شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / پروفیسر مظہر / تحریکِ انصاف کی سیاست

تحریکِ انصاف کی سیاست

شیکسپیئر نے کہا ’’کچھ لوگ پیدائشی عظیم ہوتے ہیں ، کچھ جد و جہد کرکے عظیم بنتے ہیں اور کچھ پر عظمت مسلّط کر دی جاتی ہے‘‘۔محترم عمران خاں کا شُمار ایسے لوگوں میں کیا جا سکتا ہے جن پر منٹو پارک کے کامیاب جلسے کے بعد عظمت مسلّط کر دی گئی۔اِس عظمت کے پیچھے اوّلین ہاتھ ایسے لکھاریوں کا تھا جنہوں نے اُنہیں محمود غزنوی ، محمد غوری ، صلاح الدین ایوبی ، قائدِ اعظم ثانی اور پتہ نہیں کیا کیا کچھ بنا کر وزارتِ عظمیٰ کا تاج اُن کے سر پر سجایا اور خود اُن کی کابینہ کے انتخاب میں مصروف ہو گئے ۔بعد ازاں یہ فریضہ وہ پنکھ پکھیرو سر انجام دینے لگے جو موسموں کی ادا دیکھ کر ٹھکانے بدلتے رہتے ہیں ۔سیاسی بساط کے یہ شاطر اب تحریکِ انصاف کا اثاثہ ٹھہرے اور دوائے دل بیچنے والے خلوص کے بندے وقت کی نا مہرباں دھول میں گُم ہو گئے البتہ ’’کپتان‘‘ پر بِلا شرکتِ غیرے حق جتانے والے ایک سینئر لکھاری اپنا گورنر ہاؤس میں ’’فقیرانہ ٹھکانے‘‘ کا دیرینہ خواب بکھرتے دیکھ کراب تِلملاہٹ کا شکار ہیں ۔وہ خاں صاحب کی ’’فرزندِ راولپنڈی‘‘ کے ’’التحریر‘‘ جلسے میں شرکت پر بہت سیخ پا نظر آئے۔سوال مگر یہ ہے کہ مشرف کے ڈھیروں ڈھیر کاسہ لیسوں کو گلے لگاتے ہوئے تو اُن کی باچھیں کھِلی جا رہی تھیں اب اُس کے سب سے قریبی ساتھی پر اعتراض کیوں؟۔اگر وجہ صرف یہ ہے کہ ماضی قریب میںشیخ صاحب نے خاں صاحب کی اہانت کا کوئی پہلو تشنہ نہیں چھوڑا تو ہماری سیاست میں یہ کوئی جُرم نہیں۔ ویسے موصوف کو یاد ہی ہو گا کہ جب تحریک میں شامل ہونے والوں کا سونامی آیا ہوا تھا تبھی کُچھ لوگوں کے اعتراض پر کپتان نے فرمایا تھا کہ آسمان کے فرشتے کہاں سے لاؤں، انہی پر گزارہ کرنا ہو گا۔تب تومدح سراؤں میں سے کوئی ایک بھی کپتان کو کنفیوشس کا یہ قول سُنانے والا نہیں تھا کہ ’’مچھلی دانے کو دیکھتی ہے دام کو نہیںاور نادان نفع کو دیکھتا ہے نقصان کو نہیں‘‘۔
تحریکِ انصاف کے میسجز کے مطابق اُن کے رجسٹرڈ ممبران کی تعداد ایک ملین سے تجاوز کر چُکی ہے ۔ لیکن یہ کسی کو معلوم نہیں کہ اس ایک ملین میں سے تحریک کے ووٹر کتنے ہیں؟۔بہت سے ایسے لوگوں کو تو میں بھی جانتا ہوں جو تحریک کے ’’موبائلی رجسٹرڈ ممبر‘‘ بھی ہیں اور شدید مخالف بھی ۔تحریکِ انصاف جس موبائلی ممبر شپ پر بھروسہ کیے بیٹھی ہے وہ پاکستان کی حد تک تو ہر گز لائقِ اعتبار نہیں کیونکہ یہ وہ خطّۂ ارض ہے جہاں ستّر فیصد سے زائد آبادی کو نورِ علم کی کرنیں چھو کر بھی نہیں گزریں۔ یہ میسج لکھنا جانتے ہیں نہ پڑھنا اور یہی وہ لوگ ہیں جو بڑے ذوق و شوق سے ووٹ دیتے ہیں کیونکہ خار زارِ زیست کے انہی’’انتخابی ایام‘‘ میں ہی اُنہیں اپنے ’’ہونے‘‘ کا احساس ہوتا ہے جس سے وہ جی بھر کے لُطف اندوز ہوتے ہیں ۔اب یہ تحریک کے بزرجمہر ہی بتا سکتے ہیں کہ اِن ستّر فیصد اصلی ووٹروں تک اپنا پیغا م پہنچانے کے لئے وہ کیا حکمت عملی اختیار کریں گے۔
اب تحریکِ انصاف کے چند رہنماؤں نے اپنے اثاثے بھی ظاہر کر دیئے ہیں اور اصلاحاتی ایجنڈا بھی ۔سوال مگر یہ ہے کہ اِن اثاثوں کی جو مالیت ظاہر کی گئی ہے ، کیا یہ اصحاب اُس سے دس گناقیمت پر بھی وہ اثاثے فروخت کرنے کو تیار ہیں؟۔کیا خاں صاحب کی زرعی زمین کی مالیت واقعی وہی ہے جو ظاہر کی گئی۔ اور سب سے اہم یہ کہ ظاہر کیے گئے اِن اثاثوں کے ذرائع کیا ہیں؟۔اور محترم ’’باغی ‘‘سو ملین سے زائد اثاثوں کے مالک کیسے بن گئے ؟۔اِن جیسے بہت سے سوالوں کا جلد یا بدیر اکابرینِ تحریکِ انصاف کو جواب دینا ہو گااور تحقیق کہ یہ اُن کے لئے بہت مشکل مرحلہ ہو گا۔رہا اصلاحاتی ایجنڈا تو اِس میںکون سا انقلابی پروگرام مضمر ہے؟۔یہ تو ہر سیاسی جماعت کا ایجنڈا بلکہ ہتھکنڈاتھا ، ہے اور رہے گالیکن اِس پر پہلے کبھی عمل در آمد ہوا اور نہ اب ہو نے کی توقع ۔جن مگر مچھوں پر ہاتھ ڈالنے کی بات کی جا رہی ہے اُن کے بارے میں تو موجودہ وزیرِ خزانہ عبد الحفیظ شیخ کئی بار اپنی بے بسی کا اظہار کر چُکے ہیں ۔اور اب تو ماشا اللہ اِن مگر مچھوں کی ایک قابلِ ذکر تعداد تو تحریکِ انصاف کا اثاثہ ہے ۔کالے دھن کی سفید کرنے کی کوششیں پہلے کبھی بارآور ہوئیں نہ اب ہونگی۔ موجودہ حالات میں فوجی بجٹ کم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور تحریکِ انصاف نے اخراجات میں کمی کا کوئی ایسا قابلَ عمل فارمولا بھی نہیںدیا جو کرپشن اور اللّے تللّوں کے آگے بند باندھ سکے۔یکساں نظامِ تعلیم کا سُن سُن کر کان پَک چُکے ہیں۔رہی طبّی اور تعلیمی بجٹ کے چھ گُنا اور پانچ گُنا کرنے کی بات تو اس کے لئے فنڈ کہاں سے آئیں گے؟۔
انقلاب کی نوید سنانے والے خاں صاحب کی اپنی حالت اُس لڑکے کی سی ہے جو سمندر کے کنارے سنگریزوں سے کھیل رہا ہو جبکہ صداقتوں اور تلخ حقائق کا عمیق سمندر جوں کا توں سامنے پڑا ہو۔پہلے وہ عقابی شان سے جھپٹے لیکن جلد ہی تھک کرکرگسوں میں جا گِرے ۔پھر انتہائی بے تُکے انداز میں اپنے سونامی کو تختِ لاہور کی فصیلوں سے ٹکرانا شروع کر دیا جس سے یوں محسوس ہونے لگا کہ خاں صاحب کی نظر وزارتِ عظمیٰ پر نہیں بلکہ پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ پر ہے۔ اُن کی تان ہمیشہ نواز لیگ پر ہی ٹوٹتی ہے ۔کیا اُن کے خیال میں کرپشن، مہنگائی ، دہشت گردی، بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کی ذمہ دار نواز لیگ ہے؟۔ اگرنہیں تو پھرصرف نواز لیگ ہی کیوں؟۔
ہر ذی شعور یہی کہتا ہے کہ موجودہ حالات میں کوئی بھی سیاسی جماعت گُلستانِ سیاست کے پھل تنہا توڑ کھانے کے قابل نہیں ۔اسی لئے پیپلز پارٹی اپنے اتحادیوں کے ساتھ میمنہ، میسرہ سجائے کھڑی ہے ۔نواز لیگ بھی دیر سے سہی لیکن اب اپنے گھوڑوں کی زینیں کَس رہی ہے لیکن کپتان کو لفظی بازیگری کے ماہر اب بھی دل خوش کُن خواب دکھا کر ’’تنہا پرواز‘‘ کا درس دے رہے ہیں۔ لیکن کیا ایسا کرکے وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے؟۔ ایسی معجزہ گری فی الحال تو ممکن نظر نہیں آتی البتہ اندیشہ ہے کہ کہیں خاں صاحب کا انجام بھی اصغر خاں اور ’’اسلامک فرنٹ‘‘ کے قاضی حسین احمد جیسا نہ ہو جائے کیونکہ ہم نے ’’ظالمو! قاضی آ رہا ہے‘‘ کے شور اور نغموں اور ترانوں کی گونج میں تحریکِ انصاف سے کہیں زیادہ بھرپور جلسے بھی دیکھے اور جلوس بھی لیکن نتیجہ بر عکس پایا ۔ کارلائل کہتا ہے ’’متواتر گرنے والے قطرے سنگلاخ چٹانوں پر اپنا نقش بنا لیتے ہیں لیکن تُند و تیز شور کے ساتھ چٹانوں سے ٹکرانے والے دھارے اپنا کوئی نشان نہیں چھوڑتے ‘‘۔تحریکِ انصاف کی تُندی اور تیزی دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ بھی اپنا نشان چھوڑے بغیر قصّۂ پارینہ بن جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں  جمال لغاری اپنی ہی گن کی گولی سے زخمی ہو گئے

کوئی تبصرہ نہیں

  1. ham sab ko is bat per yakeen rakna chahyey k pakistan may Allah tala ka khas karam hay or is main har tarha kay mosam or vasail hain , ager koe nake neeyat say is ko bro_e kar lana chahy to har kam mumkin hay, bus neeyat saf hane chahyay, ham umeed raktay hain k Allah tala imran kahn k vasela say he is ko mumkin bana day.