انور عباس انورتازہ ترینکالم

پیپلز پارٹی کی قیادت ہوش کے ناحن لے

anwar abasانتخابات میں بری طرح بلکہ عبرت ناک شکست و عزمیت اٹھانے کے بعد خیال تھا کہ پیپلز پارٹی کوئی سبق سیکھے گی۔اور مستقبل کی بہتر منصوبہ بندی کرکے ساتھ میدان میں اترے گی۔لیکن لگتا یوں ہے کہ پیپلز پارٹی نے انتخابی نتائج سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ایک وقت تھا کہ مخالفین کہا کرتے تھے کہ پیپلز پارٹی کے کارکن انتہائی تربیت یافتہ ہیں۔اور یہ جب چاہئیں کسی بھی حکومت کا ناک میں دم کر سکتے ہیں۔اور اسلیے نکا مقابلہ کرنا آسان کام نہیں ہے۔لیکن مجھے اس سوچ کے حامل ادراد سے اتفاق نہیں ہے۔کیونکہ ایسا 1988سے قبل تھا اب نہیں۔ پہلے دور حکومت میں وزرا سمیت تمام حکومتی عہدے دار پارلیمنٹ میں پوری تیاری کے ساتھ آتے تھے۔لیکن بعد کے ادوار میں ایسا کچھ مشاہدہ میں نہیں آیا۔ابھی تک 1988والی اسی پرانی ڈگر پر چل رہی ہے۔
پیپلز پارٹی کے جنگجو اور جیالے کارکن اب اپنے قائدین کی تقلید کرتے ہوئے نظریاتی نہیں رہے بلکہ مالیاتی سوچ کے پیرو ہوگے ہیں۔لیڈروں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے یہ بھی دیہاڑیاں لگانے کے صاحب ہنر ہوگے ہیں۔اب انکے ذہن نظریاتی کھیت نہیں بلکہ ’’ ڈالر کھیت‘‘ میں تبدیل ہو چکے ہیں۔اگر کسی کو میری بات میں شک ہو تو وہ مانی پہلوان،ڈاکٹر اسرار شاہ ،اسلام آباد والے،ساجدہ میر،عبدالقادر شاہین اور اسلم گل وغیرہ کو دیکھ سکتے ہیں،یہ تو چند نام محض مثال اور حوالہ کے لیے دئیے گے ہیں۔ایسے کارکنوں کی لمبی فہرست پیش کی جا سکتی ہے جو 1988سے قبل کچھ نہ تھے انکے گھروں پر فاقے تھے مگر آج وہ کروڑوں اور اربوں کی باتیں کرتے ہیں۔
صدر زرداری سمجھتے ہیں کہ انہوں نے انتخابات میں پارٹی کی شکست کی ذمہ داری ریٹرننگ افسروں پر ڈال کر اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔انہوں نے انتخابات میں اپنی شکست تسلیم کرکے اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے والوں کے استعفی بھی نہ منظور کر دئیے ہیں۔جس پر بہت لے دے ہو چکی ہے۔لیکن اس کا پیپلز پارٹی اور اسکی قیادت پر کوئی اثر نہیں ہوا۔اسکی وجہ یہ ہے کہ پی پی پی کی قیادت ایسا چاہتی ہی نہیں۔حالات کا تقاضا تو یہی بنتا تھا کہ پیپلز پارٹی کے تمام عہدے داروں کو گھر بھیج دیا جاتا اور انکی جگہ ایسے افراد کو ذمہ داریاں سونپی جاتیں جو نہ صرف حالا کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت اور قابلیت کے مالک ہوتے اور ملک کی بدلتی ہوئی صورت حال کا صحیح اداراک بھی رکھتے ۔
صدرارت الیکشن کے موقعہ پر رضاربانی اور اعتزاز احسن کو فرنٹ لائن پر لانا اپنی جگہ احسن اقدام اور فیصلہ تھا۔لیکن منظور وٹو سمیت بہت سے ایسے لیڈر وں کو بھی اہم عہدوں پر تعینات کر دیا گیا ،جن کا کام ہی محض دیہاڑیاں لگانا تھا اور ہے۔بھلا ایسے لوگوں کاعوام میں کیا مقام ہوگا اوریہ عوام کی کیا خدمت اور راہنمائی کرتے ہونگے۔محترمہ نے اپنی زندگی کی آخری بھیک ان دیہاڑی باز لیڈروں سے یہ مانگی تھی کہ وہ نوکریوں کے کوٹے عوام میں مفت تقسیم کریں گے۔اور نوکریوں کو فروخت نہیں کریں گے۔ان دیہاڑی باز راہنماوں نے حلف اٹھا کر نوکریاں بیچیں،کارکنوں سے بھاری رقومات وسول کر کے نوکریاں فراہم کی گئیں۔لارکانہ میں کارکنوں کا احتجاج ریکارد کا حصہ ہے۔
مجھے یاد ہے کہ ضیاء الحق کی عبرت ناک موت کے بعد جب بینظیر بھٹو وزیر اعظم بنیں تو انہوں نے جہانگیر بدر کو وفاقی وزیر پیٹرولیم اور سائنس کا قلمدان سونپا تو تیل اور گیس کی تلاش کرنے والی ایک غیرملکی کمپنی کے لائسنس کی جدید کا مرحلہ آیا تو جہانگیر بدر نے بھاری فیس طلب کی اتو کمپنی کے بندے بڑے حیران ہوئے اور انہوں نے ڈائریکٹ وزیر اعظم بینظیر بھٹو سے شکایت کردی۔محترمہ نے جہانگیر بدر کی کافی سرزش کی اور کمپنی کے لائسنس کی تجدید ممکن ہوئی ۔زرداری صاحب خود سوچئیے ایسے منسٹر عوام کی بے لوث کیا خدمت کریں گے؟ یہ سلسلہ ختم نہیں ہوا بلکہ پوری آب و تاب سے جاری و ساری ہے۔
ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ زرداری صاحب ۱ کہ راجہ ریاض احمد اپوزیشن لیڈر جیسے عہدے کے لائق تھا ؟لیکن آپ نے اسے اس عہدے پر بٹھایا نتیجہ صاف ظاہر ہے۔ آپ نکلے تھے پنجاب فتح کرنے لیکن سرکس کے ہاتھیوں پر بیٹھ کر۔۔اس کا نتجہ جو نکلنا تھا وہیں نکلا۔نجومیوں اور پیرو کے سہارے سیاست کے میدان سر نہیں ہوا کرتے اس کے لیے جنگجووں کی ایک ٹیم درکار ہوتی ہے ۔جو اپنا ہوم ورک مکمل رکھے لیکن افسوس کہ پیپلز پارٹی کے کمانڈر نے ایسی ٹیم کا انتخاب کیا جو پارٹی کا صوبائی سکریٹریٹ کو نہیں چلا سکی اور وہ بند ہوگیا اور ملازمین کو تنخواہیں نہ دے پائے جس سے پیپلز پارٹی کی کم اور زرداری کی بدنامی زیادہ ہوئی کہ آصف علی زرداری کا انتخاب کردہ قیادت ناکام ہوگئی ہے۔اس میں سیاسی سوجھ بوجھ کا فقدان ہے۔
بالکل ایسے ہی سندھ میں وزارت اعلی کسی صاحب بصیرت اور متحرک راہنما کے حوالے نہ کرنا اسبات کا ثبوت ہے ورنہ سندھ میں شہباز شریف کے مقابلے میں ترقیات منصوبے مکمل ہوئے ہوتے۔سید قائم علی شاہ میں تو اتنی بھی بصیرت نہیں کہ جیسے خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے ۔سید قائم علی شاہ تو اتنا بھی نہ کر سکے کہ شہباز شریف کی تقلید ہی کر لیتا۔اگر شہباز شریف لندن اور ترکی سمیت دیگر ممالک کے دورے کرکے پنجاب کی ترقی کے لیے معاہدے کر سکتا ہے تو قائم علی شاہ ایسا کیوں نہیں کر سکتا تھا یا ابھی بھی کر سکتا ہے۔
سندھ ہی کی طرح بلوچستان میں بھی ایک ہاف مینٹل شخص کو وزیر اعلی کے منصب جلیلہ پر فائز کرنا پیپلز پارٹی اور آصف علی زرداری کی بہت بڑی ناکامی قرار دی جائیگی۔مجھے آجتک اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ نواب اسلم رئیسانی جیسا پاگل پیپلز پارٹی کی مجبوری کیسے بن گیا۔؟ پیپلز پارٹی بلوچستان کی قیادت اور اسلم رئیسانی کے سگے بھائی لشکری رئیسانی کی مخالفت کے باوجود اسے وزارت عظمی سے نہ ہٹانا سمجھ سے بالاتر ہے۔نواب اسلم رئیسانی کو پانچ سال تک عہدے سے چمٹا کر پیپلز پارٹی نے فائدے کی بجائے نقصان ہی اٹھایا ہے۔صادق عمرانی اور بلوچستان کی قیادت کے مشورے نہ مان کر پارٹی کو زیرو کیا گیا ۔
اگر ابھی بھی پیپلز پارٹی کی قیادت نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو اس بات کے روشن امکانات موجود ہیں کہ پیپلز پارٹی بھی اپنی اصل پارٹی جس کی کوکھ سے اس نے جنم لیا تھا یعنی کنویشن لیگ کی طرح تاریخ کے اوراق میں گم ہو جائے۔اس صورت حال سے بچنے اور محفوظ رہنے کے لیے

یہ بھی پڑھیں  انجمن فیضان مصطفےٰ بلوکی کے زیر اہتمام پانچویں سالانہ عظیم الشان محفل میلادمصطفی 12دسمبر کو منعقد ہوگی

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker