تازہ ترینکالممیرافسر امان

پروفیسر غفور احمد پاکستان کے عظیم سیاسی؍دینی رہنما !

mir afsarپاکستان کے ہردلعزیز سیاسی اور دینی لیڈر اور جماعت اسلامی کے مرکزی رہنماپروفیسر غفور احمدوفات پا گئے ان کی نماز جنازہ میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی ۔نماز جنازہ ادارہ نور حق جماعت اسلامی کراچی کے مرکزی دفتر کے باہر محمد علی جناح روڈ پر پرھائی گئی ان کو سخی حسن کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیاجنازہ سے پہلے امیر جماعت اسلامی جناب منور حسن نے اسی جگہ پر نماز عصر پڑھائی اس کے بعدنماز جنازہ پڑھائی۔بعض لوگ نماز عصر قریب کی مساجد میں ادا کرنے کی وجہ سے نماز جنازہ میں شریک نہ ہوسکے توان کے لیے دوبارہ نمازجنازہ پڑھائی گئی پروفیسرغفور احمد کے انتقال کی خبر رات ہی کو منور حسن امیر جماعت اسلامی پاکستان کے صاحب زادے کے ولیمہ کے خاتمے کے موقعے پر ہی معلوم ہو گئی تھی لوگ رات ہی سے سوگوار تھے امیر جماعت اسلامی پاکستان منور حسن نے جنازے سے قبل تقریر کرتے ہوئے کہا پروفیسر غفور احمد ایک عہد ساز شخصیت تھے وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ پاکستان کے کئی اتحادوں کے روح رواں تھے یو ڈی ایف اور پاکستان قومی اتحاد کے سیکر ٹری جرنل رہے ان اتحادوں کی مذاکراتی ٹیموں کے سرکردہ ممبر بھی رہے اتحادوں کی سیاست مفاہمت سے شروع ہوتی ہے اور پروفیسر غفور احمد صاحب کو اس پر عبور حاصل تھا وہ سیاسی رہنماؤں کو ملاتے تھے تمام سیاسی لیڈروں سے ان کی ذاتی تعلقات تھے ہمیشہ محاز آرائی پر آمادہ لوگوں کو یکجا کیا پرفیسر غفور احمد نے بزرگ سیاسی رہنماؤں نواب زادہ نصراللہ خان مولانا مفتی محمود اور دوسرے سینئر سیاسی راہنماؤں میں ہر دلعزیز تھے وہ آئی جی آئی کے سیکرٹری جرنل تھے ان کا ۱۹۷۳ ء کے آئین بنانے میں بہت بڑا کردار تھا ختم نبوت کی تحریک میں پیش پیش تھے اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ان کی مغفرت کرے۔قاضی حسین احمد نے کہا ہمارے بڑے بھائی اورجماعت اسلامی کے مرکزی رہنما پروفیسر غفور احمد ؒ آج ہماری درمیان موجود نہیں ہیں ان کے پیر پگارہ ، نواب نصراللہ خان اور دوسرے بزرگ سیاسی رہنما ؤں سے قریبی تعلقات تھے ۔ہر سیاسی جماعت اور مکتبہ فکر میں یکساں مقبول تھے اللہ تعالیٰ نے پروفیسر غفور احمد ؒ کو دین کی خدمت کے لیے لمبی عمر عطا کی تھی ۔ ان کی نماز جنازہ میں قاضی حسین احمد سابق امیر جماعت اسلامی؍ صدر ملی یکجہتی کونسل، پروفیسر خورشید احمد نائب جماعت اسلامی پاکستان ، جماعت اسلامی کے سیکرٹری لیاقت بلوچ ،سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ ،جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے عبدالرشید ترابی ،جماعت اسلامی حلقہ کراچی اور صوبہ سندھ کی قیادت اور جماعت اسلامی کے ہزاروں کارکنان ،جمعیت اتحاد پاکستان کے صدر مولانا عبدلمالک، اہلسنت و الجماعت کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی۔ انصار الامہ پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن خلیل،متحدہ قومی مومنٹ کے عامر خان کنور خالد یونس، شمشاد غوری، برزگ سیاسی رہنمامعراج محمد خان،عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد،.. دفاع پاکستان کونسل کے سربراہ مولاناسمیع الحق، مسلم لیگ ( ن) کے سنیٹر مشاہداللہ ، غوث علی شاہ ،سلیم ضیا ، نہال ہاشمی، صحافی وسعت اللہ، جسارت کے ایڈیٹراطہر ہاشمی، دانشور نصرت مرزا،تحریک انصاف کے عارف علوی،زبیر خان، جمعیت علمائے اسلام (ف)کے حافظ حسین احمد،قاری عثمان، دفاع کونسل کے حمید گل،مسلم لیگ (قیوم )کے خان امان اللہ، سندھ یونائٹڈ پارٹی کے سربراہ جلال محمود شاہ، مسلم لیگ(ف) کے امتیاز شیخ، ، نظام مصطفی پارٹی کے الحاج محمد رفیع، منہاج القرآن کے سید ظفر اقبال،جمعیت اسلام (س) کے مفتی عثمان یار
خان ،پی ڈی پی کے بشارت مرزا،یوسف مستی خان، سپریم کورٹ بار کے سابق صدر یاسین آزاد،کراچی بار کے نعیم قریشی،آرٹ کونسل کے احمد شاہ، (ق) مسلم لیگ کے بوستان علی ہوتی،اے این پی کے گل آفندی سنی تحریک کے مطلوب اعوان ،میر نواز خان مروت،جے یو آئی کے اسلم غوری،شیعہ علما کونسل کے علامہ سید نقوی، مجلس وحدت المسلمین کے مرکزی رہنما علامہ یوسف حسین، نیشنل پارٹی کے سید ضیاعباس ،پیپلز پارٹی کے عبدالحکیم بلوچ،ایڈمنسٹریٹر کراچی محمد حسین سید، جمعیت علمائے اسلام(سینئر) کے پیر عبد الرحیم نقشبندی، اقلیتی رہنما مائیکل جاویداور دوسرے سیاسی ؍دینی ،سماجی جماعتوں کے مرکزی لیڈران حضرات اوران کے نمائندوں نے شرکت کی محروم نے ۸۵ برس عمر پائی کئی سالوں سے بیمار تھے متعدد تعلیمی اداروں سے وابستہ رہے جماعت اسلامی کراچی کے امیر اور جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر کی ذمہ داریاں پوری کرتے رہے جوانی ہی میں جماعت اسلامی میں شریک ہوئے اور آخر دم تک جماعت سے ہی وابستہ رہے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ممبر رہے پاکستان قومی اتحاد کے دوران اور بھی کئی موقعوں پر گرفتار کئے گئے کئی کتابوں ،جن میں پھر مارشل لا آ گیا،اور الیکشن نہ ہو سکے، بے نظیر کا پہلا دور حکومت، بے نظیر حکومت کا عروج وزوال، پرویز مشرف آرمی ہاؤس سے ایوان صدر تک اور نواز شریف اقتدار سے عتاب تک کے مصنف بھی تھے وہ کراچی کے عوام کی توانا آواز تھے۔انہوں نے سیاست میں شرافت کے چلن کو عام کیا۔جماعتی زندگی میں نظم وضبط درخشاں
۲مثالیں قائم کیں ایک سینئر صحافی نے ان کے گھر پہلی دفعہ جانے کا واقعہ بیان کرتے ہو ئے کہا کہ میرا فون خود رسیو کیا ،دروازے پر خود آئے، جائے خود بنا کر لائے، کوئی سیکرٹیری، خدمت گار، گارڈ، محافظ نہ تھا جبکہ اس شہر میں لوگ محافظوں اور خدمت گاروں کی فوج رکھتے ہیں بہادر نڈر اور راست باز شخص تھے سادگی کا پیکر تھے مرحوم نے سوگوروں میں ۳ بیٹے ۶ بیٹیاں اور تحریک اسلامی کے ملک اور دوسرے ممالک میں لاکھوں سوگوار چھوڑے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے آمین

یہ بھی پڑھیں  بھارتی لوک سبھا الیکشن ۲۰۱۹ کاپہلا مرحلہ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker