پروفیسر رفعت مظہرتازہ ترینکالم

فخر الدین جی ابراہیم

انتہائی با اُصول ،دیانتدار ،محبِ وطن اور کچھ کچھ ضدی محترم فخر الدین جی ابراہیم، جنہیں لوگ پیار سے ’’فخرو بھائی‘‘ بھی کہتے ہیں ، کی بطور چیف الیکشن کمشنر تقرری کو تازہ ہوا کا جھونکا قرار دیا جا رہا ہے ۔اس تقرری پرحکومت بھی داد وصول کر رہی ہے اور اپوزیشن بھی ۔میڈیا پر واہ واہ کا اتنا شور کہ کان پڑی آواز سُنائی نہیں دیتی ۔کوئی کمزور سی آواز بھی اس تقرری کے خلاف اٹھی ،نہ اٹھ سکتی ہے لیکن مجھے اس سے اختلاف ہے ۔۔۔۔ شدیداختلاف ۔۔۔۔وجہ یہ نہیں کہ مجھے ’’فخرو بھائی ‘‘ کی ذاتِ گرامی میں کوئی کجی نظر آتی ہے۔وجہ یہ کہ اُن کی امانت ،دیانت ،صداقت ،شرافت اور نجابت سے قطع نظر کیا ایک 85 سالہ نحیف و نزار شخص اپنے مضمحل قویٰ کے ساتھ یہ اہم ترین فریضہ ادا کر پائے گا؟۔ لاریب کہ اب ہم اُس مقام پر ہیں جہاں پاکستان کی بقا ئ شفاف ترین الیکشن میں مضمر ہے اور اگر اُس علیم و خبیر کی مہلت ابھی تک تمام نہیں ہوئی تو پھر غالباََ مُلکی سلامتی کے لئے کچھ کر گزرنے کا یہ آخری موقع ہے ۔ایسے میں مُلکی سلامتی کی عنان ایک پچاسی سالہ شخص کے ہاتھ میں دینا سمجھ سے بالا تر ہے ۔
کیا یہ سوچ ہی کچھ احمقانہ سی نہیں لگتی کہ چوروں ،لُٹیروں ،بھتہ اور قرضہ خوروں کی اِس منڈلی میں چاروں طرف سے گھِرا ہوا شرافت کا ایک پُتلااپنی ’’بوڑھی توانائیوں‘‘ کیساتھ اکیلا سبھی کا مقابلہ کر پائے گا؟۔یہ بجا کہ محترم فخر الدین جی ابراہیم صاحب شفاف ترین ووٹر لسٹیں تیار کروانے میں بھی کامیاب ہو جائیں گے اور کڑے اصول و ضوابط بھی۔لیکن عمل در آمد کون کروائے گا ؟۔الیکشن کمشن کے اندر بھرے ہوئے ’’سیاسی گند‘‘ کو کون صاف کرے گا؟۔میں نے بہت سے لوکل اور قومی انتخابات میں بطور پریزائیڈنگ آفیسر خدمات سر انجام دی ہیں اس لئے اپنے ذاتی تجربات کی بنا پر وثوق سے کہہ سکتی ہوں کہ یہ کبھی بھی اکیلے چیف الیکشن کمشن کے بس کا روگ نہیں ہوتا۔اِس کے لئے ٹیم ورک کی ضرورت ہے اور سوال یہ ہے کہ کیا فخر ا لدین صاحب اس قلیل سے وقت میں ایک دیانت دار ٹیم تشکیل دے پائیں گے یا انہیں تشکیل دینے کے لئے ’’فری ہینڈ‘‘ مِل پائے گا؟۔کیونکہ یہ تو سوچ ہی احمقانہ ہے کہ اس کے بغیر چیف الیکشن کمشنر صاحب کی ہر جگہ اور ہر مقام پر مضبوط گرفت ہو گی ۔ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چا ہیے کہ الیکشن کمیشن کے اندر نچلی سطح پر حکومتی گُرگوں کی بھرمار ہے جنہیں سیاسی سطح پر نوکریوں سے صرف اسی لئے نوازا گیا ہے کہ وہ بوقتِ ضرورت کام آ سکیں۔ایسے میں ’’فخرو بھائی ‘‘ کیا کر لیں گے ؟۔اور ’’پنبہ کُجا کُجا نہم‘‘ کے مصداق اس قلیل سے وقت میں کون کون سی خرابی دور کر پائیں گے؟۔یہ ایسا سلگتا ہوا سوال ہے کہ جس کا جواب ہمیں بہر حال تلاش کرنا ہو گا۔
میری دیانت دارانہ رائے یہ ہے کہ ہمیں اس وقت انسانی سروں کی فصل کاٹتے اور کھوپڑیوں کے مینار سجاتے کسی چنگیز خاں کی ضرورت ہے ۔صحرائے گوبی کا چرواہا چنگیز خاں جس کی آمد کا سُن کر دریاؤں کے رُخ بدل جاتے اور صحر ا لبِ مرگ پناہ گزینوں سے بھر جاتے ۔جس کی ما فوق الفطرت قوت کو مسلمان آثارِ قیامت سے تعبیر کرتے اور عیسائی عذابِ الٰہی سے ۔جرمنی کے شاہ فریڈرک ثانی نے انگلینڈ کے شاہ ہنری کو لکھا کہ’’ یہ عذابِ الٰہی سے کم نہیں جو ہمارے گناہوں کی پاداش میں نازل ہوئے ہیں ۔یہ در اصل اسرائیل کے دس گُمشدہ قبائل کی نسل سے ہیں جن کو ’’سامری جادوگر ‘‘ کے سُنہرے بَچھڑے کو پوجنے کی سزا دینے کے لئے ایشیا کے ویران صحراؤں میں بند کر دیا گیا تھا ‘‘۔ معروف فلسفی روجر بیکن نے لکھا ’’یہ دجال کے سپاہی ہیں جو اپنی آخری دہشت ناک فصل کاٹنے آئے ہیں‘‘۔ سوال مگر یہ کہ میں نے ایسے شخص کا انتخاب کیوں کیا ؟۔ایسے شخص کا حوالہ چہ معنی دارد ؟۔ تو عرض ہے کہ اُسی اُجڈ ،گنوار اور وحشی کوپچاس اقوام ’’بوگدو‘‘ یعنی دیوتاؤوں کا بھیجا ہوا قرار دیتی تھیں۔یہ وہی شخص تھا جس نے ایک بے لگام مجمعے کو عظیم الشان لشکر میں ڈھال دیا ۔یہ وہی سالار تھاجس سے اُس کی سپاہ نے کبھی انحراف نہ کیا ، جس کے خلاف کبھی کوئی بغاوت ہوئی نہ سازش ۔وجہ ۔۔۔؟ وجہ صرف یہ کہ اُس نے پچاس اقوام کے لئے ’’یاسا‘‘ یعنی قانون ترتیب دیا اور اُس پر خود بھی پوری دیانت داری سے عمل کیا اور کروایا بھی ۔ہمیں بھی کسی ایسے ہی چیف الیکشن کمشنر کی ضرورت ہے جس کی دہشت ناکی سے سبھی خوف زدہ ہوں اور جس کی دیانت کی گواہی ہر زبان پر ہو ۔انتہائی محترم فخر الدین جی ابراہیم صاحب کے اندر ایک خوبی تو لاریب ہے ۔اُن کی دیانت پر شک کرنے والا کوئی فا تر العقل ہی ہو سکتا ہے یا کوئی شر پسند لیکن دوسری خوبی ﴿جو بہرحال خوبی تو نہیں لیکن ہمیں اس کی ضرورت ہے﴾ اُنہیں چھو کر بھی نہیں گُزری۔فخر الدین جی ابراہیم صاحب کا ماضی یہی بتلاتا ہے کہ کسی بھی اختلاف کی صورت میں وہ پیچھے ہٹ جایا کرتے ہیں ، خم ٹھونک کر میدان میں نہیں آتے ۔بھٹو مرحوم سے بینظیر شہید کے ادوار تک اُنہوں نے اصولوں پر سمجھوتا کرنے کی بجائے مراجعت میں ہی عافیت جانی ۔اٹارنی جنرل کے عہدے سے استعفیٰ دیا ، گورنری کو لات مار کر باہر آ گئے اوربا وقار’’ جسٹس‘‘ کی سیٹ تیاگ دی لیکن آمر کے سامنے حلف نہیں اٹھایا۔اب بھی مجھے ڈر ہے کہ عین موقعے پر ، جب خباثتیں اپنی پوری توانائیوں کے ساتھ اُن پر حملہ آور ہونگی تو وہ سبھی کچھ بیچ منجھدار میں چھوڑ کے واپس اپنے گوشۂ عافیت میں چلے جائیں گے ۔جب ’’آتش جوان تھا‘‘ تب یہ عالم تھا اور اب جبکہ
مضمحل ہو گئے قویٰ غالب
اب عناصر میں اعتدال کہاں
میں نے یہاں اپنے جن خدشات کا اظہار کیا ہے اُن سے نہ صرف اختلاف ممکن ہے بلکہ اسے سرے سے رد کرتے ہوئے بیشمار دلائل بھی دیئے جا سکتے ہیں ۔لیکن میں نے مُلکی حالات کے تناظر اور پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے شاطروں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ گزارشات کی ہیں۔خُدا کرے کہ یہ سبھی اندیشہ ہائے دُور دراز ہو ں۔ میری خواہش اور دُعا ہے کہ میرے یہ خدشات سرے سے غلط ہوں کہ یہ مُلکی سلامتی و بقائ کا مسٔلہ ہے ۔
پتہ نہیں کیسے میں نے اپنے مخصوص انداز سے ہٹ کر یہ سب کچھ لکھ دیا اور لکھتی چلی گئی ۔خیر چھڈو جی ’’مٹی پاؤ‘‘ ہمیں اس سے کیا لینا دینا۔کسی نے بیل کو بد دُعا دی کہ اُسے چور لے جائیں تو اُس نے جگالی کرتے ہوئے مُسکرا کرکہا ’’سانوں کی ، سائیاں تے پٹھے ای کھانے نے‘‘ ﴿مجھے کیا میں نے تو چارہ ہی کھانا ہے، وہ اس مالک کے گھر سے ملے یا کسی چور کے گھر سے﴾۔سو ، چہرے بدل بدل کے جتنے بھی حاکم آ جائیں ہم جیسے محکوموں نے تو قلم ہی گھسیٹنا اور دِل کے پھپھولے ہی پھوڑنے ہیں ۔باوجودیکہ ہم بھی اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ
اثر اُس کو ذرا نہیں ہوتا
رنج راحت فزائ نہیں ہوتا

یہ بھی پڑھیں  بالی ووڈکی چھ مہنگی ترین فلمیں، بہو بلی سرفہرست رہی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker