شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / پروفیسر رفعت مظہر / ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے

ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے

16 دسمبر 2009 ئ کو این۔آر۔او کے حوالے سے آنے والا سترہ رکنی فُل کورٹ کا فیصلہ تو قصّہ، پارینہ بن گیا ہے یا بنا دیا گیا ہے ۔لیکن اسی کے تسلسل میں آنے والے توہینِ عدالت کے فیصلے نے پوری قوم کو ’’وخت‘‘ ڈال دیا ہے ۔سات رُکنی لارجر بنچ تو گول مول فیصلہ دے کر محوِ خواب ہے لیکن سیاسی ’طرفین‘‘ کے بڑھک بازوں کی چاندی ہو گئی ۔الیکٹرانک میڈیا پر جنگ کا سا سماں ہے ، ٹاک شوز میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی اور مجال ہے جو ایک لفظ بھی پلّے پڑتا ہو ۔اینکرز خوش ہیں کہ ان کی ریٹنگ ’’بھانڈوں‘‘ والے پروگراموں سے زیادہ ہو گئی ہے ۔پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں تو ہم اپنے راہنماؤں کو باہم جوتم پیزار ہوتے دیکھنے کی سعادت سے محروم ہیں لیکن ٹاک شوز میں ان کی جھلک ضرور نظر آ جاتی ہے ۔ہر اینکر کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کے پروگرام میں کم از ایک ’’جھگڑالو‘‘ خاتون ضرور موجود ہو۔اس معاملے میں پیپلز پارٹی خود کفیل ہے کیونکہ ’’کوسنے‘‘ دینے میں پیپلز پارٹی کی خواتین کا کوئی ثانی نہیں ۔جس ٹاک شومیں فوزیہ وہاب ،مہرین انور راجہ ،شرمیلا فاروقی، فردوس عاشق اعوان یا شازیہ مری میں سے کوئی ایک شامل نہ ہو وہ ٹاک شو پھسپھسا اور پھیکا پھیکا سا لگنے لگتا ہے ۔نواز لیگ اور تحریکِ انصاف اس دوڑ میں بہت پیچھے ہیں ۔تحریک کی تو پھر بھی ایک آدھ خاتون جھلک دکھا جاتی ہے لیکن نواز لیگ کے لئے یہ لمحۂ فکریہ ضرور ہے ۔انہوں نے اس کمی کو پورا کرنے کے لئے ’’مشرفی ‘‘ ماروی میمن کو پارٹی میں شامل کرنے کا رسک بھی لیا لیکن وہ بھی آج کل منصہ شہود سے غائب ہے اس لئے پیپلز پارٹی کی خواتین کی ’’زبان دانی‘‘ سے کچھ گھبرا اور کچھ اکتا کر مشاہد اللہ خاں کو میدان میں اتارا گیا ہے ۔وہ روزانہ چار پانچ پروگرام ریکارڈ کرواتے اور ایک ’’لائیو شو‘‘ میں جلوہ گر ہوتے ہیں ۔میں نے اپنی زندگی میں وہ واحد مرد دیکھا ہے جو ’’کوسنے‘‘ دینے میں تنِ تنہا اتنی خواتین کا ’’زنانہ وار‘‘ مقابلہ کر رہا ہے ۔اگر پیپلز پارٹی کی کوئی خاتون ایک ہاتھ لہراتی ہے تو وہ اپنی ’’ُپوپلی‘‘ آواز کے ساتھ دونوں ہاتھوں کا انتہائی فنکاری سے یوں استعمال کرتے ہیں کہ سماںبندھ جاتا ہے ۔شنید ہے کہ پی۔پی کی خواتین کسی بھی ٹاک شو میں جانے سے پہلے اینکر سے یہ گارنٹی لیتی ہیں کہ اس میں مشاہد اللہ خاں نہیں ہو گا لیکن اینکرز بھی ایسے کائیاں ہیں کہ عین موقعے پر خاں صاحب کو لا بٹھاتے ہیں ۔ایک ٹاک شو میں خاں صاحب کا واسطہ ایک ایسے تجزیہ نگار سے پڑا جو اپنی بد زبانی میں مشہور ہیں ۔ اس ٹاک شو میں بھی تجزیہ نگار اپنی بدکلامی سے باز نہیں آئے اور پھر دونوں کے مابین گالی گلوچ کی محفل جم گئی ۔تب سے اب تک میری شدید خواہش رہی ہے کہ دونوں کا پھر کسی اور ٹاک شو میں ٹاکرہ ہو لیکن ہم غریبوں کی پہلے کونسی کوئی خواہش پوری ہوئی ہے جو یہ ہوتی ۔پھر بھی اللہ سلامت رکھے پی۔پی کی خواتین اور مشاہد اللہ کو جنکی بدولت ہمیں روزانہ تفریح کے دو، چار گھنٹے میسر آ جاتے ہیں اور وہ بھی بالکل ’’مفت‘‘ ۔
دوسری جانب ہمارے ’’گدی نشیں ‘‘ بھی کسی سے کم نہیں ۔وہ جب سے ’’ملزم‘‘ سے ترقی کرکے ’’مجرم‘‘ بنے ہیں ہر وقت ’’پھلجھڑیاں‘‘ چھوڑتے رہتے ہیں ۔کل ہی کہہ رہے تھے کہ مجھے مستعفی ہونے کے لئے کہتے ہیں ۔میں نے کوئی مرغی چُرائی ہے جو استعفیٰ دوں ۔بالکل بجا ارشاد کیونکہ ہمارے ہاں تو بد بخت اور نا ہنجار ’’مرغی چور‘‘ کو ’’پانجا‘‘ بھی لگتا ہے اور جیل کی ہوا بھی کھانی پڑتی ہے ۔ہم تو وہ قوم ہیں جو چھوٹے چوروں کو چوراہے پہ لٹکا دیتے ہیں اور بڑے چوروں کو حاکم بنا دیتے ہیں ۔آپ تو ہمارے حاکم ہیں اگر آپ چھوٹی موٹی چوری کرتے تو ہم آپ کو بھی لٹکا دیتے ۔یہ نون لیگ جو آپ کو ’’گدی‘‘ سے کھینچنے کی سعی، بیکار کر رہی ہے ہم اس کے ساتھ ہر گز نہیں کیونکہ ہم گدی نشینوں کا بہت احترام کرتے ہیں اور یہ بھی خوب جانتے ہیں کہ ’’نذر نیاز‘‘ لینا گدی نشینوں کا پیدائشی حق ہے اور آئین کی رو سے عدلیہ سمیت ان سے یہ حق کوئی نہیں چھین سکتا ۔اسی ’’گدی نشینی آئین‘‘ کی حفاظت کا انہوں نے حلف اٹھایا ہے اوراب وہ اپنے حلف کی خوب خوب پاسداری کر رہے ہیں۔
میں نے اپنے پچھلے کالم میں عرض کیا تھا ’’دو چار دن ٹھاہ ٹھاہ ہو گی اور پھر ٹائیں ٹائیں فش‘‘ ۔وجہ یہ تھی کہ اعلیٰ عدلیہ نے ایسا ’’ڈھل مل ‘‘ فیصلہ دیا تھا جس کی بدولت یہی کچھ ہونا تھا جو ہو رہا ہے ۔ویسے اگر دو ٹوک فیصلہ آ ٓ بھی جاتا تو کون سا حکمرانوں نے تسلیم کرنا تھا لیکن اتنا ضرور ہوتا کہ حکومت اور اپوزیشن کا کردارکھُل کر قوم کے سامنے آ جاتا۔میاں نواز شریف صاحب نے کہہ دیا کہ اب Do or die والا معاملہ ہے لیکن ہمیں تو ان کا ” Do” کہیں نظر نہیں آتا۔چھوٹی موٹی ریلیوں یا پارلیمنٹ میں شور شرابے سے حکومت کی صحت پر کچھ اثر نہیں پڑنے والا اور تحقیق کہ نواز لیگ اسمبلیوں سے استعفے کا رسک کبھی لے گی نہیں ۔اس لئے ہم "Do” کو چھوڑ کر "Die” کی طرف زیادہ دھیان دے رہے ہیں ۔۔۔۔ دوسری طرف کپتان صاحب اپنے سونامی کو کھلا پلا کر موٹا کر رہے ہیں تاکہ ’’بوقتِ ضرورت کام آئے‘‘ ۔انہوں نے کہہ دیا ہے کہ حکومتی اپیل کے بعد آنے والے فیصلے کو اگر حکومت نے تسلیم نہ کیا تو پھر ’’سونامی ‘‘ کو زحمت دی جائے گی ۔پنجابی کا ایک محاورہ ہے ’’ڈاچی اوس ویلے سوئے گی جدوں سائیں مر گئے‘‘ ﴿اُونٹنی تب بچہ دے گی جب مالک مر گئے﴾۔ خاں صاحب خوب جانتے ہیں کہ کم از کم 2012 ئ میں تواپیل کا فیصلہ آئے گا نہیں کیونکہ چیف صاحب یہ کہہ چُکے ہیں کہ اپیل سننے کے لئے 9 ججز درکار ہیں جبکہ فی الوقت صرف 6 ججز موجود ہیں اور خالی سیٹ صرف ایک ۔گویا دو ایڈہاک ججز تعینات کرنے پڑیں گے ۔ایڈہاک ججز کی منظوری وزیرِ اعظم نے دینی ہے اور لگتا یوں ہے کہ جب چیف صاحب ایڈہاک ججز کے نام حتمی منظوری کے لئے وزیرِ اعظم کے پاس بھیجیں گے تو وہ یہ کہیں گے ’’چھڈ یار ، مذاق نہ کر‘‘ ۔سچ ہے کہ بھلا اپنے پاؤں پہ خود کلہاڑی کون مارتا ہے ؟۔یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب تمام اپوزیشن جماعتیں اور وکلائ کی غالب اکثریت یہ کہہ رہی ہے کہ گیلانی صاحب اپنا استحقاق کھو چکے ہیں تو پھر چیف جسٹس صاحب کس وزیرِ اعظم کے پاس ایڈہاک ججز کی سمری بھیجیں گے ؟۔اگر وہ گیلانی صاحب کے پاس بذریعہ وزارتِ قانون سمری بھیجتے ہیں تو گیلانی صاحب اس کی منظوری دیں نہ دیں لیکن پیپلز پارٹی تو یہ شور مچا دے گی کہ جب چیف جسٹس صاحب یوسف رضا گیلانی صاحب کو وزیرِ اعظم تسلیم کرتے ہیں تو اپوزیشن کے پیٹ میں کیوں مروڑ اُٹھ رہے ہیں ؟۔اور اگر وہ سمری نہیں بھیجتے تو ۹ رکنی بنچ کیسے تشکیل پائے گا؟۔ اُلجھے ہوئے آئینی معاملات تو اور بھی بہت سے ہیں لیکن میں اپنے قارئین کو مذید ذہنی خلجان میں مبتلائ نہیں کرنا چاہتی کیونکہ سچی بات ہے کہ جوں جوں آگے بڑھتے جائیں ، اُلجھاؤ میں اضافہ ہی ہوتا چلا جاتا ہے ۔اس لئے میں سمجھتی ہوں کہ اگر ’’تیسری قوت ‘‘ نہ آئی تو ہمیں نئے الیکشن کے لئے 2013 ئ کا انتظار کرنا ہو گا۔تیسری قوت کے بارے میں جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ حالاتِ موجودہ میں ان کے آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا وہ احمقوں کی جنت میں بستے ہیں ۔ایک شخص نے دوسرے سے سوال کیا کہ ’’اگر تم جنگل میں جا رہے ہو اور سامنے سے شیر آ جائے تو تم کیا کرو گے ؟‘‘۔اس نے جواب دیا ’’جو کچھ کرے گا ، شیر ہی کرے گا ، میں نے کیا کرنا ہے ‘‘۔ہم نے تو یہی دیکھا ہے کہ جب فوج آنے کا ٹھان لیتی ہے تو آ ہی جاتی ہے اور سب سے پہلے بڑے بڑے بڑھک بازہی اس کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں ۔اس لئے کوئی یہ کہہ کرہمیں بیوقوف بنانے کی کوشش نہ کرے کہ فوج نہیں آئے گی البتہ فوج کے نہ آنے کی دعا ضرور کی جا سکتی ہے کیونکہ ہم جمہوری لوگ ہیں اور ہمیں جمہوریت سے عشق ہے خواہ وہ ہمارا کچومر ہی نکال کرکیوں نہ رکھ دے ۔

یہ بھی پڑھیں  اسلامی ثقافت۔۔۔حجاب!! !