بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

پی پی پی کے 5سال۔۔۔۔۔اب نہیں پھر کبھی نہیں ۔؟؟؟

bashir ahmad mirآخر کار ہفتہ بھر کی تگ و دو کے بعد نگران وزیراعظم کا قرعہ فال بلوچستان سے تعلق رکھنے والے میر ہزار خان کھوسو کے مقدر میں نکل آیا ۔الیکشن کمیشن نے واقعی سر پرائز دیا ،جو کام حکومت اور اپوزیشن پھر پارلیمانی کمیٹی نہ کر سکی وہ فریضہ بآسانی فخرو بھائی نے کر دکھایا۔جن کے متعلق ہمارے ملک کے دانشور ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا تھا کہ فخرو جی اسی کا سن عبور کر چکے ہیں ان میں اتنی صلاحیت کہاں کہ وہ انتخابات کی بھاری ذمہ داری ادا کر سکیں ،مگر اتنا بڑا فیصلہ جسے مانے ہوئے سیاستدان نہیں کر سکے وہ جس سوچ و فکر کے ساتھ کیا گیا یہ فخر الدین جی ابراہیم کے لئے قابل ستائش ہے واقعی انہوں نے پہلا ٹیسٹ کیس کامیاب کر دکھایا۔یقیناًانتخابی عمل بھی شفاف کرنے میں ان کی کاوشیں رنگ لائیں گی۔
ہمارے 26ویں وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے راجدھانی کو نگران وزیر ا عظم کے نامزد ہوتے ہی با عزت خیر آباد کرنا جمہوری عمل کی فتح قرار دیا جا سکتا ہے ۔اب 11مئی کے انتخابات کسے وزارت عظمٰی کا تاج پہناتے ہیں یہ فیصلہ عوام کے کورٹ میں ہے ۔لیکن آمدہ انتخابات کے بارے ذکر کرنے سے پہلے کچھ 5سالہ جمہوری حکومت کی کارکردگی کا ذکر کرنا ضروری ہے پھر ہم آگے بڑھیں گے کہ کیا جمہوری عمل ملک کے مفاد میں ہے ۔
بلاشبہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے 5سال پورے کئے ۔ان 5برسوں کے دوران جہاں ماضی سے ورثہ میں ملنے والے کئی مسائل نے پوری قوم کو جکڑا ہوا ہے اس کے باوجود جمہوری حکومت نے ہر چیلنج کا پا مردی سے مقابلہ کیا۔سچی بات کی جائے تو ’’ایک زرداری سب پہ بھاری‘‘ کا نعرہ حقیقت ثابت ہوا ۔ورنہ پہلے دن سے یہ کہا جاتا رہا کہ یہ بس چند دنوں کے’’ مہمان ‘‘۔ہماری قومی تاریخ میں پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت ہے جسے آئینی مدت پورا کرنے کا موقع ملا ۔اس دوران 1973ء کے آئین کی بحالی ، عدلیہ کی آذادی ،این ایف سی ایوارڈ،بلوچوں کی معافی اور آغاز حقوق بلوچستان پیکیج،مالا کنڈ اور سوات میں دہشتگردی کے خلاف آپریشن اور امن و امان کی بحالی ،گلگت بلتستان کا پیکیج ،صوبہ سرحد سے خیبر پختونخوا کا سفر پورا کرنا،سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنا، بجلی کے بحران کو قابو پانے کے لئے نیلم جہلم پراجیکٹ ،داسو پن بجلی منصوبہ اور دیامیر ڈیم پر کام کا آغاز جاتے جاتے ایران پاکستان گیس معاہدہ اور گوادر پورٹ کو چین کے حوالے کرنے کے فیصلوں سے مستقبل میں بے شمار فوائد قوم کو حاصل ہونگے ۔ان سارے قابل تعریف اقدامات کے باوجود پیپلز پارٹی کو مختلف سیکینڈلز سے واسطہ رہا جو جمہوری حکومت کی بد نامی کا سبب بنے جن میں قابل ذکر چینی ،پیٹرول ،سی این جی ،جعلی ڈگری ،سٹیل مل،حج ،رینٹل پاور ،ایفیڈرین ،میمو گیٹ،اوگرا،ریمنڈ ڈیوس سمیت کئی عدالتی معاملات سے حکومت کی کارکردگی ماند پڑتی ہوئی دھائی دے رہی ہے بالخصوص مہنگائی نے عام آدمی کو کچل رکھا ہے ۔اگر یہ کہا جائے کہ مہنگائی پہلا بڑا چیلنج ہے جس کو پیپلز پارٹی کی حکومت حل کرنے میں ناکام ہوئی غلط نہ ہوگا ۔کیونکہ مہنگائی سے 95%عوام براہ روست متاثر ہوئی ہے ۔اگر ہم 2008ء کے نرخوں کا موجودہ حالات سے موازنہ کریں تو بخوبی اخذ ہوتا ہے کہ عوام کی کھال کس طرح ادھیڑی گئی ،نہ جانے آنے والے جسم کا گوشت بھی نوچ لیں ۔۔۔۔!!! مختصراً اوسط کوالٹی کا آٹا 10کلو گرام 2008میں 182.82روپے تھا جو اب 367.6روپے ہو چکا ہے ۔عام چاول 29.32سے 50.51روپے،بڑا گوشت123.03سے اب268.57روپے ،چھوٹا گوشت 236.49سے 517.07روپے ،مرغی 83.39سے 133.82روپے،تازہ دودھ 30.45سے 65.56روپے،گھی 312.97سے 505.ooروپے،دال چنا 44.78سے 98.85روپے چینی 27.92سے 51.83روپے،ادرک 46.18 سے141.14روپے،چائے پیکٹ 200گرام 66.83سے 148.67روپے ،گیس 95روپے سے123روپے ،مہنگائی کی اصل جڑ پیٹرولیم مصنوعات کے انراخ رہے جن میں دوگنا اضافہ ہوا اس وجہ سے دیگر اشیاء خورد نوش کے نرخ ہوشربا بڑھے ہیں۔بجلی جو عام ضرورت ہے اس کے نرخوں میں لوڈ شیڈنگ کے باوجود کئی گنا اضافہ کیا گیا۔ایک عام شہری کے یوٹیلٹی بلز میں 50%سے 200%تک اضافہ کیا گیا جبکہ آمدن کے لحاظ سے اب بھی گریجویٹ کے حامل محنت کش بمشکل،خوش قسمتی سے زیادہ سے زیادہ 15000ہزار روپے تک ماہوار کما رہا ہے حالانکہ اخراجات کے لحاظ سے ایک گھرانے کا کم از کم 25000ہزار روپے ماہوار خرچ آرہا ہے ۔آمدن اور خرچ کے عدم توازن کو جمہوری حکومت ختم کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے جس سے عام شہری پیپلز پارٹی کے کسی وعدے کو تسلیم نہیں کر رہے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ اب دوسری جماعتوں کی طرف عوام نے اپنا رجحان دینا شروع کر دیا ہے ۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق پیپلز پارٹی کا ووٹ بنک پہلے کی نسبت کافی کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے ،نوجوانوں کی اکثریت مسلم لیگ ن، تحریک انصاف ،ایم کیو ایم ،تحریک منہاج القران سمیت دیگر سیاسی قوتوں کو نجات دہندہ تصور کر رہی ہے جبکہ انتخابی مہم کے آغاز پر پیپلز پارٹی کے دیرنیہ کارکن نبیل گبول ایم کیو ایم میں چلے گے اسی طرح فخر امام نے مسلم لیگ ن کو جوائن کر لیا ،ق لیگ جو حکومت کی اتحادی رہی اس کے بیشتر اراکین نے ادھر ادھر جانے کا عمل شروع کر رکھا ہے اس سارے کھیل کی شروعات میں پی پی پی پی کا گراف گرتا ہوا دکھائی دے رہا ہے ۔پی پی نے اپنے منشور میں ایک عام محنت کش کے لئے ماہوار 18000ہزار تنخواہ جبکہ مسلم لیگ ن نے اپنے منشور میں 15000روپے رکھے ہیں مگر عوام سوچتی ہے کہ یہ وعدہ پہلے سال کے بجٹ میں پورا کیا جائے گا یا پھر 2018ء تک انتظار کرنا پڑے گا۔تحریک انصاف کا منشور آنے والا ہے اگر انہوں نے دو بڑی جماعتوں سے بہتر منشور پیش کیا تو ممکن ہے کہ ان کا ووٹ بنک کچھ بڑھ جائے مگر ابھی تک ہمارے ملک میں جاگیردارانہ ، سرمایہ دارانہ نظام کو بدلنا مشکل ،ان شخصی اور روایاتی بتوں کو پاش پاش کرنا ایک خواب ہے ۔عوام کا استحصال کرنے والے سیاسی رہنماؤں کو اچھی خاصی تعداد میں عوام دشمن کارکنوں کی کافی حمایت حاصل ہے جو عوام کو بیوقوف بنا کر ووٹ لینے میں ماہر سمجھے جاتے ہیں ان کی مہربانیوں سے عوام بار بار کچلے جارہے ہیں ۔اب عوام کو انفرادی طور پر فیصلہ کرنا ہو گا کہ ان کے ووٹ کا حقیقی مستحق کون ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟اگر جمہوریت کو مضبوط کرنا ہے تو پھر عوام کو بیدار ہونا پڑے گا ورنہ آنے والے 5سال میں سبھی ایسے ہی ہاتھ ملتے ملتے رہ جائیں گے ۔قوم کو خوشحال بنانے کے لئے ہر ووٹر کی ذمہ داری ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کرئے ۔اب نہیں تو پھر کبھی نہیں کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے عوام اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کی noteکوشش کریں۔اسی میں ان کی بہتری ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں  پنجاب کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش ،سردی کی شدت میں اضافہ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker