تازہ ترینصابرمغلکالم

پی ایس ایل۔7ایڈیش کی کہکشاں

دنیائے کرکٹ کی تیزترین ترقی کرتی اور ابھرتی پاکستان سپر لیگ کے ساتویں ایڈیشن کی کہکشاں سج گئی،رنگا رنگ افتتاحی تقریب سے روشنیوں کے شہر کراچی کے نیشنل سٹیڈٰیم میں دفاعی چیمپئین ملتان سلطان اور کراچی کنگز کے درمیان میچ سے اس بہت بڑے اور دنیابھر میں مقبول کرکٹ لیگ کا میدان سجے گا،ساراسال کی جانے والی انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے کو ہیں،چوکوں،چھکوں کی برسات کے ساتھ ساتھ تمام اسٹارزکے دیدہ زیب اور ناقابل یقین ایکشن شائقین کرکٹ کے دل موہ لیں گے ہر گیند سنسی خیز اور سحر زدہ ماحول بنا ڈالتی ہے،اس سال پی ایس ایل کے میچز دو شہروں کراچی اور لاہور میں کھیلے جائیں گے دونوں شہروں میں وفاقی،سندھ،پنجاب حکومت کے ساتھ ساتھ پاکستان کرکٹ بورڈ اس میگا ایونٹ کے انعقاد اور کامیابی سے بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں،فول پروف سیکیورٹی کے لئے پولیس،رینجرز اور پاک فوج کے چاک و چوبند دستے اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے،ہمارے ادارے انتہائی قابل فخر ور صلاحیتوں سے مالامال ہیں جو تمام معامالات کو خوش اسلوبی سے انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں،اس دوران کوویڈ کی بڑھتی ہوئی نئی وباء کے پیش نظر کھلاڑیوں کے متبادل پول کے علاوہ ان کے لئے مکمل ہوٹل بک کروائے ہیں،کراچی شہر کو اس ایونٹ پر بھی پہلے کی طرح سجا دیا گیا ہے جگہ جگہ پوٹریٹ دلفریب مناظر پیش کر رہے ہیں،اس بار اس سپر لیگ کا تاج کس ٹیم کے سر سجتا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا تاہم ہر ٹیم ماضی سے بھی زیادہ پرجوش نظر آتی ہیں،اس میگا ایونٹ کے کل 34میچز کھیلے جائیں گے جن میں 15۔15راؤنڈمیچ کراچی اور لاہور میں جبکہ پلے آف اور ایلیمٹیرزاور فائنل سمیت مزید 4میچ قذافی سٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے،مجموعی طورپر یہ سیزن 27جنوری سے شروع ہو کر 27فروری کو اختتام پذیر ہو گاتمام ٹیمیں دونوں شہروں میں یکساں میچز کھیلیں گی،پی ایس ایل نے کئی نشیب و فراز دیکھے متعدد مشکلات کے باوجود یہ پاکستانی شائیقین کرکٹ کے لئے تفریح کا اہم ترین ذریعہ بن چکی ہے،گذشتہ سال بھی انہی دو شہروں کا انتخاب کیا گیا تھا تاہم کورونا صورتحال کی بنا پر پہلے ملتوی پھر ابوظہبی پی ایس ایل مکمل ہوئی،انٹرنیشنل کرکٹ کے مصروف ترین سیزن کے باوجود کئی نامور کھلاڑی پاکستان پہنچ چکے ہیں،ابتدائی چند میچوں میں 14غیرملکی کھلاڑی شامل ہوئے ہیں بعدمیں جیسن روئے سمیت دیگر کی جگہ اور عالمی اسٹارز پاکستان پہنچ جائیں گے،ملتان سلطان اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے اپنے 8۔8کھلاڑیوں کو بر قرار رکھا ہے 12دسمبر کو 32ممالک سے 425کھلاڑی ڈرافٹنگ کا حصہ بنے اس کے لئے ہر ٹیم کو پالٹینیم،ڈائمنڈ گولڈ کٹیگری میں سے 3سلور کٹیگری سے 5 ایمرجنگ سے8اور دو کو سپلیمنٹری سے اپنا حصہ بناسکتے تھے ہر ٹیم کو 18کھلاڑیوں کی اجازت ملی،پی ایس ایل میں حصہ لینے والی ٹیموں اسلام آباد کے مالک محمد نقوی اور آمنہ نقوی،کوچ اظہر محمود،کپتان شاداب خان،کراچی کنگز کے ملاک ARYکے سلمان اقبال، کوچ ہئیر مورس اور کپتان بابر اعظم،لاہور قلندر کے مالک قطر لویریگمنیٹن کے فواد رانا،کوچ عاقب جاوید اور کپتان شاہین شاہ آفریدی،ملتان سلطان کے مالک عالمگیر خان ترین،کوچ اینڈی فلاور اور کپتان محمد رضوان،پشاور زلمی کے مالک بائیر پاکستان کمپنی کے جاوید زیدی،کوچ ڈیرن سیمی اور کپتان وہاب ریاض اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے مالک عمر ایسوسی ایٹس کے ندیم عمر،کوچ معین خان اور کپتان سرفراز احمد ہیں،پہلی مرتبہ اس میگا ایونٹ کا سہرا اسلام آباد یونائٹیڈ کے ماتھے پر سجا، بعد میں پشاور زلمی،اسلام آباد،کوئٹہ گلیڈی ایٹرز،کراچی کنگز اور ملتان سلطان چیمپئین ٹھہرے یوں اسلام آباد یونائٹیڈ کی ٹیم واحدٹیم ہے جسے یہ اعزاز دو مرتبہ حاصل ہوا،لاہور قلندر بے پناہ شہرت اور فیورٹ ہونے کے باوجود مجموعی طور پر آخری نمبرز پر رہی تاہم گذشتہ سال اس نے فائنل تک رسائی حاصل کی مگر ملتان سلطان نے اسے بآسانی دبوچ لیا تھا،اسلام آباد یونائٹیڈ کے باقی کھلاڑیوں میں حسن علی،آصف علی فہیم اشرف،ایلیکس ہیلز،محمد وسیم،ڈیز پال سٹرنگ،اعظم خان،کالن منرو،محمد اخلاق،دانش عزیز،ظفر گوہر،مبشر خان،رحمان اللہ،رس ٹوہلی،مرچنٹ ڈی لانگے اور محمد ذیشان،کراچی کنگز میں بابر اعظم،محمد عامر،عماد وسیم،جوئے کلارک،عامر یامین،محمد نبی،شرجیل خان،لیوئس گریگری،عمید آصف،روحیل آصف،محمد عمران،محمد طحہ حسن،قاسم اکرم،کرس جارڈن،آئن کاک،سہیل خان،ٹائم ایبل،فیصل اکرم،محمد الیاس،رومیو شیفرڈ،لاہور قلندر میں شاہین شاہ آفریدی کی قیادت میں سہیل اختر،حارث رؤف،راشد خان،محمد حفیظ،ڈیو ڈویزے،احمد دانیال،ذیشان اشرف،فخر زمان،عبداللہ شفیق،فل سالٹ،ہیری یروک،کامران غلام،ڈین کرافٹ،زمان خان،معاذ خان،سمت پٹیل اورسعید فریدوں،ملتان سلطان محمد رضوان کی کپتانی میں شاہنواز دھانی،صہیب مقصود،شان مسعود،عمران طاہر،خوشدل خان،روئلی روسو،ٹم ڈیوڈ،رومان رئیس،آصف آفریدی،عامر عظمت،انور علی،راومین پاول،عمران خان،عباس آفریدی اور احسان اللہ شامل ہیں،پشاور زلمی وہاب ریاض،شعیب ملک،ٹام کوہلر کیڈمور،حضرت اللہ رزئی،فورڈ،ثاقب محمود،لائم لیونگ سٹون،حیدر علی،حسین طلعت،عثمان ارشاد،ثمین گل،کامران اکمل،بین کٹنگ،محمد حارث،سراج دین اور محمد عامر،کوئٹہ گلیڈی ایٹرز میں سرفراز احمد کپتان،شاہد آفریدی،جیمسن وینس،افتخار احمد،محمد نواز،محمد حسنین،جیسن روئے،جیمز فالکر،،عمر اکمل،سہیل تنویر،بین ڈنکٹ،خرم شہزاد،نسیم شاہ،،فرنچائزرز اور پی ایس ایل مینجمنٹ نے سعود شکیل،عمیر بن یوسف،عماد عالم،وقاص مقصود،آرش خان،عماد بٹ،عامر جمال،امام الحق، عامر نواز،حسان خان،طیب طاہر،زاہد محمود،عمر صدیق،بسم اللہ خان اور ابرار احمد کو بطور متبادل کھلاڑی سلیکیٹ کیا ہے،پی ایس ایل کے ساتویں سیزن کے لئے ایمپائرز علیم ڈار،فیصل آفریدی،مائیکل گو،رچرڈورتھ،احسن رضا،شعیب رضا،راشد ریاض،آصف یعقوب،ریفری افتخار احمد،محمد جاوید،رنجن مادھو،روشن ماہنامہ اور علی نقوی،کمنٹیٹرز میں نک نائٹ،ڈیوڈ گاور،مائیک ہیمن،پومل مینگوا،ڈینی مارسن،کے جیمز،پومی ایمسبیکو،بازید خان،وقار یونس،عروج ممتاز،ثنا میر،رمنا اقبال اور اردو میں کمنٹری طارق سعید کریں گے،انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کے کمنٹیٹرز نک نائٹاور مائیک ہیمن پہلی مرتبہ پاکستان میں کمنٹری کے فرائض انجام دیں گے، اس شاندار لیگ کے نشریاتی حقوق مشترکہ طور پر پی ٹی وی اور اے آروائی نے حاصل کئے جس پر ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے اعتراض کیا اور پی سی بی کو خط بھی لکھا تھا، جیو سپر و انٹرنیشنل میڈیا نے دو سال کے لئے نشریاتی حقوق حاصل کرنے پر 3.74ارب ڈالرکی بولی دی تھی تاہم PTVاور اے آر وائی نے ایک سال کی بولی 2.1ارب ڈالر دی تاہم ٹرانپیرنسی کی مداخلت پر انہی کی دو سال کے عرصہ پر 4.35ارب ڈالر کی بولی منظور کی جیو گروپ نے اس کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا مگر استدعا مسترد، لیگ کی لائیو سٹریمنگ کے حقوق کے لئے آن لائن کاروبار اور ڈیجیٹل دنیا کے بڑے نام دراز نے سب سے زیادہ بولی لگائی جو گذشتہ سال کے مقابلے میں 175فیصد ہے،اس بات سے بھی PSL کی مقبولیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے،ڈیجیٹل دور میں لائیو سٹریمنگ کھیلوں کی ترقی اور فروغ میں اہم کرادا ادا کر رہی ہے درازکے چیف ایگزیکٹو عمارحسین کے مطابق ہمیں اس بڑی پیشکش پر فخر ہے شائقین کرکٹ ان میچوں کو مفت سٹریم کے ساتھ ساتھ دو کروڑ سے زائد مصنوعات پر شاندار قیمتوں سے لطف اندوز ہو سکیں گے،،اس لیگ کو پی ٹی وی،اے سپورٹس،ولوئی وی،سپر اپورٹس،فلوااسپورٹس،اسکائی اسپورٹس کے ذریعے پاکستان،شمالی و جنوبی افریقہ،آسٹریلیا،کیرسین،وسطی،جنوبی،مشرقی، مغربی ایشیا،یورپ،آئرلینڈ،مشرق وسطیٰ،شمالی و جنوبی امریکہ اور متحدہ عرب امارات وغیرہ میں دیکھا جا سکے گا،30 ایچ ڈی،ڈرون اور بگی کیمروں کے ذریعے تمام خوبصورت اور سنسی خیز مناظر دکھائے جائیں گے،این سی او سی نے کراچی میں صرف پچیس فیصد شائقین کو براہ راست میچ دیکھنے کی اجازت دی ہے لاہور میں شائقین کے حوالے سے فیصلہ ابھی باقی ہے،چیف آپریٹنگ آفیسر سلمان نصیرنے کہاکہ صحت اور حفاظت کے حوالے سے ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا مکمل ادراک ہے،اس سیزن کے لیگ میچوں میں جنرل سٹینڈ ٹکٹ کا ریٹ 5سو،فرسٹ کلاس 15 سو روپے پریمئم انکلوژر دو ہزار جبکہ وی آئی پی ٹکٹ کا25سو روپے رویکسینیشن سرٹیفیکیٹ لازم اور ایک شناختی کارڈ پر 6ٹکٹس ملے اور ملیں گے،پلے آف،ایلیمینٹر اور فائنل کے ریٹس الگ سے طے ہوں گے، تمام ٹیموں کے کپتانوں نے بھی کوویڈ جیسی موذی وباء کے خلاف انتہائی عزم کا اظہار کیا ہے حقیقت یہ ہے کہ کھلاڑیوں کو مخالف ٹیم کے ساتھ کوویڈ کے خلاف بھی نبرد آزماء ہونا پڑے گاایونٹ سے قبل ہی پشاور زلمی کے کامران اکمل،ارشد اقبال کورونا کے باعث ٹٰیم سے باہر ان کی جگہ امام الحق اور عماد بٹ ٹیم کا حصہ بن گئے جبکہ وہاب ریاض،کراچی کنگز کے صدر وسیم اکرم اس وباء کا شکار ہو گئے ہیں جنہیں آئیسولیٹ کر دیا گیا ہے،زلمی کے حیدر علی کوبائیو سیکیورببل کی خلاف ورزی پرنکال دیا گیا ہے ایچ بی ایل پی،پی ایس ایل کو مکمل کرانے کے لئے پلیئنگ کنڈیشنز میں رعایت دی گئی ہے جس کے مطابق کورونا کا شکار کم ازکم تین غیر ملکی کھلاڑیوں کی پابندی نہیں ہو گی تمام مقامی کھلاڑیوں کو بھی میدان میں اتارا جا سکتا ہے،فائنل کے ریزرو ڈے مختص پھربھی میچ مکمل نہ ہونے پر چیمپئین کا فیصلہ پوائنٹس پر ہو گاسلو اوور ریٹ پرآخری اوور میں ایک کم کھلاڑی دائرے سے باہر رکھا جائے گا،نو بال ٹی وی ریفری چیک کرے گا،گذشتہ دو سیزن کورونا کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوئے اسی وجہ سے ایونٹ میں کوویڈ پروٹوکولز کی خلاف ورزی پرسخت سزا کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے مطابق سرزنش سے مکمل باہر،میچ فیس میں پانچ لاکھ تک جرمانہ یا پانچ میچزکی پابندی،کسی کو اپنے کمرے میں بلانا،علامات کو چھپانا،قرنطیہ کے دوران کمرے سے باہر نکلنابڑی خلاف ورزیاں قرار،ایونٹ کے پہلے مرحلے میں شریک تمام افراد کی چار مرتبہ پی سی آر ٹیسٹنگ ہو گی،ہر ٹیم کو ہوٹل کی الگ منزل پر کمرے،ہر ٹیم کا علیحدہ کامن روم،دوسری ٹیم کے رکن پر اس کمرے میں داخلے کی اجازت نہیں،گیند پر تھوک لگانا ممنوع،سماجی فاصلہ ضروری،ہاتھ ملانے سے اجتناب،تمام ٹیموں کے فزیو اپنی ٹیموں کی مانیٹرنگ کریں گے،، لاہور قلندر کی قیادت اظہر خان،ڈیون براوو،محمد حفیظ کے بعد سہیل اختر نے دو مرتبہ قیادت کی اس سال شاہین شاہ آ فریدی کو کپتان بنا دیا گیاجو 2018سے اس ٹیم کا حصہ ہیں،لاہور قلندر کے سب سے زیادہ تجربہ کار کھلاڑی محمد حفیظ تین جنوری کو انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر چکے ہیں،پاکستانی کھلاڑیوں میں حفیظ کے بعد شعیب ملک سب سے سینئر کھلاڑی ہیں،شاہد آفریدی اس بارکوئٹہ گلیڈی ایٹرز میں ہیں وہ اس سے قبل کراچی کنگز،پشاور زلمی اور ملتان سلطان کی جانب سے کھیل چکے ہیں، کامران اکمل نے خود کو سلور کیٹیگری میں ڈالنے کے بعد کھیلنے سے انکار کردیا تھا تاہم بعد میں انہیں راضی کیا گیا، ملتان سطان کی قیادت انتہائی ٹیلنٹڈ کھلاڑی محمد رضوان کوملی ہے جنہوں نے ایک سال میں ٹی ٹونٹی کی تاریخ میں دو ہزار بنانے کا عالمی ریکارڈ قائم کیا جن میں ایک سینچری اور سترہ نصف سینچریاں بنائیں کراچی کنگز کے کپتان بابر اعظم اور محمد رضوان نے بحثیت اوپنر چھ سینچری شراکت قائم کی جو عالمی ریکارڈ ہے ٹی ٹونٹی کی تاریخ میں چار مرتبہ بطور اوپنر ایک سو پچاس کا ہندسہ بھی صرف اسی جوڑی نے قائم کیا،قومی ٹیم کے لئے گذشتہ سال اٹھارہ فتوحات کے حوالے سے یادگار اور ریکارڈ ساز رہا،لاہور قلندرکو ایونٹ سے قبل بڑی خوشخبری ملی کہ ان کی قیادت کرنے والے شاہین شاہ آفریدی کو دنیائے کرکٹ کے سب سے بڑے انفرادی اعزاز سر گیری سوبرز ٹرافی کا حقدار ٹھہرایا گیا ہے،کراچی کنگز کے کپتان کو ون ڈے کرکٹر آف دی ائیر کا اعزازمل گیا،پی ایس ایل کے سابق سیزنز میں اب تک 182 میچز کھیلے جا چکے ہیں،پی ایس ایل میں سب سے زیادہ سکور اسلام آباد یونائٹیڈ کا دو وکٹ پر247ہے اور سب سے کم لاہور قلندر کا 59 ہے،بڑی فتح میں ملتان نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 110رنز سے شکست دی،پشاور زلمی،کراچی کنگز اور اسلام آباد یونائٹیڈ نے ایک ایک میچ 10۔10وکٹوں سے جیتا پانچ مرتبہ کوئی ٹیم صرف ایک رن سے جیتی،تین میچ ٹائی ہوئے سب سے زیادہ 2070رنز بابر اعظم نے بنائے ان کے علاوہ کوئی بھی کھلاڑی دو ہزار کا ہندسہ پار نہیں کر سکاصرف نو کھلاڑیوں نے ایک ہزاررنز کو عبور کیا،سب سے زیادہ انفرادی سکور 127 ناٹ آؤٹ کولن انگرام کا ہے،ٹوٹل 10سینچریاں بنیں جن میں سے تین کامران اکمل کی ہیں،21نصف سینچریوں کا ریکارڈ بابار اعظم کے پاس ہے کسی ایک سیزن میں پانچ سو یا اس سے زائد رنز صرف بابر اعظم اور محمد رضوان نے بنائے،84چھکوں کے ساتھ عمر اکمل پہلے اور81چھکوں کے ساتھ شین واٹسن دوسرے نمبر پر ہیں،بہترین باؤلنگ روی بوپارہ کی ہے جنہوں نے محض 16رنز دیکر6شکار کئے جبکہ فہیم اشرف اور عمر گل بھی ایک اننگز میں 6۔6وکٹیں لے چکے ہیں،سب سے زیادہ وکٹوں 94کا ریکارڈ وہاب ریاض کے پاس جبکہ سب سے زیادہ صفر کا شکار ہونے والے کامران اکمل ہیں، ماضی میں پلئیر آف دی ٹورنامنٹ روی بوپارہ،کامران اکمل،لیونک رونچی،شین واٹسن،بابار اعظم اور صہیب مقصود رہے بابر اعظم نے یہ اعزاز دو مرتبہ اپنے نام کیا دیکھو اس بار بہترین کھلاڑی کا اعزاز کون حاصل کرتا ہے اور تاج کس ٹیم کے سر پر سجتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button