تازہ ترینعلاقائی

پی ٹی آئی کی قیادت کے حکم پر ضلع چنیوٹ میں بھی ہڑتال

چنیوٹ (بیورورپورٹ) پی ٹی آئی کی قیادت کے حکم پر ضلع چنیوٹ میں بھی ہڑتال اور پی ٹی آئی ، اتحاد بین المسلمین اور عوامی تحریک کے ہزاروں کارکن سڑکوں پر نکل آئے گزشتہ رات حکمران جماعت کی جانب سے ملنے والی ہدایات پر پنجاب پولیس نے آزادی مارچ اور انقلاب مارچ کے شرکاء اور مظاہرین پر شلینگ ، لاٹھی چارج اور صحافتی خدمات سرانجام دینے والے ہزاروں افراد پر تشدد کیا گیا جس پر پی ٹی آئی اور عوامی تحریک کی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا گیا جس پر ضلع چنیوٹ میں بھی پی ٹی آئی ، عوامی تحریک اور اتحاد بین المسلمین کے ہزاروں مردو خواتین کارکنان سڑکوں پر نکل آئے جنہوں نے بینرز اور کتبے اٹھارکھے تھے اور ہزاروں کارکنان یک زبان ہوکر نعرے لگا رہے تھے جن میں یہ کہا گیا گولی لاٹھی کی سرکار نا منظور نا منظور ،گو نواز گو اس موقع پر ضلع چنیوٹ کی قیادت سید اخلاق شاہ مجلس وحدت مسلمین ، میاں شوکت علی تھہیم ضلعی صدر پی ٹی آئی ، سید عنایت علی شاہ ،حسن علی قاضی کے علاوہ دیگر مقررین نے نے اسلام آباد میں ہونے والے پولیس کی جانب سے تشدد کے واقعات پر شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ میاں برادران جب تک مستعفی نہیں ہوجاتے جان دے دیں گے مگر دھرنے ختم نہیں کریں گے کیونکہ آئین اور قانون کی بات کرنے والے حکمران خود ہی آئین اور قانون کی دھجیاں اڑا رہے ہیں ملک و قوم کو دھوکہ میں نہیں رکھا جاسکتا سینے پر گولی کھائیں گے مگر پاکستان بچائیں گے مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ وہ انقلاب ہے جو عوام کیلئے ہے اس میں نا ہی تو مفادات کی جنگ ہے اور نہ ہی منافقت کی جمہوریت کا عنصر شامل ہے اس موقع پر پی ٹی آئی کے ضلعی رہنماؤں نے کہا کہ دھاندلی کو تسلیم کرنے والے اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حقیقی مجرم قانون کی بالادستی نہیں بلکہ قانون کے ساتھ گھناؤنا کھیل کھیل رہے ہیں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار نہتے مردو خواتین بچوں بوڑھوں کے ساتھ ساتھ صحافتی فرائض سرانجام دینے والے میڈیا نمائندگان اور کیمرہ مینز کو کو بھی تشدد کا نشانہ بنایاگیا جس پر حکمرانوں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا 

یہ بھی پڑھیں  خانیوال ،مشہور زمانہ بدنام اشتہاری کا ساتھیوں کے ہمراہ نواحی علاقہ میں حملہ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker