تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

پی ٹی آئی اور قومی وطن پارٹی کے راستے الگ ۔۔۔ شرارت کس کی؟

zafarسیاسی جماعتوں کے فیصلے اور نظریہ ضرورت کے تحت مصلحتیں اپنی جگہ تاہم اس بات میں اب کوئی ابہام نہیں رہا کہ خیبرپختونخوا کی مخلوط حکومت میں شامل دو اہم اتحادیوں تحریک انصاف اورقومی وطن پارٹی کا اتحادختم اور ان کے راستے الگ ہوگئے ہیں۔ تحریک انصاف تو بدستور حکمرانی کا تاج پہنے ہوئی ہے اورقومی وطن پارٹی کے ساتھ اتحاد ختم کرنے کے باوجود اپنے دوسرے اتحادی جماعتِ اسلامی کی مدد سے اسمبلی میں مطلوبہ عددی اکثریت کے لحاظ سے تو بظاہر کسی اور جماعت کے اتحاد کی محتاج نظر نہیں آتی اوراس کی کسی دوسری جماعت کے ساتھ رابطوں کی اب تک ایسی کوئی موصولہ مصدقہ اطلاعات بھی نہیں تاہم سیاسی امور کے ماہرین کے نزدیک تحریک انصاف محض جماعت اسلامی کے ساتھ حکومتی اتحاد پر اکتفا کرنے کی بجائے سیاست میں روٹھ جانے کی روایت کو مدنظررکھتے ہوئے کسی اور جماعت کو بھی ساتھ ملانے کی کوشش ضرور کرے گی کیونکہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف اس وقت حکومتی اتحادی تو ہیں لیکن ان کا ساتھ پارلیمانی مدت اختتام تک رہے گا اس بات کی بھی کوئی ضمانت نہیں ہے جبکہ سیاسی امور کے ماہرین کا یہ کہنا بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ محض ایک ہی جماعت کے اتحاد کے سہارے چلنے والی حکومت بلیک میلنگ کا شکارایک کمزور حکومت ہوتی ہے اور اس کا زیادہ تر وقت اتحادیوں کا خیال رکھنے اور روٹھ جانے پر ان کو منانے میں گزرتاہے کیونکہ حکومتی اتحادی بھی حکومت کی کمزوری کا خوب فائدہ اٹھاتی ہے جس طرح سابق حکومت میں پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم کے مابین دیکھنے کو ملاتھا۔۔دوسری جانب کرپشن کے الزامات کے نتیجے میں حکومت سے راستے الگ کرنے والی قومی وطن پارٹی مستقبل قریب میں نئی سیاسی اور اتحادی صف بندی کے ذریعے تحریک انصاف اوراس کے اتحادی جماعت اسلامی کومنہ توڑ جواب دینے کی کوشش کرے گی کہ نہیں یہ ابھی تک واضح نہیں اور فی الحال توپارٹی کے صوبائی صدر سکندرخان شیرپاؤنے اپوزیشن میں بیٹھ کر پختونوں کی خدمت کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم مستقبل قریب میں صورتحال کیا بنتی ہے یہ پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ جو کہ بیرون ملک دورے پر ہیں کی وطن واپسی کے بعد واضح ہوگا۔۔وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ مسلم لیگ نون خیبرپختونخوامیں تحریک انصاف کی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کسی کوشش کا حصہ نہیں بنے گی،نون لیگ کی پالیسی اس حوالے سے بڑی واضح ہے،آزادکشمیر میں بھی ایسی صورتحال سے فائدہ نہیں اٹھایا اور نون لیگ کے قائد نواز شریف واضح کرچکے ہیں کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے جس جماعت کو ووٹ دیا ہے اسے حکومت کرنے کا پورا حق حاصل ہے،نوازشریف تمام قومی ایشوز پر سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے کے خواہاں ہیں اور وسیع تر قومی مفاد میں ایسے کسی تنازعہ میں نہیں الجھیں گے جس سے ملکی مفاد متاثرہو۔۔کیا سینیٹر پرویز رشید نے یہ بیان قومی وطن پارٹی کو یہ پیغام دینے کے لئے دیا ہے کہ اس کا صوبائی حکومت کی تشکیل کے مرحلے میں پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کا فیصلہ عجلت میں تھا اور غلط بھی یا نون لیگ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تحریک انصاف کی ہمدردیاں لینے اور دینے کی کوشش ہے کہ وہ قومی ایشوز پر وفاق میں ان کے لئے مشکلات پیدا کرنے سے بازرہے۔۔یا یہ نون لیگ کی اس واضح پالیسی کی ایک کڑی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کو کسی طور چھیڑنا نہیں اور تحریک انصاف صوبائی حکمرانی کے ذریعے جتنا عوام میں ایکسپوز ہوگی ا تنا ہی اس کی سیاسی ساکھ متاثر ہوگی اور اس کا فائدہ نون لیگ کو حاصل ہوگا۔۔سینیٹرپرویز رشید کا یہ کہنا درست کہ نون لیگ نے آزاد کشمیر کی صورتحال سے فائدہ نہیں اٹھایا اگرچہ وہاں کسی مصلحت کے تحت نون لیگ اخری وقت میں ارادہ تبدیل کرکے بیک فوٹ پر ضرور چلی گئی تھی لیکن یہ کہنا اور ماننا کہ نون لیگ نے آزاد کشمیر کی صورتحال کا کا فائدہ اٹھانے کی سرے سے کوشش ہی نہیں کی تھی بجا نہیں ہوگاجبکہ آزاد کشمیر اور صوبہ خیبر پختونخوا کی صورتحال کو یکساں قرار دینا بھی مناسب بات نہیں ہوگی ۔۔جغرافیائی حدود کے حوالے سے یہ اٖفغانستان کی سرحد اور پاکستان کے قبائلی علاقہ جات سے ملااور جڑاہوا صوبہ ہے جہاں شدت پسندی ،ڈرون حملوں اور تحریک انصاف کی جانب سے نیٹوسپلائی بند کرانے کی دھمکیوں اور باقاعدہ اعلانات جیسے معاملات ہیں جن سے نمٹنا وفاقی حکومت کے ایک چیلنج ہے۔ایسے میں کیا واقعی نون لیگ تحریک انصاف کو حکمرانی کاحق دے گی یا بظاہر کہے گی کچھ اور درپردہ کرے گی کچھ والا معاملہ ہوگا۔۔بہرحال سیاسی امور کے ماہرین کا کہنا یہ ہے کہ وفاقی حکومت ابھی صورتحال کو دیکھ رہی ہے ،جائزہ لے رہی ہے اور انتظارکررہی ہے 20نومبر کا کہ نیٹو سپلائی لائن کی بندش کے معاملے پر پی ٹی آئی کا کردار کیا سامنے آتا ہے ۔اس پورے معاملے میں اور مستقبل قریب میں ممکنہ بدلتے سیاسی منظر میں جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کتنے متحرک رہتے ہیں یہ بھی دیکھنابڑا دلچسپ ہوگا ۔۔کیا جماعت اسلامی اورتحریک انصاف مخلوط حکومت کو اپنی منزل تک لے جانے میں کامیاب رہے گی یا ان ہاؤس تبدیلی کے تحت دونوں جماعتوں کی بھی چھٹی ہوجائے گی اور کوئی نیا سیاسی اتحاد حکومتی ایوان پر براجماں دکھائی دے گا۔البتہ ایک بات تو طے ہے کہ تحریک انصاف اور جے یو آئی کے بیچ صوبائی حکومت کی تشکیل سے لے کرماضی قریب تک شدید اختلافات رہے ہیں یہاں تک دونوں جماعتوں
کے قائدین نے ایک دوسرے پر یہودیوں کے ایجنٹس جیسے سنگین الزامات بھی عائد کئے تھے ایسے میں بظاہر دونوں جماعتوں کا ملاپ آساں دکھائی نہیں دیتا جبکہ یہ بھی کہ جے یو آئی ایسے کسی اتحاد کا بھی حصہ بننا پسند نہیں کرے گی جس میں جماعت اسلامی شامل ہو اور شائد ایسی سوچ جماعت اسلامی کی بھی ہوورنہ تو الیکشن سے قبل متحدہ مجلس عمل تشکیل دے چکا ہوتا۔۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ قومی وطن پارٹی اور تحریک انصاف کے مابین بھی فاصلہ اتنا بڑھ گیا ہے کہ دونوں جماعتوں کا دوبارہ آپس میں ملنا نا ممکن نظر آتا ہے اور اگر دونوں کے آپس میں ملنے کا مرحلہ آبھی جاتا ہے تو تحریک انصاف کے لئے آساں نہیں ہوگا قوم کو بتانا کہ قومی وطن پارٹی سے اتحاد ختم کیوں کیا اور اب دوبارہ کرکیوں رہے ہیں۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اب کے بارقومی وطن پارٹی جس کا کہنا اورماننا یہ ہے کہ ان کے وزراء کی برطرفی اور تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد کے خاتمے میں شرارت جماعت اسلامی کی ہے کبھی ایسے اتحاد کا حصہ نہیں بنے گی جس میں جماعت اسلامی بھی ہو ایسی صورت میں تو اگر ان ہاؤس تبدیلی کا مرحلہ آبھی جائے تو اس کے لئے جے یو آئی،مسلم لیگ نون،عوامی نیشنل پارٹی اورپیپلزپارٹی وغیرہ کے اتحاد کی ضرورت ہوگی جو کہ بظاہر آساں دکھائی نہیں دیتا۔۔بہرحال قومی وطن پارٹی کے سربراہ افتاب احمد شیرپاؤ کیا فیصلہ کرتے ہیں یہ دیکھنادلچسپ بھی ہوگا اور اہم بھی کیونکہ خیبرپختونخواکی سیاست میں ان کی اہمیت اور قد کاٹھ کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔اگرچہ قومی وطن پارٹی کے مخلوط حکومت سے نکلنے کاکوئی ناخوشگوار اثر تحریک انصاف کی حکومت پر پڑاہے نہ ہی وزیراعلیٰ پرویز خٹک پر لیکن عمران خان کی شخصیت متاثرضرورہوئی ہے اور مزید بھی ہوگی کیونکہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا اگر قومی وطن پارٹی کے وزراء پر کرپشن کے الزامات لگائے جارہے ہیں تو قومی وطن پارٹی کے وزراء بھی تحریک انصاف پر الزامات کی بوچھاڑکرتے دکھائی دے رہے ہیں اور ان کا براہ راست ٹارگٹ پارٹی کے چیئرمین عمران خان ہے۔ کہ ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے یہ سلسلہ ابھی جاری ہے اور کہاں جاکے رکتا ہے یا رکتا بھی ہے کہ نہیں ابھی کچھ کہا نہیں جاسکتا۔۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button