پروفیسر رفعت مظہرتازہ ترینکالم

دورۂ برطانیہ پر ایک نظر

گُلستانِ گیلانی اور بوستانِ زرداری سے موسمَ گُل میں دانہ دُنکا چُننے والے پنکھ پکھیرو تو خیر بہت ہیں اور مقدور بھر اپنی اپنی بولیاں بولتے بھی رہتے ہیں لیکن آجکل ’’بُلبلیں‘‘ ترنگ میں آ کر کچھ زیادہ ہی چہچہا رہی ہیں۔ لیکن باغبانوں کی یاد دہانی کے لئے عرض ہے قصیدہ گوئی میںطاق یہ بُلبلیں موسمِ گُل کے جاتے ہی ٹھکانے بدل لیا کرتی ہیں کہ
مے کدہ اُن کا ٹھکانہ ، نہ حرم دروازہ
بادہ کش اُڑتی ہواؤں کی طرح ہوتے ہیں
جب سے ہمارے ’’ مُنہ چھُٹ‘‘گیلانی صاحب ان بلبلوں کو بدیش پھرا لائے ہیں ، اُن کی نغمہ سرائی کچھ زیادہ ہی جوبن دکھانے لگی ہے۔ایسی ہی ایک چہچہاتی بُلبُل اس احساسِ تفاخر سے پھوُلے نہیں سما رہی کہ اسے جہاز میں گیلانی صاحب کے بالکل سامنے بیٹھنے کا شرف حاصل ہوا ۔ لیکن موصوف کویہ گلہ بھی ہے کہ اسے ’’چرچل ہوٹل‘‘ لندن میں صرف ناشتے پرہی ہاتھ صاف کرنے کا موقع ملتا رہا جبکہ لنچ ڈنر باہر سے چھوٹے چھوٹے ڈبوں میں منگوایا جاتا تھا﴿جس سے ظاہر ہے کہ اُن کی تنو مند توند نہیں بھرتی ہو گی﴾۔بندہ اُن سے پوچھے کہ یہ کیا کم ہے کہ گیلانی صاحب ان کو برطانیہ لے گئے وگرنہ کوئی اور تو انہیں بدو ملہی لے جانا بھی گوارا نہ کرتا۔ویسے گیلانی صاحب نے بھی تو ان ’’بدحال‘‘ لکھاریوں بلکہ بھکاریوں کیلئے اس ’’خوش حال‘‘ قوم کے خزانے پر ہی ہاتھ صاف کیا تھا،انہوں نے کونسا اپنی جیب کو تکلیف دی ۔
موصوف نے وزیرِ اعظم کے دورۂ برطانیہ کو انتہائی کامیاب قرار دیتے ہوئے 45 منٹ کی ون آن ون ملاقات پر حیرت کا اظہار کیا کیونکہ ان کے خیال میں کسی برطانوی وزیرِ اعظم نے کسی پاکستانی وزیرِ اعظم کو پہلے کبھی اتنے کھُلے وقت سے نہیں’’ نوازا‘‘۔محترم لکھاری اپنی معلومات درست فرما لیں کہ سفارتی پروٹوکول میں یہ کم از کم وقت ہے جو دو سربراہانِ مملکت کی ون آن ون ملاقات کے لئے طے ہے اور یہ مختصر وقت بھی گیلانی صاحب نے ڈیوڈ کیمرون کو یہ یقین دہانی کراتے گزار دیا کہ وہ حسب الحکم فوری طور پر ’’نیٹو سپلائی‘‘ بحال کر رہے ہیں۔ویسے برطانوی وزیرِ اعظم کے لئے جن الفاظ کا چناؤ محترم لکھاری نے کیا وہ اُن کی غلامانہ ذہنیت اور کاسہ لیسی کا عکاس ہے جو کسی المیے سے کم نہیں۔ایٹمی طاقت کے لحاظ سے ساتویں، آبادی کے لحاظ سے پانچویں اور سات لاکھ جری فوج رکھنے والی قوت کا سربراہ غیر مُلکی دورے پر ہو اور ’’قلم فروش‘‘ بندگی کی انتہاؤں کو چھوتے ہوئے یہ لکھیں کہ ڈیوڈ کیمرون نے کمال مہربانی کرتے ہوئے گیلانی صاحب کو 45 منٹ کی مُلاقات سے ’’نوازا‘‘ ۔ ۔۔۔ شرم تُم کو مگر نہیں آتی۔
موصوف لکھتے ہیں کہ کیمرون نے گیلانی صاحب کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا’’مسٹر پرائم منسٹر ! آپ پاکستان میں جمہوریت کو مستحکم کر رہے ہیں‘‘۔ عرض ہے کہ برطانیہ کو ’’مدر آف ڈیموکریسی‘‘ کہا جاتا ہے۔وہاں پر تو محض معمولی سی الزام تراشی پر بھی وزرائ مستعفی ہو جاتے ہیں۔سابقہ برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیر پر جب الزام لگا تو وزیرِ اعظم ہوتے ہوئے بھی ہر روز صبح سویرے پولیس کے دو معمولی عُہدے دار تفتیش کے لئے اُن کے گھر پہنچ جایا کرتے تھے۔برطانیہ میں کوئی تحریری آئین نہیں ۔اُن کی روایات ہی اُن کا آئین ہیں جن پر معاشرہ سختی سے عمل پیرا ہے۔ایسے ملک کا وزیرِ اعظم جب کسی سزا یافتہ اور نظامِ عدل کے باغی وزیرِ اعظم کو جمہوریت کے استحکام کی مبارک باد دیتا ہے تو اُس تحسین کے پردوں میں چھُپے طنز و تعریض کے تیروں سے غیرت مند تو لازماََ مارے شرم کے مُنہ چھپانے لگتے ہونگے لیکن لکھاری کے خیال میں ان تحسینی الفاظ سے بعض لوگوں کو جلن محسوس ہونے لگی ہے۔جی ہاں ! جلن اور ایسی جلن کہ اب تو کچھ حاسدایسے لکھاریوں کو ’’گِدھ گروہ‘‘ کہنے لگے ہیں۔
کالم نویس نے بڑے فخر سے گیلانی صاحب کے مختلف اخباروں اور نیوز چینلز کو دیئے جانے والے انٹر ویوز کا ذکر کیا ہے۔واقعی ایک شاہکار انٹر ویو تو اُنہوں نے CNN کو بھی دیا۔ انٹر ویو میں جب گیلانی صاحب سے سوال کیا گیا کہ دنیا میں تو وزرائ الزام لگتے ہی اخلاقی طور پر استعفے دے دیتے ہیں کیا آپ بھی دیں گے؟۔تو اُن کا افلاطونی جواب تھا کہ سپیکر کہیں گی تو سیٹ چھوڑ دوں گا ۔وہ یا تو اینکر کا سوال سمجھ ہی نہیں سکے کہ دُنیا میں اخلاقی روایات یہی ہیں کہ الزام لگنے پر ہی سیٹ چھوڑ دی جاتی ہے یا پھر وہ دُنیا پر یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ ہم اخلاقی طور پر اتنے دیوالیہ ہو چُکے ہیں کہ سیدھے ہاتھوں کچھ چھوڑنے کو تیار نہیںاور ہم تو وہ بھوت ہیں جو صرف لاتوں سے مانتے ہیں باتوں سے نہیں۔خاتون اینکر نے انتہائی بد تمیزی سے یہ کہا کہ میری آنکھوں میں دیکھ کر بات کریں۔سبھی جانتے ہیں کہ یہ جملہ صرف اُس وقت بولا جاتا ہے جب دوسرے کو جھوٹا سمجھا جاتا ہے۔کیا کسی سر براہِ مملکت کی اس سے زیادہ توہین بھی ممکن ہے؟۔سابقہ جیالے اور موجودہ سونامیئے محترم شاہ محمود قُریشی کل ایک نیوز چینل پر فرما رہے تھے کہ گیلانی صاحب کی انگریزی ایسی ہی ہے ۔وہ جب پہلی دفعہ امریکی دورے پر گئے تو صدارتی تھنک ٹینک کے ساتھ گفتگو کے دوران پورا ہال قہقہوں سے گونجتا رہا ۔گیلانی صاحب یہ سمجھتے رہے کہ لوگ انکی ہلکی پھُلکی باتوں سے لُطف اندوز ہو رہے ہیں جب کہ قہقہوں کا طوفان اس لئے آیا ہوا تھا کہ سوال گندم جواب چنے ۔گیلانی صاحب ان کی انگریزی سرے سے سمجھ ہی نہیں پا رہے تھے۔ اینکر نے کہا کہ گیلپ سروے کے مطابق 81 فیصدعوام ان کی حکومت کو کرپٹ سمجھتے ہیں ۔حاضر جواب گیلانی صاحب نے تُرت جواب دیا ’’آپ مُلک میں جمہوریت چاہتی ہیں یا آمریت؟‘‘۔گویا اگر جمہوریت ہو گی تو کرپشن تو ہو گی ۔یہ جمہوری فارمولا دُنیا میں صرف ’’گدی نشیں‘‘ کے ہاں ہی دستیاب ہے ۔۔۔ CNN کی خاتون اینکر نے گیلانی صاحب سے ایک ایسا سوال بھی کیا جس کاایسا جواب تاریخِ عالم میں پہلے کسی سر براہ نے نہیں دیا ہو گا ۔ اینکر نے کہا 20 فیصد لوگ تنگ آ کر ملک چھوڑ جانا چاہتے ہیں ۔گیلانی صاحب نے جواب دیا’’تو وہ جاتے کیوں نہیں انہیں روکا کس نے ہے؟‘‘۔ اس پر خاتون اینکر دونوں ہاتھ باہر پھیلا کر انتہائی حیرت سے اُنہیں دیکھنے لگیں۔بجا ارشاد لیکن دست بستہ عرض ہے کہ پاکستان کسی کے باپ کی جاگیر ہے نہ کوئی مفتوعہ علاقہ اس لئے گیلانی صاحب دو کروڑ انسانوں کو تکلیف دینے کی بجائے خود ہی اس مجبور و مقہور قوم کی جان چھوڑ کیوں نہیں دیتے ؟۔ لیجئے یہ ہم بھی کیابیٹھے بٹھائے ’’لکھاری‘‘ بن بیٹھے اور وہ بھی ’’سیاسی لکھاری‘‘۔ شاید ہم نے بھی اپنے نہاں خانۂ دل میں یہ روگ پال رکھا ہے کہ اگر اپنے ’’شاہ جی‘‘ اِدھر اُدھر سے ’’کوڑا کرکٹ‘‘ اکٹھا کرکے ساتھ لے جا سکتے تھے تو پھر ہم کیوں نہیں؟من حیث القوم ایسے ہی تو ہیں ہم ۔ پہنچ سے دور ہوں تو انگور تھُو کھٹے اور ہاتھ آ جائیں تو شہد سے میٹھے۔شاید اسی منافقت کی بنا پر 65 سال گزر گئے لیکن ہم ’’قوم‘‘ نہیں بن سکے۔﴿پی ایل آئی﴾

یہ بھی پڑھیں  ریلوے نے فیض احمد فیض کے نام سے مسافر ٹرین کا افتتاح کردیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker