پاکستانتازہ ترین

پاکستان تحریک انصاف کانے سانحہ راولپنڈی پر قومی اسمبلی کااجلاس بلانےکامطالبہ

ptiاسلام آباد (بیورو رپورٹ) پاکستان تحریک انصاف نے سانحہ راولپنڈی پر قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت نے قومی اسمبلی کا اجلاس نہ بلایا توان کی پارٹی دیگر اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ ملا کر اجلاس بلانے کے لئے ریکوزیشن دے گی۔ یہ مطالبہ تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر شیریں مزاری کے ہمراہ پیر کو پارٹی کے سنٹرل سیکرٹریٹ میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پنجاب حکومت اور راولپنڈی کی انتظامیہ نے سانحہ راولپنڈی کو مس ہینڈل کیاگیا۔ لگتا ہے کہ حکومت اتنے بڑے سانحے پر بھی سنجیدہ نہیں ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ سانحہ راولپنڈی کی تحقیقات کے لئے بنائے گئے جوڈیشل کمیشن کا دائرہ کار پنجاب بھر کے ہنگاموں تک پھیلایا جائے۔ ملتان میں بھی امام بارگاہوں پر حملے ہوئے اور چوک گھنٹہ گھر میں ایک بے گناہ اور معصوم بچہ جاں بحق ہوا۔ اس سانحہ کے اثرات دور رس ہوں گے اور ملک بھر میں تفرقہ پیدا ہو گا جس کا ازالہ ناممکن ہو جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ یہ ایک قیمتی سانحہ ہے حکومت قومی اسمبلی کا اجلاس بلا کر سانحے پر بحث کرائے تا کہ مشاورت سے معاملے کو سلجھایا جا سکے۔ اگر حکومت نے اجلاس نہ بلایا تو ہم اپوزیشن پارٹیوں سے مل کر اجلاس کے لئے ریکوزیشن دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کے عالمی اثرات بھی ہوں گے۔ عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ مزید مجروح ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ راولپنڈی میں تاجروں کے اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ حکومت تاجروں کو معاوضے ادا کرے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ ایک سازش ہے ٗ اگر یہ سازش ہے تو پھر خطرناک سازش ہے جسے ناکام بنایا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک فرقہ یا مدرسے مسجد پر حملہ نہیں بلکہ پاکستان کی ریاست اور سالمیت پر حملہ ہے اور سب کو سیاست سے بالا تر ہو کر ریاست کے خلاف اس حملے کو ناکام بنانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ عجلت میں کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرانا چاہتے۔ تحقیقات کا انتظار کیا جانا چاہئے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی 12 اکتوبر 1999ء اور 3 نومبر 2007ء کے اقدامات کو غیر آئینی قرار دیتی ہے۔ ہمارا موقف بڑا واضح ہے کہ ان اقدامات پر آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی ہونی چاہئے بلکہ یہ ہمارا مطالبہ تھا اور ہم تاخیر پر حیران تھے البشہ پرویز مشرف کے خلاف مقدمے کے اعلان کی ٹائمنگ پر حیران ہیں۔ سانحہ راولپنڈی کے فوری بعد اس کے اعلان سے شکوک پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی طرف سے ڈرون حملوں کے خلاف مارچ سے عالمی سطح پر ڈرون حملوں کے خلاف رائے عامہ متحرک ہوئی اور آج امریکہ میں بھی اس پر بحث جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان 11 محرم کو سانحہ راولپنڈی سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنا چاہتے تھے لیکن کرفیو کی وجہ سے نہ کر سکے۔ شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ راولپنڈی انتظامیہ کا رویہ افسوسناک ہے۔ پی ٹی آئی کے دونوں اراکین اسمبلی کو پنڈی اور ملتان میں میں امن و امان کی صورتحال بارے بلائے گئے اجلاس میں نہیں بلایا گیا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملتان ٗ پنڈی اور پنجاب بھر کی انتظامیہ محرم کے انتظامات کی بجائے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے حلقہ بندیوں کی بندربانٹ میں مصروف تھی۔ انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ 23 نومبر کو نیٹو سپلائی کے خلاف دھرنے میں صوبائی حکومت کا کوئی وزیر یا عہدیدار تک نہیں ہو گا بلکہ یہ دھرنا پارٹی سطح پر منظم کیا جائے گا۔ پی ٹی آئی کی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ اتنے بڑے سانحہ کے باوجود وزیر اعظم نواز شریف نے اپنا غیر ملکی دورہ مختصر نہیں کیا۔ ملک جل رہا ہے اور وزیر اعظم کا اتا پتہ ہی نہیں۔ صدر مملکت بھی اپناکردار ادا کرنا چاہئے لیکن ان کا بھی وجوددکھائی نہیں دے رہا۔

یہ بھی پڑھیں  آرمی چیف کی زیر صدارت اجلاس، افغانستان سےبھتہ خوری کی کالز کو روکنے کا فیصلہ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker