوامی اور سیاسی حلقوں میں پائی جانے والی رائے یہ ہے کہ سابق صدرمملکت اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے اپنی مفاہمتی سیاست کے تحت پانچ سالہ حکومتی مدت تو کامیابی سے پوری کرلی جس میں وہ ایک طرف صدرمملکت کے منصب پر فائز رہے تودوسری جانب پارٹی کی قیادت بھی کرتے رہے مگر پارٹی کویکجااور ورکرز کے اعتماد کو بحال رکھنے میں ناکام رہے ۔انہوں نے مفاہمت کی سیاست کوغیرضروری فروغ دے کر ایسے غیر فطری اقدامات اٹھائے جوپارٹی کے لئے نقصان دہ ثابت ہوئے جن میں مسلم لیگ نون کے ساتھ قریبی تعلقات ،انہوں نے نون لیگ کوحکومت سازی کے پہلے مرحلے میں حکومت میں شامل رکھااور بعد میں جب کہ مسلم لیگ نواز اپوزیشن کاکرداراداکررہی تھی اس کے ساتھ اتنے قریبی مراسم قائم رکھے کہ اس پر فرینڈلی اپوزیشن کابھی الزام لگتارہا ۔اس دور میں مسلم لیگ ق کے ساتھ حکومتی اتحاد اور چوہدری پرویزالٰہی کوڈپٹی وزیر اعظم کے منصب پرفائزکرنا بھی غیرفطری عمل قراردیاجاتاہے اوراگرچہ پارٹی کے عہدیداراور کارکنان پارٹی پالیسی اور پارٹی ڈسپلن کے تحت بظاہرتو چھپ رہے مگرپس پردہ پارٹی کے اندرون خانہ ان اقدامات کواچھی نظر سے نہیں دیکھاجارہاتھا۔اور شائد یہی وہ عوامل ہیں جو آج پارٹی کے ریزہ ریزہ ہونے اورمحض ایک صوبے تک محدود ہوجانے کاسبب بن رہے ہیں۔پنجاب کے بیشتر پارٹی عہدیداروں کاکہنایہ ہے کہ پارٹی قیادت پنجاب میں پارٹی کووہ توجہ دینے سے قاصررہی جس کی اشد ضرورت تھی اور تمام تر توجہ سندھ پر مرکوزرکھنے سے پنجاب میں پارٹی کوناقابل تلافی نقصان پہنچاہے جبکہ تشویش ناک امر یہ ہے کہ مفاہمت کی سیاست میں پیپلزپارٹی اوراس کے روایتی حریف نون لیگ میں قریب اتنی بڑھ گئی ہے کہ اب پنجاب میں پیپلزپارٹی کے لئے سیاست کرنا مشکل ہوگیاہے۔کیاہواپیپلزپارٹی کے ساتھ،کیاہورہاہے اور کس نے کیابھٹوکی جماعت سے یہ زیادتی اگرچہ یہ سوالات جواب طلب ہیں تاہم سوال یہ بھی اہم ہے کہ اب کیاہوگا،کیاپیپلزپارٹی کی قیادت اس صورتحال پر قابوپانے میں کامیاب ہوپائے گی اس کاجواب ملنے کے لئے عید تک انتظار کرناہوگا۔دیکھتے ہیں ہوتاہے کیا۔

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ : پاکستان کے معروضی حالات کے تناظر میں پولیو کے خاتمہ کے لئے ہمیں اجتماعی کاوشوں کو مزید بڑھاوا دینا ہے .ڈسٹرکٹ کوآرڈنیشن آفیسر قیصر سلیم

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker