تازہ ترینصابرمغلکالم

پی ایس ایل فائیو 5 آج آخری اور دلچسپ مرحلے میں

پاکستان سپر لیگ کے پانچویں ایڈیشن کے آخری تین میچ دو سیمی فائنل اور ایک فائنل آج اور کل لاہور کے تاریخی گراؤنڈ قذافی کرکٹ سٹیڈیم میں ہوں گے اس ایڈیشن کی خاص بات کہ وہ مکمل طور پر پہلی بار مکمل طور پر پاکستان میں ہی انعقاد پذیر ہوا مگر بد قسمتی سے دنیا بھر موذی ترین مرض کورونا وائرس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور WHOنے اسے عالمی وبا قرار دیا تو دنیا بھر کے درجنوں ممالک میں لاک ڈاؤن،زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی اموات کا سلسلہ تھم ہی نہیں رہااس مرض نے کھیلوں کے میدان بھی بری طرح متاثر کیا،پی ایس ایل کے آخری میچز بغیر شائقین کے بلکہ شیڈولز میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ دونوں ایلیمنیٹرز میچ ختم کرنے پڑے پوائنٹس ٹیبل پر پہلی چار ٹیموں کے درمیان سیمی فائنلز اور جیتنے والی دو ٹیموں کے درمیان اس بڑے کرکٹ میلے کا فائنل کھیلا جائے گا آخری میچوں کے لئے شائقین باالخصوص لاہوریوں نے بھرپور تیاری کر رکھی تھی جو ادھوری رہ گئی کاش آخری میچوں کے دوران سٹیڈیم شائقین سے بھرا ہوتا،خوب ہلہ گلہ ہوتا،لاہور میں موج مستی کا اپنا ہی مزہ ہوتا جو سب ختم ہو گیالاہوریوں کے ارمانوں پر پانی پھر گیاخیر صحت سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں شائقین صبر سے کام لیں،پی ایس ایل کے اس سیزن میں چند ایک کے سوا تمام میچ انتہائی سنسی خیز رہے جن میں لمحہ لمحہ بدلتی صورتحال سے شائقین بہت لطف اندوز ہوئے،آج کے سیمی فائنلز میں پہلے سابق پی ایس ایل چیمپئین پشاور زلمی اور نمبر ون ٹیم ملتان سلطان جبکہ دوسرا سیمی فائنل میں شام سات بجے لاہور قلندر اور کراچی کنگز نبرد آزما ہوں گے آج ہی پتا چل جائے ان چار میں سے وہ دو ٹیمیں کون سی ہیں جن میں کسی ایک کے سر پر پی ایس ایل 5کا تاج سجے گا،پہلی چار نمبرز پر پہنچنے والی ٹیموں پشاور زلمی ایک بار چیمپئین بنا جبکہ کراچی نے پلے آف مرحلے میں کامیابی حاصل کی،سیمی فائنلز کھیلنے والی باقی دونوں ٹیمیں پہلی بار پوائنٹس پر پہلی چار ٹیموں میں شامل ہوئی ہیں پی ایس ایل کی پانچ سالہ تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ اسلام آباد یونائٹیڈ،پشاور زلمی،کوئٹہ گلیڈی ایٹرزاور کراچی کنگز کے علاوہ پہلی بار کسی اور ٹیم نے پہلی چار پوزیشن میں جگہ بنائی ہے،گذشتہ سیزن میں لاہور سب سے آخر تھا،پی ایس ایل میں ا س ایڈیشن سے قبل لاہور قلندر کی کارکردگی مایوس کن رہی جس نے کسی بھی سیزن میں 3سے زیادہ میچ نہیں جیتے،دوسرے نمبر ملتان سلطان مگر اس بار ملتان سلطان شاندار کارکردگی کی بددولت لیگز میچز میں پوائنٹس کے ساتھ پہلے نمبر پر رہی 2018سے پی ایس ایل کا حصہ بننے والی ملتان سلطان کو اس سے پہلے ایک بار بھی پلے آف تک پہنچنے کا نصیب نہ ہوا،اسلام آباد یونائٹیڈ اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرزباالترتیب دو اور ایک بار پی ایس ایل کی ٹرافی حاصل کر چکے ہیں اور دونوں ہی اس بار پہلی چار ٹیموں میں جگہ بنانے میں بھی ناکام رہے،دفاعی چیمپئین نے لیگز میچوں میں آغاز اور اختتام میچ جیت کر کیامگریہ جیتیں اسے اگلے مرحلے تک نہ پہنچا سکیں بلکہ اس ایڈیشن کا آغاز کرنے والی دونوں ٹیمیں ہی آخری مرحلے سے قبل گھر پہنچ گئیں،ٹاپ چارمیں پہنچنے والی ٹیموں میں کراچی کنگز اور ملتان سلطان نے اپنا اپنا میچ میچ جیت کر قدم رکھا جبکہ لاہور قلندر اور پشاور زلمی کو اپنے دونوں ابتدائی میچوں میں ناکامی سے دوچار ہونا پڑا تھا،پہلی بار اگلے مرحلے تک پہنچنے والی ملتان سلطان اور لاہور قلندر کے مابین دونوں میچوں میں ایک ملتان سلطان اور دوسرے میں لاہور قلندر نے حریف کو بچھاڑا،یہ بات بھی انتہائی دلچسپ ہے کہ ماضی میں ناقص کارکردگی کی حامل ٹیم ملتان سلطان نہ صرف سب سے پہلے پلے آف مرحلہ تک پہنچنی بلکہ پوائنٹس ٹیبل پر بھی اس نے اپنی پہلی پوزیشن آخر تک نمبر ون بر قرا ر رکھی،باقی ٹیموں کے لئے لیگ کے آخری میچ بے حد اہمیت اور اہم ترین صورتحال اختیار کر گئے کسی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کون سی تین ٹیمیں ہوں گی جو اگلے مرحلے تک پہنچیں گی،اسلام آباد یونائٹیڈ پہلی ہی شکست کے بعد ایک شکستوں کا شکار رہ دوسری جانب بارش نے بھی اس کا راستہ بڑی حد تک روکا ٹاس کے حوالے سے بھی وہ بد قسمت رہی،یونائٹیڈ کے پہلی بار اور سب سے کم عمر کپتان بننے کا عزاز رکھنے والے بنیادی طور پر باؤلر ہیں مگر باؤلنگ میں ان کی کارکردگی کسی طور وہ نہ تھی جس کی بنیاد پر انہوں نے پی ایس ایل سے قومی ٹیم میں چھلانگ لگائی تاہم اس بار ان کی بلے بازی کافی حد تک بہتر رہی شاداب خان نے دو ففٹیاں بھی جوڑیں،یہ بھی عجب بات ہے کہ کراچی کنگز میں کھیلنے والے ابتدائی6بیٹسمین ماضی میں اسلام آباد یوناٹیڈ کا حصہ رہے اس کے دو بڑے نامور کوچ وسیم اکرم اور ڈین جونز بھی اسے الوداع کہہ کر کراچی کنگز کو جوائن کر گئے اسلام آباد یونائٹیڈ جغرافیائی طور پر کسی خطہ سے منسلک نہیں نہ اسے کسی صوبہ کی حمایت حاصل ہے وہ ہمیشہ انڈر ریٹیڈ ٹیم رہی جس کے مالک ایک انتہائی سنجیدہ بزنس مین ہیں پی ایس ایل کے پہلے سیزن میں کراچی کنگز اور لاہور قلندر مضبوط ٹیمیں سمجھی جا رہی تھیں مگر ٹورنامنٹ میں اسلام آباد اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز چھا گئے اور اسلام آباد افتتاحی سیزن کی چیمپئین ٹھہری اس کے سب ایڈیشنز میں میچوں میں پلاننگ کا کردار کیلدی کردار کاحامل رہا البتہ اسلام آباد یونائٹیڈ کا یہ سیزن بری طرح ناکامی سے دوچار ہوا،پاکستان کی وکٹوں پر پہلی مرتبہ پوری لیگ کے کھیلے جانے پر ماہرین کرکٹ اسلام آباد یونائٹیڈ پر بھروسہ کرتے دکھائی دیئے جس کی بنیادی وجہ شاید یہ تھی کہ T20میں مڈل اوررز میں سپنرز کا کردار بہت اہم ہوتا ہے مگر اس بار شاداب خان کی کی بولنگ مایوس کن تھی اور آتے بھی تو غلط ٹائم پر جب پانی سر سے گذر چکا ہوتا،فہیم اشرف بھی ناکام رہے ان کے جارحانہ بلے باز لیونک رونکی نے اس سیزن میں سست ترین ففٹی کا اعزاز اپنے نام کیا،کھیل کی اس جنگ میں اسلام آباد نے مجوعی طور پر بہت کم مارجن سے مار کھائی در حقیقت T20فارمیٹ میں معمولی سے کوتاہی بھی میچ کا پانسہ بدل دیتی ہے،جیسے ایک میچ میں سمیت پٹیل کی گیند پر محمد حفیظ نے ایلکس بیلز کا کیچ چھوڑا جس نے موقع ملنے کے بعداس نے چار چھکوں کی مدد سے 48گیندوں پر 80سکورز جڑ دیئے،لاہور قلندر کے ببل گم بین ڈنک نے کمال کھیل پیش کیاکراچی کے رضوان نے مڈ وکٹ باؤنڈری پر 12ویں اوور مین ان کا کیچ چھوڑا تب ان کے11رنز تھے جس پر اس نے چھکوں کی برسات کر دی اور40گیندوں پر99سکور بنا کر ٹیم کو اہم ترین فتح دلوائی،پشاور زلمی بھی ان کے قریب قریب رہی ایک بار چیمپئین بھی بنی مگر دیگر چیمپئینز کی طرح وہ بھی اس بار بمشکل اگلے راؤنڈ تک پہنچے میں کامیاب ہوئی، ملتان سلطان کے14کراچی کنگز کے11،لاہور قلندر کے10جبکہ پشاور زلمی اور کوئتہ گلیڈی ایٹرز کے9۔9،پوائنٹس تھے تاہم بہتر رن ریٹ کی وجہ سے پشاور زلمی ان اور کوئٹہ کی ٹیم آؤٹ،،پشاور زلمی کے مایہ ناز آل راؤنڈر ڈیرن زلمی بد قسمتی سے زخمی ہو کر ٹورنامنٹ سے باہر ہئے تو مینجمنٹ نے انہیں ٹیم کا کوچ بناتے ہوئے کپتانی وہاب ریاض کے سونپ دی،کوئٹہ گلیڈی ایٹرز جس میں ہی نہیں بلکہ کسی بھی ٹیم میں بلوچستان کا ایک بھی کھلاڑی شامل نہ تھا البتہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز میں ایسی نمائندگی ضرور ہونی چاہئے تھی اسی وجہ صوبہ بلوچستان کی عوام بہت خفا تھی گلیڈی ایٹرز کے مالک ندیم عمر نے ٹیم کے سفری شیڈول کو انتہائی غیر منصفانہ قراردیا اورکہا ہم سفر کر کر کے تھک جاتے ہیں باقی ٹیموں کو آرام کا موقع مل جاتا ہے ہمیں بالکل نہیں ملتا نہ ہی ہمارا کوئی ہوم گراؤنڈ ہے،کراچی کنگز کی پر فارمنس اس بار شروع سے ہی مجموعی طور پر بہتر رہی،کوئٹہ کے بین کٹنگ اس سیزن میں مسلسل دو بار 0پر آؤٹ ہوئے،کوئٹہ گلیڈی ایٹرز PSLکی تاریخ کا سب سے کامیاب ترین دفاعی چیمپئین رہا مگر اس سیزن میں اس نے ابتدائی 8میچوں میں سے صرف 3میں فتوحات حاصل کی پانچ میچوں میں شکست کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے لئے کسی بھیانک خواب سے کم نہیں تھی،4سال میں 3بار فائنل کھیلنے والی ٹیم کوئٹہ گلیڈی ایٹرزکو کسی ایسی ناقص ترین کارکردگی کی توقع ہرگز نہیں تھی،کراچی کنگز نے اس بار بڑی منصوبہ بندی سے کھیل پیش کیاانہیں دنیا کے نمبر ون بلے بار بابر اعظم اور جارحانہ طبیعت کے مالک شر جیل خان کی جوڑی میسر تھی شرجیل خان کی دلچسپ بات یہ ہے کہ ان نے جہاں خوب کھیلا ان کے مسلسل چار فلک شگاف چھکے شائقین کبھی فراموش نہیں کر پائیں گے وہیں وہ اپنے پہلے اور آخری میں میں 0۔0پر آؤٹ ہوئے،ملتان سلطان کے اوپنر جیمز ویسن نے میچ کے دوسرے ہی اوور میں عاکف جاوید کو لگا تار 5چوکے مار کر سنسی پھیلا دی،ٹورنامنٹ کا پہلا شکار بھی پہلی ہی گیند پر ہوا تھا جبکہ آخری گیند پر آؤٹ ہونے کا شر ف کراچی کنگز کے عماد وسیم کو حاصل ہے،کراچی میں یہ خامی مجموعی طور پر دیکھنے میں ضرور آئی کہ اگر بابر اعظم جلدی آؤٹ ہو جاتے تو باقی ٹیم مصیبت میں پڑی نظر آتی،اس پورے ٹورنامنٹ میں ٹاس بڑ اہمیت کا حامل رہا بہت کم میچوں میں ٹاس جیتنے والے کپتان نے ؓیٹنگ کافیصلہ کیا ہو،بس تاس جیتو اوت مخالف ٹیم کو بیٹنگ تھما دو مجموعی طور یہی فارمولا چلتا رہا،ہدف کا تعاقب یا دفاع پورے ٹورنامنٹ کے سوائے دو تین میچوں کے ڈراؤنا خواب رہا، معاذ خان نے اچھی باؤلنگ کی بابر اعظم اور کیمرون ڈیلپورٹ جیسے عظیم بلے بازوں کی وکٹیں لینے کا اعزاز حاصل کیا،پی ایس ایل میں حیدر علی ففٹی بنانے والے سے سے کم عمر کھلاڑی بن گئے،حیدر علی کے چھکے بھی انتہائی دلکش تھے،سمیت پٹیل نے صرف5رنز دے کر 4وکٹیں حاصل کر کے میچ کا پانسہ ہی بدل دیا،پٹیل نے پشاور زلمی کے کامران اکمل کو اس مرتبہ 4بار آؤٹ کیا،ٹورنامنٹ بارش کی وجہ سے ایک نہ کھیلا جا سکا، دو میں 12اور15اوور کا میچ ہواجبکہ اسلام آباد یونائٹیڈ اور پشاور زلمی کے میچ DLSکے تحت زملی نے7رنز سے جیتا،ٹورنامنٹ میں مجموعی طور پر کئی نامور پاکستانی کھلاڑی کاکردگی سے متاثر کرنے میں ناکام رہے،،شاہین شاہ آفرید ی نے مجموعی طور پر اپنے پہلے اوورزمیں وکٹ لے کر ٹیم کی جیت کی بنیا درکھی،بین کٹنگ نے نسیم شاہ اور محمد حسنین کو بترین ٹیلنٹ قرار دیا ہے جبکہ بیٹنگ میں حیدر علی کی کارکردگی بھی متاثر کن رہی،ٹورنامنٹ میں تین بلے بازوں کامران اکمل،رولی روسو اور کرس لین نے سینچریاں بنائیں کامران اکمل واحد کھلاڑی ہیں جن کی پی ایس ایل میں 3سینچریاں ہیں،محمد حسنین `115اور شاہین آفریدی 13وکٹوں کے ساتھ سر فہرست ہیں جبکہ زیادہ رنز میں بابر اعظم 346اور کرس لین284رنز کے ساتھ نمایاں ہیں،بین ڈنک سینچری سکور تو نہ کر سکا البتہ اس نے دو بار93اور99رنز جوڑے،اس ایونٹ میں بارش کی وجہ سے دو میچ م اوورز پر اور دو میچ ہی منسوخ ہہوئے،بین ڈنک اور شرجیل خان نے دو دو مرتبہ مین آف دی میچ کا اعزاز حاصل کیا،

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker